ٹی ٹی پی اسرائیل سے مدد لینے کیلئے تیار تھی: احسان اللہ احسان

پاک فوج نے تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کردیا.

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2008میں تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کی۔

احسان اللہ احسان نے ویڈیو میں اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف اسرائیل سے مدد لینے کے لیے تیار تھی۔

ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اسلام کا نعرہ لگاتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔

ویڈیو بیان میں ان کا مزید کہنا تھاکہ طالبان نے خاص طور پر نوجوان طبقے کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ ملایا۔

ٹی ٹی پی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان تنظیموں کے اندر رہ کر بہت کچھ دیکھا یہ لوگوں کو اسلام کے نام پر ورغلا کر بھرتی کرتے ہیں، جبکہ یہ خود اس تعریف پر پورا نہیں اترتے ۔

ٹی ٹی پی کی قیادت کے بارے میں انہوں نےبتایا کہ چند لوگ امرا بنے ہوئے ہیں، معصوم مسلمانوں سے بھتہ لیتے ہیں ان کا قتل عام کرتے ہیں،عوامی مقامات، اسکولوں اور کالجوں پر حملہ کرتے ہیں۔

احسان اللہ احسان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں میں قیادت کی جستجو تھی اورحکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تو قیادت کی دوڑ میں مزید تیزی آگئی جس کے بعد انتخابات کی طرز پر ایک مہم چلائی گئی، اس مہم میں مولوی فضل اللہ، خالد سنجنا اور عمر خالد خراسانی شامل تھے۔

احسان اللہ احسان کے مطابق ہر کوئی ٹی ٹی پی کا اقتدار حاصل کرنا چاہتا تھاجس کے بعد شوریٰ نے قرعہ اندازی کرانےکا فیصلہ کیاجس کے نتیجے میں مولوی فضل اللہ چیف منتخب ہوئے۔

سابق ترجمان ٹی ٹی پی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنظیم سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں جن کا امیرقرعہ اندازی سے منتخب ہوا ہو اور اپنے ہی استاد کی بیٹی سے زبردستی شادی کر کے اپنے ساتھ لے گیا ہو، ایسے لوگ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں نہ ہیں کر سکتے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوا تو ہم سب افغانستان چلے گئے۔

احسان اللہ احسان نے ٹی ٹی پی ملنے والی بھارتی معاونت کا بھی اعتراف کیا، ان کا کہنا تھا کہ جب ہم افغانستان پہنچے تومیں نے وہاں دیکھا کہ ٹی ٹی پی کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ تعلقات بڑھنے لگے ہیں اور را نے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں مالی معاونت فراہم کی اور ٹی ٹی پی کو اہداف دیئے اور پاکستان میں کی جانے والی ہر کاروائی کی قیمت بھی ادا کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ٹی ٹی پی نے بھارت سے مدد لینی شروع کی تو میں نے عمر خالد خراسانی کو کہا کہ یہ تو ہم کفار کی مدد کر رہے ہیں، اس سے ہم اپنے لوگوں کو مروائیں گے جو کہ کفار کی خدمت ہوگی، جواب میں خالد عمر خراسانی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں تخریب کاری کرنے کے لیے مجھے اسرائیل سے بھی مدد لینی پڑی تو میں لوں گا۔

افغنستان میں موجود ان تنظیموں نے افغانستان میں کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو بھارتی تنظیم را سے روابط رکھتے ہیں، بھارت نے ان لوگوں کو تذکرہ دیا تھا، یہ تذکرہ افغانستان کی قومی شناختی کارڈ کے طرح استعمال ہوتے ہیں، اگر یہ تذکرہ ان کے پاس نہ ہو تو انہیں افغانستان میں نقل و حمل نہیں کر سکتے تھے، ان لوگوں کی تمام تر نقل و حمل کا علم افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کو بھی ہوا کرتا تھا اور این ڈی ایس ہی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرتے تھے۔

یاد رہے کہ 17 اپریل کو پاک فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان اور جماعت الاحرار کے موجودہ لیڈر احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے جو کہ گزشتہ 15 سالوں کی قربانی کے بعد بڑی کامیابی ہے۔

یاد رہے کہ 2014 میں کالعدم تحریک طالبان میں انتشار کے بعد احسان اللہ احسان جماعت الاحرار کے ترجمان بن گئے تھے جو کہ اس وقت ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہونے والا چھوٹا گروپ تھا۔

اس وقت احسان اللہ احسان کا یہ دعویٰ تھا کہ 70 سے 80 فیصد ٹی ٹی پی کمانڈرز اور جنگجو جماعت الاحرار میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔

رواں برس فروری میں لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے خود کش دھماکے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے قبول کی تھی جس میں 13 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے