وزیراعظم آزادکشمیر کی یکجہتی کال اورسانجھے دُکھ

نوے کی دہائی کے وسط اور اخیر میں ہم سکول میں ہوا کرتے تھے ، اور سکول میں فنکشن کسی بھی نوعیت کا ہو ، اس میں ایک آدھ ترانہ ، ٹیبلو ، یا کچھ اور آئٹم کشمیر پر کرنا فرض سمجھتے تھے ، ’میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ‘ یا پھر ’ظلم رہے اور امن بھی ہو ‘ یا میدان میں ترشول اگر بول رہے ہیں ‘ کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا تھا ، جس سے یہ اندازہ ہوا کہ ہم اصلا کشمیری ہیں اور اپنے جسم کا ایک حصہ جو منحوس خونی لکیر کے اس پار ہے ، اس کو ہم نہ خوشی کے وقت بھولتے ہیں نہ غم کے وقت ۔

گھروں میں ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا ، جس پر رات کا خبرنامہ سبھی سنتے تھے ، اور کشمیر سے کوئی خبر پی ٹی وی کی خبروں کا لازمی جزو ہوتا تھا ، ، جس کو غلام نبی خیال نام کے ایک صحافی رپورٹ کیا کرتے تھے ۔ ریڈیو پاکستان اور ریڈیو آزاد کشمیر سے بھی کشمیر کے لئے بلاناغہ پروگرام نشر ہوتے تھے ۔ اس وقت کسی کا موقف سمجھ آتا تھا نہ مسئلہ کشمیر کی پیچیدگیوں کا علم تھا ، لیکن یہ علم ضرور تھا کہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ، اور بڑے ہو کر کشمیر کے لئے لڑنا ضرور ہے چاہے وہ کسی شکل میں ہو ۔

مقبوضہ کشمیر سے جو لوگ جہاد کی غرض سے آتے تھے ، ان کی اتنی عزت تھی جتنی کسی بہت معزز اور اعلیٰ مہمان کی ہوتی ہے ، ایسے میں ایک بڑا بے معنی سا جملہ مظفرآباد کی کسی عورت کا مشہور ہو گیا ، جس کے معانی اب سمجھ آتے ہیں تو اس جملے پر بے انتہا پیار آتا ہے ، کشمیری مجاہدین کے ساتھ کسی کی لڑائی ہوئی تھی جس کے بعد ایک عورت نے نعرہ لگایا تھا ’کشمیریو مجاہدو! ہم تمہارے ساتھ ہیں ، تم بے شک ہمارے پانڈے پنو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘ (تم بے شک ہمارے برتن توڑو ہم تہمارے ساتھ ہیں )

پھر کشمیر کی تحریک نے رخ بدلا ، میڈیا کے ادارے بڑھ گئے ، ریڈیو کے ایف ایم چینل ، پرائیویٹ ٹی وی چینل ، میڈیا جو عوامی رائے سازی میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے ، اس کی ترجیحات بدلیں ، تو لوگوں میں بھی آہستہ آہستہ کشمیر کے حوالے سے جوش و خروش میں کمی آنے لگی۔ لیکن آج بھی آزاد کشمیر کے سکولوں کے فنکشنز میں جائیں تو ایک آئٹم کشمیر کے لئے مختص ضرور ہوتا ہے ۔ ایک عرصے سے محسوس کیا جا رہا تھاکہ عوام اب سو رہے ہیں اور ان کو جگانے کے لئے کسی انقلاب کی ضرورت ہے ، اور وہ انقلاب برہان وانی کی شہادت کے ساتھ ہی آگیا ۔

وادی کشمیر میں برہان وانی کی شہادت نے جیسے پٹرول کو ماچس کی تیلی دکھا دی ، پوری وادی ایک دم بھڑک اٹھی ، اور لگاتار شہادتوں کا سلسلہ ، کاروبار زندگی ٹھپ ، زخمی اور احتجاج ، ۱۳ جولائی 1931 ء کے واقعے کو پڑھ کر اکثر خیال آتا تھا ، کہ کیسے ایک اذان کو مکمل کرنے کے لئے 22 لوگ قربان ہوئے ہوں گے ، گذشتہ برس سلسلہ وار شہادتوں کے باوجود عوام کا ردعمل اور احتجاج دیکھ کر سمجھ آگئی کہ یہ قوم کچھ بھی کر سکتی ہے ۔

اس پورے منظر میں صرف ایک چیز کی کمی تھی ، وہ بیس کیمپ کی طرف سے مکمل یکجہتی کا اظہار تھا ۔کچھ انفرادی آوازیں اٹھیں ، لیکن حکومتی سطح پر جو ہوتا ہے وہ وزن رکھتا ہے ۔

راولاکوٹ میں ایک بڑی ریلی سول سوسائٹی کے کچھ لوگوں نے کروائی۔ ا س کے بعد مظفرآباد میں ایک نجی سکول سویرا ماڈل سکول کے بچوں کی احتجاجی ریلی کی گونج دور دور تک گئی ، جس میں ننھے بچوں نے اپنے مقبوضہ وادی کے ہم وطنوں کے لئے پیغام بھجوائے ان کا ایک نغمہ ’ہمیں زندہ رہنے دو ‘ کافی مقبول ہوا۔ ۔ انفرادی احتجاج کی اس طرح کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں ۔حکومتی سطح پر کچھ کانفرنسز اور سیمینارز بھی ہوئے ، لیکن ان کا اثر عوام پر کم ہوتا ہے ، وہ صرف اکیڈیمیا کی پڑھی لکھی باتیں ، اپنی کہانی خود کو سنا کر گھر کو چلے ، ہی عموما ہوتا ہے ۔

بیس کیمپ کی اس خاموشی پر اسی طرح انفرادی آوازوں نے حکومت کی مذمت بھی کی ، اور پھر اس بار اپریل میں کشمیر میں ضمنی الیکشن کے بعد اٹھنے والی تشدد کی لہر پر بیس کیمپ کے عوام اور حکومتی حلقوں میں ایک بار پھر بے چینی کی ایک لہر پھیل گئی ، خوش قسمتی سے وزیر اعظم کی مسئلہ کشمیر سے دلچسپی ان کے معاصروں کی نسبت زیادہ ہے ، اس لئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ۳ مئی کو ملک گیر احتجاجی ریلیوں کے انعقاد کی کال دی ہے ۔ جس میں سکول کے بچوں سے لے کر کالج یونیورسٹی کے طلبا ، سرکاری اداروں کے ملازمین ، تاجر وغیرہ سب بلا امتیاز شامل ہوں گے ۔

ایک ریلی کی قیادت وزیر اعظم خود کریں گے جو اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے دفتر تک جائے گی ۔ امید یہ کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم کی کال پر پوری ریاست بہ یک آواز اپنے مقبوضہ وادی کے ہم وطنوں کو یکجہتی کا پیغام دے گی ، کم از کم ہم یہ کہنے کے قبل ہوں گے ، کہ ہم اور کچھ نہیں بھی رک سکے تو آپ کا درد اسی طرح محسوس کیا ہے جس طرح آپ نے سہا ہے ، اور ہم غافل تھوڑی دیر کو ہوئے تھے ، لیکن آپ کو بھولے نہیں ، آپ آج بھی ہمارا حصہ ہیں اور ہمارے سینے میں دل کی طرح دھڑکتے ہیں ، اور یہ کوئی آخری بار نہیں ہے ،

آج تو یہ فقط احتجاج کی ایک کال ہے ، ہم ان شا اللہ دامے درمے قدمے سخنے ، آپ کے ساتھ ہیں ، اور رہیں گے ، اس وقت تک جب تک ہماری مشترکہ منزل آزادی ہمارا مقدر نہیں بنتی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے