ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ متعدد شک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ متعدد شک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔

ایک بیان پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ معاون خصوصی طارق فاطمی اور پی آئی او راﺅ تحسین کو برطرف کرنا اور اے پی این ایس کو یہ مشورہ دینا کہ وہ ایک اخبار کے ایڈیٹر اور رپورٹر کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئی ایس پی آر کی جانب سے ڈان لیکس کی رپورٹ پر اقدام کو نامکمل اور تحقیقاتی بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہ ہونے کے بارے میں کھلے عام بیان دینا ایسی باتیں ہیں جن کے لئے اب ضروری ہوگیا ہے کہ اس رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ طارق فاطمی کی برطرفی کے متعلق ان کے ریمارکس بھی بہت الجھا دینے والے ہیں کیونکہ مبینہ طور پر انہوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں برطرف نہیں کیا گیا۔

وزیرداخلہ کا کراچی میں ہفتہ کے روز بیان کہ ان کی وزارت نے اب تک ڈان لیکس کے بارے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جبکہ وزیراعظم آفس نے ایک آرڈر جاری کیا تھا ۔

ان تمام باتوں سے بہت سارے ایسے سوالات اٹھتے ہیں جن کے جوابات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ٹویٹ کے ذریعے ایک بیان دیا گیا جس میں وزیراعظم آفس کے حکم کو قطعی طور پر مسترد کر دیا گیا جس سے مزید سوالات پیدا ہوگئے ہیں اور یہ سوالات ختم نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کو اس طرح سے دبا دینا حکومت کی نااہلیت کا ثبوت ہے اور حکومت کی جانب سے ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کو خفیہ رکھنا معاملے کو اور بھی الجھا دیتا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ وزیرداخلہ نے بیان دیا تھا کہ وقت آنے پر رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ابتدا میں حکومت نے اس رپورٹ کی وضاحت کرتے ہوئے اسے کبھی بے بنیاد اور من گھڑت کہا اور کبھی پلانٹڈ کہا۔ حکومت نے اس وقت رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ یہ رپورٹ قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ خطرہ کیسے ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اے پی این ایس کو ایڈیٹر اور رپورٹر کے خلاف کارروائی کرنے کا کہنا آزادی اظہار کو دبانا ہے اور یہ کام قومی سلامتی کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ ایشوز ہیں جن کی وجہ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور مناسب رہنمائی کے لئے پارلیمنٹ میں اس پر جامع بحث ہونی چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے