” یہ نظام ولد نامعلوم ہے”

رواں ماہ کے شروع میں آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے 28 کلو میٹر فاصلے پر واقع وادی چکار کے ایک گاوں کڑلی میں‌ ایک بااثر شخص راجہ نیئر نے شادی شدہ حاملہ خاتون کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا . متاثرہ خاتون نے پہلے اپنے شوہر سے بات کی لیکن شوہر نے اسے مشورہ دیا کہ ”چپ رہو ، ان طاقتور لوگوں سے ہم لڑ نہیں سکتے ”، تاہم متاثرہ خاتون نے جرات کا مظاہرہ کر کے انصاف کے لیے دہائی دی . شروع میں‌ پولیس نے کوئی توجہ نہ دی ، جب سماجی وقومی میڈیا پر یہ خبر وائرل ہوئی تو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا لیکن اس اندراج میں مجرم کو فائدہ پہنچانے کے لیے صرف زنا بالجبر کی دفعہ ڈالی گئی جبکہ اس خاتون کو اغواء بھی کیا گیا تھا . اب اس واقعے کو دو ہفتے گزر چکے ہیں اور یہ مالی وسماجی طور پر کمزور خاندان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے . الم ناک بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ریاست کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے آبائی حلقے میں‌ پیش آیا لیکن انہوں‌نے کئی دن تک کھلے طور اس واقعے کو نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھا . سوشل میڈیا پر مہم جاری رہی اور پھر یہ خبر آئی کی اس حاملہ خاتون کا چار ماہ کا حمل بھی ضائع ہوگیا ہے . اس وقت یہ خبر ریاست کی ہاٹ نیوز ہے لیکن خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جنسی زیادتی کا مجرم علاقے میں‌اپنے اثر رسوخ کو استعمال کر کے متاثرہ خاندان کو جبری صلح پر مجبور کر سکتا ہے ، اس حوالے سے مظفرآباد شہر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور لکھاری فیصل جمیل کاشمیری نے بدھ کے روز مظفرآباد پریس کلب کے سامنے واقع آزادی چوک میں‌کھڑے ہوکر ریاست کو ”فرسودہ نظام ” کو علامتی طور پر نذر آتش کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا . فیصل سے جب پوچھا گیا کہ وہ آزاد حکومت جموں و کشمیر کے نظام کو فرسودہ کیوں قرار دیتے ہیں‌تو انہوں‌نے نپے تلے الفاظ میں جواب دیا جس کی تفصیل ان سطور میں ہے (مدیر)

”میں نے کہا ہے کہ یہ نظام ایک مردہ لاش ہے جو بدبو اور تعفن پیدا کر رہا ہے۔ یہ نظام نہ مسلم ہے، نہ ہندو ہے اور نہ عیسائی ہے۔ یہ نظام نہ اسلامی ہے، نہ جمہوری ہے اور نہ سوشلسٹ ہے۔ یہ نظام ولد نامعلوم ہے اور میں ایسے نظام کو آج علامتی طور پر آگ لگا رہا ہوں”

‘صوفیہ بی بی (جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی خاتون )اس نظام سے جو توقع لگا بیٹھی ہے وہ غلط ہے۔ یہ نظام اس کو انصاف فراہم نہیں کرے گا کیونکہ وہ غریب ہے اور یہ نظام امیر کا طرف دار ہے۔ صوفیہ بی بی وہ پہلی عورت نہیں جو اس کا شکار ہوئی ہے اور نہ ہی وہ آخری عورت ہے۔ یہ ظلم ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا جب تک کہ ہم شہری لوگ اس نظام کے ہاتھ نہیں کاٹ دیتے ‘

میں آج اس نظام کو علامتی طور پر جلانے سے پہلے اس پر فرد جرم عائد کرتا ہوں

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس نظام میں منتخب وزیراعظم روزانہ اپنے ہی وزراء کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا ہے”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس کے تحت ہماری اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں ہے اور یہ اسمبلی ریاست کے آئین میں معمولی تبدیلی بھی نہیں کر سکتی۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس کے محکمہ مال اور انتظامیہ نے ۲۰۰۱-۲۰۰۲ء کا تمام لینڈ ریکارڈ خراب کر دیا ہے اور خسرے تبدیل کر دیے ہیں۔ رقبے تبدیل کر دئیے ہیں اور لوگوں کو مقدمات میں الجھا دیا ہے۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس میں لوگ تیس تیس برس سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں مگر ان کے مقدموں کے فیصلے نہیں ہو رہے۔ مدعی اور مدعیٰ علیہ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں مگر مقدمے ختم نہیں ہوتے۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ ترقیاتی ادارہ مظفرآباد نے لوگوں سے ہاؤسنگ سکیمز کے نام پر کروڑوں روپے اینٹھ لیے ہیں جن کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ پیسے کدھر گئے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس میں میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو ریٹائر ہونے کے بعد پینشن نہیں ملتی۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس میں آزادکشمیر یونیورسٹی کو دیہاڑی دار پروفیسرز بلا کر چلایا جارہا ہے۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس میں ہسپتال میڈیکل مرڈرز کرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ادویات بیچنے والی کمپنیاں سر عام رشوت دیتی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے بے لگام ہیں۔ ہر سکول کا اپنا سلیبس ہے اور سرکاری سکولز کی مانیٹرنگ کا بھی کوئی سسٹم نہیں۔”

”یہ نظام گھٹیا ہے کیونکہ اس میں دارالحکومت منشیات کا اڈہ بن گیا ہے اور منشیات دھڑلے سے مذہبی مقامات پر فروخت ہوتی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔

”میں ایسے نظام پر لعنت بھیجتا ہوں اور اس کو آج علامتی طور پر نذر آتش کرتا ہوں”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے