‘انصاف نہ ملا تو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے آگ لگالوں گی’

مظفر آباد میں ریپ کا شکار ہونے والی خاتون نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا نہیں دی گئی تو وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ خود کشی کرلے گی۔

رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون نے کہا کہ ‘ہم انصاف چاہتے ہیں اور کچھ نہیں، انہیں (ملزمان کو) عبرت ناک سزا ملنی چاہیے’۔

اس موقع پر متاثرہ خاتون (جو کہ 4 ماہ کی حاملہ ہے) کے ہمراہ اس کا شوہر اور ماں بھی موجود تھے۔

خاتون کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو ہم خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر وزیراعظم ہاؤس کے سامنے خود کو آگ لگالیں گے’۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعے کو آزاد جموں و کشمیر کے ضلع جہلم ویلی میں مبینہ طور پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔

جہلم ویلی پولیس کو خودکشی کی کوشش کرنے والی حاملہ خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون کو گزشتہ ہفتے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

واقعہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے حلقے میں پیش آیا تھا۔

ایک بچے کی ماں 25 سالہ حاملہ خاتون نے کہا تھا کہ اسے مبینہ طور پر دوسرے قبیلے کے بااثر شخص نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔

ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ خاتون کے ایک رشتہ دار اور پولیس حکام نے بتایا تھا کہ مشتبہ شخص خاتون کو مشہور پہاڑی علاقے چِکار کے نواح میں ویران مقام پر لے گیا، جہاں اس نے خاتون سے زیادتی کی۔

کھیتر مراد آباد گاؤں کی رہائشی متاثرہ خاتون اپنے چار سالہ بیٹے کو گھر پر چھوڑ کر قریبی گاؤں کلڑی میں اپنی بڑی بہن سے ملنے گئی تھی۔

خاتون جب دوپہر میں لوٹنے لگی تو ایک شخص نے، جس کی اس نے راجہ نیئر کے نام سے شناخت کی، اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ اس کا راستہ روکا اور زبردستی اسے اپنی جیپ میں بٹھا کر لے گیا۔

اس دوران جب اس کی بہن اور بہنوئی نے مزاحمت کی تو ملزمان نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور دھکا دے کر فرار ہوگئے۔

متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ملزم راجہ نیئر نے اپنے ساتھیوں کو تھوڑے فاصلے پر چھوڑا اور جنگل کے ویران مقام پر لے جاکر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بعد ازاں ملزمان نے خاتون کو اس کے گھر کے قریب چھوڑا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے پولیس کو بتایا تو نتیجہ بہت برا ہوگا۔

خوف و ہراس کی وجہ سے متاثرہ خاتون اپنے شوہر کو واقعے سے آگاہ کرنے سے کترارہی تھی تاہم جب صبح اس نے واقعہ سنایا تو اس کے شوہر نے اسے سب کچھ بھول جانے کا مشورہ دیا کیوں کہ اس کے خیال میں وہ بااثر شخصیات کے خلاف کچھ بھی کرنے کی سکت نہیں رکھتا ہے۔

جنسی ہوس کا نشانہ بننے والی خاتون کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے زہر کھالیا، جس کے بعد اسے پہلے ہٹیاں بالا کے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال اور پھر مظفرآباد میں شیخ خلیفہ بن زید النہیان منتقل کیا گیا تھا۔

پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد مرکزی ملزم راجہ کو گرفتار کرلیا تھا جسے بدھ کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جنہوں نے ملزم کو ایک ہفتے کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

وادی جہلم کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض حیدر بختیار نے ڈان کو بتایا کہ اس معاملے کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور متعلقہ ایس ایچ اور مشترکہ تحقیقات کریں گے۔

یہ بات یاد رہے کہ ملزم راجہ نیئر کا تعلق اسی قبیلے سے ہے جس کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے