مشعال قتل کیس میں ‘مرکزی ملزم’ کی گرفتاری

مشعال خان قتل کیس میں پولیس نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے ایک ملازم کو گرفتار کرلیا جس کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ یہی ‘مرکزی ملزم’ ہے۔

پولیس حکام کے مطابق 23 سالہ طالب علم مشعال خان کے قتل کے الزام میں اتوار کے روز یونیورسٹی کے سیکیورٹی انچارج بلال بخش کو گرفتار کیا گیا جو کہ مشعال خان کے قتل کا مرکزی ملزم ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشعال خان قتل کیس میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔

گزشتہ روز ایک ملزم کو دیگر چار افراد کے ہمراہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں اس نے مشعال خان کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

اشرف علی نے فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ منیب الرحمٰن کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا تھا جس کے بعد بیانات قلمبند کرانے والے ملزمان کی تعداد تین ہوگئی ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے والے دیگر تین ملزمان کو چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔

[pullquote]مشعال خان سے متعلق نئی ویڈیو آگئی[/pullquote]

گستاخی کا الزام عائد کرکے طالب علم مشعال خان کو قتل کرنے والے ہجوم کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے جس میں ہجوم مشعال خان کو ڈھونڈ کر قتل کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دو منٹ دورانیے کے ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ اور واٹس ایپ گروپس پر گردش کررہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مشتعل نوجوانوں پر مشتمل ہجوم مشعال خان کو تلاش کرنے کا عزم کررہا ہے۔

ہجوم میں شامل افراد کو ‘اللہ و اکبر’ کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے۔

ویڈیو کے مطابق ایک نوجوان کہتا ہے کہ ایک ٹیچر نے مشعال خان کو چھپنے میں مدد فراہم کی ہے جس کے بعد لمبے بالوں والا ایک نوجوان جس کے کپڑے پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں اور اس کے ہاتھ میں رسی کا ٹکڑا ہے وہ ہجوم سے کہتا ہے کہ اگر وہ مسجد میں بھی ملے تو اسے قتل کردیا جائے۔

ہجوم میں شامل ایک اور نوجوان کہتا ہے کہ مشعال خان ‘مرتد’ ہے اور اس نے ‘گستاخی’ کی ہے۔

لمبے بالوں والا نوجوان مشعال خان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ انہیں اب اس کی کوئی پرواہ نہیں کیوں کہ اس نے مذہب کی تضحیک کی۔

ہجوم سڑکیں بلاک کرنے کا بھی تذکرہ کررہا ہے جبکہ ویڈیو کے آخر میں ایک شخص دوسروں سے کہتا ہے کہ ویڈیو بنانا بند کریں۔

رواں ماہ 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں گستاخی کے الزام میں شعبہ ابلاغ عامہ کے 23 سالہ طالب علم مشعال خان کو تشدد کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کردیا گیا تھا جبکہ ہاسٹلز بھی خالی کروا لیے گئے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے