ہارمونز کے عدم توازن کے مسائل اور ان کا حل

ہمارے جسم میں موجود ہارمونز ہمیں صحت مند یا کمزور بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیوں کہ یہ جسم میں ہونے والے بہت سے عوامل پر اثر انداز ہوتے ہیں، ہارمونز کا عدم توازن دراصل "”ایسٹروجن "” نامی ایک ہارمون کی وجہ سے ہوتا ہے، ”ایسٹروجن” مرد اور خواتین میں ایک انتہائی اہم ہارمون ہے جس کی کمی یا زیادتی سے ہمارے جسم میں موجود دیگر دوسرے ہارمونز کے توازن میں بھی بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

‘ایسٹروجن’ میں اضافے کی مختلف وجوہات ہوتیں ہیں آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

جب انسان سن بلوغت (جوانی) میں داخل ہوتا ہے تو اس کے جسم میں موجود ہارمونز میں مختلف تبدیلیاں پیدا ہوتیں ہیں، اکثر خواتین میں ایام خاص کے دنوں یا دوران حمل بھی ہارمونز میں تبدیلیاں پیدا ہو جاتیں ہیں، اسی طرح جب خواتین کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو جاتی ہے تو تب بھی ہارمونز کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، اس کے علاؤہ

ضرورت سے زیادہ یا کم ورزش کرنے

سٹریس یا ٹینشن لینے

نیند کی کمی

حمل سے بچاؤ کی ادویات کا زیادہ استعمال

ہارمونز کے عدم توازن کی چند اہم اور بڑی وجوہات میں سے ہیں ۔

اگرچہ ہارمونز کے عدم توازن کا شکار مرد اور خواتین دونوں ہوتے ہیں لیکن ان سے پیدا ہونے والے زیادہ تر مسائل کا سامنا خواتین ہی کو کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

[pullquote]خرابی ہارمونز سے پیدا ہونے والے مسائل کی علامات:[/pullquote]

جلدی غصٌے میں آ جانا

طبعیت میں چڑچڑا پن

بے خوابی کی حالت

بدلتے ہوئے موڈ

چہرے اور جسم کے اکثر حصوں پر بالوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

نقاہت، بغیر کچھ کیے ہی تھکاوٹ محسوس کرنا

وزن میں اضافہ

چہرے اور گردن پر پمپلز یعنی دانے ہونا اور ان کا داغ چھوڑ جانا

بالوں کا تیزی سے گرنا یا تیزی سے بڑھنا

مسلسل سر درد رہنا

جلد کا ضرورت سے زیادہ چکنا یا خشک ہو جانا

ایام مخصوصہ میں بے قاعدگی

وغیرہ ان کی علامات میں شامل ہیں۔

[pullquote]وجوہات[/pullquote]

ہارمونز کی خرابی کی چیدہ چیدہ وجوہات میں سے

ایک تو جگر کی کارکردگی

دوسرا حد سے زیادہ ٹینشن کا شکار ہونا

تیسرا خوراک میں توازن نا ہونا

اور چوتھا نیند میں بے اعتدالی

[pullquote]علاج اور احتیاطی تدابیر[/pullquote]

ہارمونز کو متوازن کرنے کے لئے سب سے پہلے احتیاط کرنی ہو گی، اپنی خوراک پر بھر پور توجہ دینی چاہیے کیوں کہ اگر اس کا علاج شروع کے مراحل میں کر لیا جائے تو پرشانی سے بچا جا سکتا ہے، جتنا ہو سکے ذہنی تناؤ اور ٹینشن سے خود کو دور رکھیں کیوں کہ ٹینشن سے نا صرف ہارمونز متائثر ہوتے ہیں بلکے جگر اور معدے کے امور بھی بری طرح خراب ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاؤہ بہت سی دوسری تدابیر ہیں جن پر عمل کرنے سے ہارمونز میں ہونے والی خرابی کو درست کیا جا سکتا ہے مثلاﹰ

قدرتی اشیا جیسے پھلوں اور سبزیوں پر تحقیق کے بعد پتہ چلا ہے کہ اگر ہارمونز کے عدم توازن سے بچنا ہے تو ہمیں قدرتی غذا لینی ہو گی اور جنک یا فاسٹ فوڈ اور اس کے ساتھ برائلر گوشت اور انڈے کھانے سے اجتناب کرنا ہو گا۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طویل سجدہ کرنے سے بھی ہارمونز متوازن رہتے ہیں۔

روزانہ دو سے اڑھائی لٹر پانی کا استعمال کریں اگر گرم پانی کا استعمال کریں تو سونے پر سہاگہ ہو گا۔

دو موسمی پھل اور سبزیاں کچی چبائیں، سلاد کا استعمال زیاده کریں۔

روزانہ ایک گلاس خالص دودھ چکنائی سے پاک کر کے لیں۔

ناشتے سے پہلے گرم پانی اور خشک میوہ جات استعمال کریں۔

سبز چائے کا استعمال کھانے کے بعد لازمی کریں۔

روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ واک کو اپنا معمول بنا لیں۔

مکمل نیند کو خود پر لاگو کریں، رات دیر تک جاگنے سے گریز کریں۔

کچھ لوگ اپنی نیند پر توجو نہیں دیتے لیکن ایسے لوگ شاید جانتے نہیں کہ نیند کا صحت سے بہت گہرا تعلق ہے اس کی بے قاعدگی سے نیند خراب ہو جاتی ہے پھر رات بے خوابی کی شکایت بڑھ جاتی ہے، رات اچانک آنکھ کا کھل جانا اور پھر دوبارہ سونے میں ناکامی سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی اور مشی کن یونیورسٹی کی مشترکہ طبی تحقیق جو کہ ایک کروڑ لوگوں پر کی گی ہے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں یا رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں ان میں دل کے امراض کا خطرہ 26 سے 29 فیصد تک زیادہ ہو جاتا ہے ان کے دل کی دھڑکن کی رفتار تبدیل ہو سکتی ہے اس سے نا صرف دل کی دھڑکن تھم جانے کا خطرہ ہے بلکہ فالج کا بھی اندیشہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ نیند میٹا بولزم اور جسم میں ہارمونز کے توازن کے حوالے سے بہت ضروری ہے کیونکہ یہ ہارمونز،ایسٹروجن، کولسٹرول، انسولین، بلڈ پریشر اور ورم وغیره پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں ۔

تحقیق کے مطابق نیند کے معمولات میں خرابی کے نتیجہ میں دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو کنڑول کرتا ہے اور یوں اعصابی نظام پر بھی گہرے اثرات چھوڑ جاتا ہے ۔

اس لئے خوش رہیں، پْر امید رہیں اور بہتر ہے کہ غصہ نہ کریں روزمرہ زندگی میں ہر ممکنہ تحمل مزاجی اور اعتدال کا راستہ اپنائیں، مسلسل بے اطمینانی اور غیر ضروری فکر سے بچیں، بلا وجہ غصہ اور ناشکری کی عادت کو ختم کریں تا کے آپ ایک نارمل اور صحتمند زندگی جی سکیں۔

نوٹ

یہ مضمون عام معلومات کے لئے ہے اس لئے اپنی صحت کے حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشاورت کریں شکریہ۔
رابعہ سید

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے