اقوام عالم کے لیے اسلام کا پیغام

علماءدیوبند نے اپنی دینی وسیاسی جدوجہد کا آغاز 1919 میں کیاتھا اور اس یقین کے ساتھ کیا تھا کہ اسلامی تہذیب وتمدن کی بقامروجہ سیاست کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سے قبل برصغیر میں جتنی تحریکات کا ذکر کیا جاتا ہے وہ سب کی سب کسی نہ کسی طرح عسکریت پسندی سے جڑی ہوئی تھیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ عسکریت پسندی کے فوائد اسی صورت سامنے آتے ہیں جب اسے ریاستی سرپرستی حاصل ہو۔خلافت عثمانیہ کےزوال کے بعد برصغیر میں موجود دیوبندی قیادت اس بات کو سمجھ گئی تھی کہ اب پر امن اور جمہوری جدوجہد ہی سے اپنی تحریکات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔پاکستان کی موجودہ جمعیت علماءاسلام اسی پر امن اور جمہوری جدوجہد کا تسلسل ہے۔مغرب نے طاقت کے استعمال، دوسرے ممالک میں نوآبادیاتی نظام کو مسلط کرنے اور جنگوں کے ذریعے دوسری اقوام کو مغلوب کرنے کا طریقہ 1945میں ترک کیا اور باہمی تعلقات کے لیے ادارے قائم کیے،دفاعی معاہدات ہوئے،تمام ملکوں کی خود مختاری اور انکی آزادی کو تسلیم کیا گیا،اقوام متحدہ کی سطح پر انسانی حقوق کا چارٹر متعارف کروایا گیالیکن یہ سب کچھ ہونا چاہیے اوریہ سب کرنے کے لیے دیوبندی اکابرنے پچیس سال پہلے جمعیت علماءہند کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کردیا تھا۔

جمعیت علماءاسلام نے ہر دور میں اپنے اس بنیادی مقصد کو سامنے رکھا ہے کبھی بھی اپنے آپ کو عسکریت پسندی یا شدت پسندی سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔گذشتہ روز مولانا فضل الرحمن نے یورپین سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماءاسلام کی اقوام عالم کے ساتھ تعلقات اور اس سلسلے میں اسلام کے اصل پیغام کو پیش کرنے کی کوشش کی۔”دین اسلام نے ہمیں جو تعلیمات دی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کی بنیاد انسانیت کی فلاح و بہبودہے جس کا تعلق کسی خاص قبیلے سے ہے نہ کسی خاص قومیت کے ساتھ، کسی خاص علاقے کے ساتھ ہے نہ کسی خاص زمانے کے ساتھ۔ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی بھلائی دین اسلام کے مدنظر ہے اور جمعیت علماءاسلام نے اسلام کے اس پروگرام کو فرقہ واریت،تعصب یانفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عالمگیر اور آفاقی تصور کے ساتھ تمام انسانیت کی بھلائی کے لئے پیش کیا ہے اور خود جمعیت علماءاسلام پاکستان میں اس پر کاربند رہی ہے“۔ مولانا فضل الرحمن کی گفتگو سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ اجتماع میں عالم اسلام کو درپیش باہمی تنازعات اور مسائل پر غور کیا جائے گا اور اس اجتماع میں شریک قائدین عالم اسلام کے علماءاور عامة المسلمین کے لیے ایسے رہنما اصول وضع کریں گے جن کی روشنی میں مسلمان ملکوں کے باہمی تنازعات امن اور بھائی چارے کی فضا میں گفتگو کے ذریعے طے پا جائیں۔

باہمی مسائل ،مسلمان حکمرانوں اور حکومتوں کے اعلیٰ کارپردازوں کی سوچ میں اختلاف کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ حکمران خواہ کتنے ہی خودمختار سمجھے جائیں مطلق العنان نہیں ہوتے بلکہ اپنے فیصلوں کے مقبولِ عوام ہونے کا خیال رکھتے ہیں یا فیصلوں پر پہنچنے سے پہلے ان کے مضمرات کو مقبولِ عوام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلامی معاشروں کا ہمیشہ یہ خاصہ رہا ہے کہ ان میں بہت سے تصورات مشترکات کے طور پر غیر متنازع ہیں۔ نیکی اور برائی کا تصور ، عدل و انصاف اور باہمی احترام کا تصور، عذاب و ثواب کا تصور، خاندان کی حرمت اور فرد کے شرف انسانی کا تصور ، اخوت و مساوات کی تعلیمات،دعوت و تبلیغ کی احتیاطیں ،اسراف اور معیشت کے بارے میں تصورات سمیت ایسے دیگر بہت سے تصورات اسلامی معاشروں میں کم و بیش ایک جیسے ہیں۔ اسی لیے مسلم قائدین یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے مگراس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آج عالم اسلام میں کیوں اختلافات پائے جاتے ہیں،جیساکہ خود مولانا فضل الرحمن بھی بار ہا یہ کہہ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے اتحاد کے لیے راہیں کھولنی چاہئیں تاکہ عالم اسلام ایک مضبوط طاقت کے طور پر سامنے آئے۔ مولانا یہ بھی کہتے رہے ہیں بلکہ اس موقف پر وہ تمام دیوبندیوں کو اپنا ہم نوا بھی بنا چکے ہیں کہ دہشت گردی کی اسلام میں اجازت نہیں اور مسلح جدوجہد غیر شرعی ہے ،ہمارا مقصد پرامن جدوجہدکرنا اورصرف دعوت دینا ہے۔مکتب دیوبند کے مجموعی موقف سے سرمو انحراف ممکن نہیں مگر اس بات پر غور کرنابہت ضروری ہے کہ دنیا اس موقف کو تسلیم کیوں نہیں کرتی۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ یورپین سفیروں کے سامنے مولانا فضل الرحمن نے جو موقف پیش کیا اسے یورپین ممالک میں تسلیم کیوں نہیں کیا جارہا۔

ہمارے خیال میں صد سالہ اجتما ع کا مقصد ایسے سوالات پر غور کرنا اور ان کا مستقل حل تلاش کرنا ہے کہ پوری دنیا میں اس بیانیہ کو فروغ دیا جائے جو حقیقی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہو۔دیوبندی طاقتوں کا یہ اجتماع اس بیانیے کے مبنی برحقیقت ہو نے کو واضح کرے گا اور ان تمام تصورات وتاویلات کی نفی کرے گا جو روایات پر مبنی بتائی جاتی ہیں مگر اسلام سے انکاکوئی تعلق نہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں موجود تمام دیوبندی طبقات اس بیانیے کو عام کرنے میں مولانا فضل الرحمن کے ہاتھ مضبوط کریں۔مکتب فکر دیوبند سے متعلق تمام جماعتیں،تمام قائدین، تما مدارس عربیہ اور تمام انجمنیں اس اجتماع میں شریک ہوکر یہ ثابت کردیں کہ وہ سب تحریک طالبان،لشکر جھنگوی،بوکوحرام ، داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے