پارا چنار ایک بار پھر خون آلود

پارا چنار ایک بار پھر خون آلود

پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار 2017 سال کے ہر مہینے کے حساب سے ایک درجن بے گناہ لوگوں‌ کی قربانی دے رہا ہے. حالیہ مہینوں‌ کے دوران پارا چنار میں‌ یہ دوسرا بڑا دھماکہ ہوا ہے. ان دونوں دھماکوں میں‌ مجموعی طور پر پچاس سے زائد بے گناہ لوگ دہشت گردوں کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں.

دو ہزار سترہ کے گزشتہ تین مہینوں کے دوران پاکستان کے چاروں صوبوں اور قبائلی علاقوں میں‌ہونے والے دہشت گرد حملوں‌ میں تقریبا دو سو سے زائد افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ پانچ سو سے زائد افراد دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہو چکے ہیں.

نہ جانے کیوں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن در آپریشن کے باوجود آج بھی ایسی آنکھیں موجود ہیں جو انسانی خون کی سرخی کو دیکھنے کو ترستی ہیں.

کیوں ایسے کان موجود ہیں جو ماؤں، بہنوں اور بچوں کی چیخوں کے پرستار ہیں۔

کیوں ایسے بند دماغ موجود ہیں جن کے لیے ابھی تک لاشوں کی تعداد پوری نہیں ہو رہی۔

کیوں ایسے دل موجود ہیں جنہیں انسانی جان کے نہ تقدس کا احترام ہے اور نہ تحفظ کا پاس.

کیوں ایسے ہاتھ موجود ہیں جو انسانی خون سے رنگین ہونے کے عادی ہو چکے ہیں.

کیوں ایسے پیاسے موجود ہیں جو صرف انسانی خون سے ہی سیراب ہوتے ہیں.

کیوں ایسے درندے موجود ہیں جن کی بھوک کا سامان صرف لاشوں ہی کی صورت میں نظر آتا ہے۔

کیوں ایسے قرطاس و قلم کے امین موجود ہیں جنہیں ایک تبصرہ بھی لکھنے کے لیے صرف کچھ خاص شہر یا طبقے کی لاشیں قائل کرپاتی ہیں۔

کیوں ایسا ہے کہ ایک بے گناہ کے قتل کو انسانیت کے قتل قرار دینے والے، آئین و قانون کی بالادستی کا نعرہ بلند کرنے والے، انسانی حقوق، مذہبی آزادی، سماجی رواداری کے علم بردار بعض اوقات بہت حساس نظر آتے ہیں‌اور بعض اوقات گونگے اور بہرے ہوجاتے ہیں۔

کیوں آج ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا پر ان چیخ و پکار کی بازگشت سنائی نہیں دیتی.

کیوں ایسے حکم ران اور ریاست کی حفاظت کے دعوے دار موجود ہیں جن کی حکمرانی کی بقا یا تو کرپشن کی کھاد کی مرہون منت ہے یا انسان خون کا پانی.

کیوں ہماری آنکھیں ان تضادات کو دیکھنے کی عادی ہوگئی ہیں اور کان متصادم نعروں کو سننے کے؟


ہم کب
never_again
کا عملی نعرہ سن پائیں گے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے