گستاخوں کا مواخذہ ضروری ہے

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ہر چیز کو استعمال کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، ایک اچھا اور ایک برا۔ سوشل میڈیا بھی اپنے اندر انہی دو متضاد حصوصیت کا امتزاج ہے۔ اسی سوشل میڈیا پر امت مسلمہ کے ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جو اپنے نبی پاک ص کی حرمت و عزت و ناموس پر آنچ آنا بھی برداشت نہیں کر سکتے اور اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ص کی ناموس کی حفاظت کے لیے 19 مارچ 2017 بروز اتوار کراچی پریس کلب پر احتجاج کر کے دنیا کو دکھانے والے ہیں کہ ابھی پیارے آقا ص پر جان وارنے والے نوجوان زندہ ہیں

یہ شرم کی بات ہے کہ مسلمانوں کے لیے حاصل کیا جانے والا ملک پاکستان ہی اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کر رہا ہے۔ پاکستان کے شہریوں کو ہی نبی آخر الزماں کی حرمت کے لیے احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔ جب کہ اسی ملک میں گستاخ نبی ص کی سزا پینل کوڈ 295c کے تحت موت ہے۔ مگر پھر بھی اس ملک میں ڈھرلے سے گستاخی کی جارہی ہے اور کوئی روکنے والا موجود نہیں۔ قانون کا عملی نفاذ یقینی بنانا حکومتِ وقت کا کام ہے مگر مملکتِ خداداد کہ جہاں مسلمان کو اپنی تعلیمات اور قوانین پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہونا تھا، اسی کا باسی غیر کی تعلیم پڑھ رہا ہے اور پرائے قانون پر اسلام کا مصالحہ چھڑک کر مزے سے عمل کر کے آسودہ سورہا ہے۔

اس ملک میں ہر قانون کو ختم کر کے بس ایک قانون پاس کرنا چاہیئے کہ جو بھی مسئلہ آئے اس کے ذریعے پر پابندی لگا دو۔ گستاخی سوشل میڈیا پر ہورہی ہے تو بہتر ہے اسی پر پابندی عائد کردی جائے، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، گویا طوفان میں آنکھیں بند کرلینے سے طوفان ختم ہوجاتا ہے۔ دنیائے اسلام میں اپنے آپ کو سب سے زیادہ طاقتور کہنے والا پاکستان گستاخِ رسول کو تختہ دار پر لٹکانے سے گریزاں ہے۔ کچھ ہی روز قبل کچھ بلاگرز کو اسی الزام میں اپنے پاس مہمان نوازی کے لیے بلوایا گیا تھا اور بہترین خاطر مدارت کے بعد اپنے گھروں کو روانہ کردیا گیا۔ پھر کیا تھا وہ سلسلہ جو کچھ روز ہی تھما تھا پھر اپنے جوبن پر پہنچ گیا۔ جس کا حل اب یہ نکلا ہے کہ جنگل اپنے قانون پر عمل کرنے سے قاصر ہے لہذا سوشل میڈیا کو پورے جنگل میں ہی بند کر کے پلکیں گرا لی جائیں اور دل و دماغ کو قفل لگا کر سلا دیا جائے۔ اور اگر کوئی پہلے سے اپنے نبی کی شان میں گستاخی کے خلاف کھڑا ہو تو اسے اپنے قانونی ہتھورے کے سامنے چند آنسو بہا کر اپنی پاک دامنی کا ثبوت دیا جائے۔

دوسری طرف وہ آزاد خیال لوگ بھی ہیں جو گستاخی کرنے کو تو آزادیِ اظہارِ رائے تصور کرتے ہیں مگر کسی آزاد خاتون کی تصویر پر کچھ سیاہی بھی برداشت نہیں کرتے۔ جن کی آزادی عورت سے شروع ہوتی ہے اور کئی معاملات سے ہوتے ہوئے عورت کو برہنہ کرنے پر ختم ہوتی ہے۔ جن کے لیے دین و مذہب کسی مذاق سے کم نہیں۔ جہاں چلغوزے کی باتیں ٹھیس پہنچاتی ہیں اور باعثِ تحقیر ہے مگر نبی کی شان میں گستاخی آزادی کا حصہ ہے۔ ایسے لوگوں کا وجود اس جنگل کے اسلامی ہونے پر سوالیہ نشان ہے جو اپنی عوام کو ورغلانے کے لیے خود کو اسلام کا قلعہ کہتا ہے۔ اور اس عوام کی عقل کو بھی داد دینی چاہیئے جو روز کے دکھائے جانے والے سراب میں آتی رہتی ہے۔

معاملہ گستاخی کرنے کا ہو یا گستاخ کو آزاد خیال تصور کرنے کا، دونوں کو ہی ایک اسلامی نظریاتی ریاست روک سکتی ہے۔ اورجو ریاست گستاخی کو اپنے ملک میں ہی نہ روک پائے اس کا خود کو اسلامی کہنا کسی مذاق سے کم نہیں اور اس سے بین الاقوامی سطح پر گستاخی رکوانے کی امید کرنا احمق کے خواب سے کم نہیں۔ عالمگیر سطح پر اس معاملے کو اسی وقت روکا جا سکتا ہے کہ جب اس مملکتِ خداداد کو اسلام کے نظریات پر کھڑا کیا جائے۔ یہ دنیا شاہد ہے کہ جب روئے زمین پر اسلام پر چلنے والی کوئی ریاست رہی ہے تو اپنے کمزور ترین دور میں بھی طاقتور ترین اقوام کو بھی گستاخی رسول ص کے معاملے پر دھمکی دے چکی ہے اور گستاخی روکنے پر مجبور کر چکی ہے۔ اب اسی دور کو دہرانے کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے