مزدور طبقہ اور ہمارےحکمرانوں کا رویہ

معاشرے کی ترقی اور مزدور طبقے کی محنتوں میں ایک اٹوٹ رشتہ قائم ہے، یہ وہ طبقہ ہے جو اپنا خون پسینہ ایک کرکے کام کرتا ہے، مزدور لوگ اپنے کام میں نہ سردی کو مانع سمجهتے ہیں اور نہ ہی گرمی کو، بلکہ ان کی ہمیشہ یہ آرزو رہتی ہے کہ کسی طرح سے جفاکشی کے لئے انہیں کام میسر آئے- ان میں سے اکثر کا تعلق غریب طبقے سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے مزدوری کا سہارا لیتے ہیں- ان کے پاس زندگی کی گزر بسرکے لئے محنت و مزدوری کے علاوہ کوئی ذریعہ معاش نہیں ہوتا، جو مزدوری ان کو ملتی ہے اسی سے وہ اپنے اور اپنے بچوں کو شاہراہ زندگی پر گامزن رکهنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں، ضروریات زندگی اسی سے پوری کرتے ہیں۔ جیسے بچوں کی تعلیم کا خرچہ، شادی بیاہ ، اشیائے خورو نوش اور لباس کا پیسہ سمیت بجلی، گیس اور پانی کا بل وغیرہ بھی وہ اسی سے ادا کرتے ہیں۔

مگر افسوس صد افسوس!اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی ہوئی مملکت میں غریب مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں- گلگت بلتستان سے لے کر خیبر پختون خواہ تک۔ پنجاب سے لیکر سندھ اور بلوچستان تک مزدور طبقہ ظلم وستم کی چکی میں پس رہا ہے- اس طبقے کی جانب ہمارے حکمرانوں کی توجہ ہی نہیں۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ وہ ہر سال پاکستان میں یکم مئی کو یوم مزدور کے نام سے حکومتی سطح پر تقاریب اور جلسے وغیرہ منعقد کراتے ہیں- حکمران حضرات بڑی شان و شوکت سے حفاظتی حصار میں ان جلسوں میں تشریف لاتے ہیں- شعلہ بیان تقریریں کرتے ہیں‛ 1886ء کو شکاگو میں شهید ہونے والے مزدوروں کو یاد کرتے ہیں‛ انہیں شهید کرنے والوں کی بهرپور مذمت کرتے ہیں‛ ان کے نام پہ مٹهائیاں تقسیم کرتے ہیں‛ بڑے بڑوں کو پورے اہتمام کے ساتھ اعلی قسم کے کهانے بهی کهلاتے ہیں، یوں ان شهدا کو بڑی عقیدت اور احترام سے خراج تحسین پیش کرکے جلسہ برخاست کرتے ہیں- پھر یہ پروگرام آئندہ سال تک کے لیے ملتوی ہوجاتا ہے اور بس۔

جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان جلسوں میں مزدوروں کی اہمیت اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی جاتی۔اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق’ انسان کا رتبہ و مقام اور عزت نفس کی اہمیت پر روشنی ڈالی جاتی، مزدور غریب طبقوں کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کے لئے پالیسی مرتب کرکے ان تقاریب میں اعلان کیا جاتا، مزدوروں کے حقوق پامال کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کے لئے سزا کا ٹهوس قانون وضع کرکے مجمع عام میں اس کے تذکرے کیے جاتے، مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ضروریات زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لئے حکومتی سطح پر قرض الحسنہ دینے کا اعلان کیا جاتا، مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ وہ جفاکش اور محنت کش افراد کی دل کهول کر ملا عام میں تشویق کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرتے- مگر ہمارے حکمران ان پہلوؤں پر سوچنے تک کی زحمت گوارا نہیں کرتے-

ایسی مثبت جہتوں پر غور کرنے کے لئے درد دل رکھنے والے، زحمت کشوں کی اہمیت کا احساس رکھنے والے حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا- ہمارے حکمرانوں کو صرف اپنے اور اپنے خاندان کو ثروتمند بنانے اور ان کے مستقبل کی فکر لاحق ہے، مزدور اور غریب طبقوں کے حقوق ہڑپ کرکے وہ خود امیر سے امیرتر بننے کی خواہش کی تکمیل میں محو عمل ہیں- وہ مزدوروں کو اپنے ملک کی خدمت کرنے والے غلام اور نوکر سمجهتے ہیں- نہ وہ احترام آدمیت کا کوئی خیال رکهتے ہیں اور نہ ہی وہ حقوق انسانی کی رعایت کرتے ہیں -مزدوروں کی عزت نفس اور کرامت انسانی کی حفاظت کا تو ان کے ہاں تصور تک موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مزدور طبقے سے یکسر طور پر غافل ہیں – ان مزدوروں پر ظلم کرنے والوں‛ ان کے حقوق کو غصب کرنے والوں اور ان سے کام لے کر مزدوری دینے سے انکار کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزا دینے کا کوئی ٹهوس انتظام موجود نہیں ہے، جبکہ یہ اسلام کا واضح حکم ہے کہ مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردیا جانا چاہیے اور اسلام یہ بهی کہتا ہے کہ پہلے مزدور کی اجرت معین کرو پهر اس سے کام لو۔ اسلام میں مزدور کی توان اور قدرت سے ذیادہ کام لینا جائز ہے اور نہ ہی اس کی مجبوری اور ضرورتمندی سے ناجائز فائدہ اٹھانا درست ہے۔

دین مقدس اسلام میں مزدور کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آنے کا حکم ہے، اس کی عزت نفس اور کرامت آدمیت کو مجروح کرنے سے روکا گیا ہے، اسے دهوکہ‛ فریب اور نقصان وضرر پہنچانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اسے غلام اور نوکر سمجهنے کی بهرپور مذمت کی گئی ہے- کسب حلال کرنے والے محنت کش اور زحمت کش لوگ حبیب خدا ہیں- وہ بڑی تکریم کے مالک ہیں- اسلام کی نظر میں ان کا مقام بہت بلند و بالا ہے- ہمارے دین میں کام اور محنت کرنے کو انسان کا جوہر قرار دیاگیا ہے- محنت کرنے اور مشقت برداشت کرنے سے جی چرا کر سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرنے والوں پر لعن ونفرین کیا گیا ہے- تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی بڑی علمی شخصیات محنت مزدوری کرنے کو ہرگز عیب نہیں سمجهتی تهیں, وہ کام کرنے کو انسان کی زینت سمجھتے تھے۔

اس سلسلے میں فدا حسین بالہامی کشمیری صاحب کی ایک بہترین تحریر پڑهنے کو ملی جس میں انہوں نے لکها ہے کہ "افلاطون کے متعلق کہا جاتا ہے کہ مصر میں سیاحت کے سفر کا خرچہ وہاں تیل بیچ کر پورا کرتا تھا۔ مشہور ماہر نباتات ”لینہ” جوتے سیتا تھا۔ شیکسپئرتھیٹر کے باہر ٹکٹیں بیچا کرتا تھا۔ بیشتر پیغمبروں نے کوئی نہ کوئی ایسا کام اپنا لیا تھا جسے ہم آج حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ رسولِ اکرمۖ کو محنت کشوں کے ساتھ کافی محبت تھی ۔ چنانچہ کسی مزدور کے کھردرے ہاتھ دیکھ لیتے تو فوراً اسے چوم لیا کرتے تھے۔ آپ (ص) نے ایک کاریگر کو دیکھا کہ جس کا ہاتھ سوجھ گیا تھا۔ آپ ۖنے اس کے ہاتھ کو بلند کیا اور فرمایا : ”دوزخ کی آگ کبھی بھی اس ہاتھ کو نہیں جلائے گی۔ اس ہاتھ کو خدا اور اس کا رسولۖ پسند کرتے ہیں۔ جو بھی شخص محنت کرکے اپنی زندگی گزارے گا، خدا کی اس پر نظر رحمت ہوگی ”۔آنحضرت ۖ کاہلی اور بے کاری سے کافی متنفر تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ خدایا سستی، کاہلی، بے کاری‛ عاجزی اور بد حالی سے تیری پناہ چاہتا ہوں (الجامع الصغیر ج ١ ص ٧٥ بحوالہ انسان اور کائنات شہید مطہری)امام خمینی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایک بار ان کے گھر میں انگیٹھی خراب ہوگئی. ایک ماہر کاریگر کو بلایا گیا۔ اتفاق سے یہ کاریگر انقلاب کا مخالف تھا اور امام خمینی کی نسبت اس کا دل کینہ وحسد سے بھرا ہوا تھا۔ چنانچہ اس کاریگر نے سوچا کہ وہ آج اسی بہانے اپنے دل کی بھڑاس نکال لے گا۔چنانچہ وہ اپنے کام میں مصروف تھا کہ اتنے میں امام خمینی بھی اس کے سامنے پہنچ کر کہنے لگے کہ کام کرتے کرتے تمہارے ہاتھ سیاہ ہو گئے ہیں۔ کاریگر نے بہت ہی ترش لہجے میں کہا کہ کام کرنے سے ہی تو ہاتھ کالے ہوتے ہیں۔ آپ جیسے بے کار لوگوں کے ہاتھ کیسے سیاہ ہو سکتے ہیں۔ امام خمینی نے سخت رد عمل دکھانے کے بجائے ایسا کام کیا کہ وہ کاریگر اپنے اس غیر اخلاقی عمل پر پشیمان ہو کر زار و قطار رونے لگا۔

چنانچہ امام خمینی نے اس کاریگر کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر کہا کہ ہنرمند کے ہاتھ رسول اللہ ۖ کو بھی بہت پسند تھا اور مجھے بھی ان ہاتھوں سے محبت ہے۔ چنانچہ رسول ِ اسلامۖ کا ارشاد گرامی ہے ”ان اللہ یحب المومن المحترف; یعنی اللہ تعالی اس مومن کو دوست رکھتا ہے جو صاحبِ فن و حرفت ہو۔”محنت و مشقت کو اسلام میں جہاد کا درجہ حاصل ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ” الکاد لعیالہ مجاہد فی سبیل اللہ”جو شخص اپنے اہل و عیال کی خاطر محنت و مشقت کرتا ہے وہ راہِ خدا میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مانند ہے” پتہ نہیں ہمارے حکمران کب بیدار ہوں گے۔ انہیں یہ حقیقت کب سمجھ آئے گی کہ مزدور طبقے ہی ملک کی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکهتے ہیں۔ خدا کرے وہ جلد اس حقیقت کی جانب متوجہ ہوجائیں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ٹهوس قانون وضع کرکے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ کیونکہ اسی میں ہی ہم پاکستانیوں اور مملکت خداداد پاکستان کی ترقی وسربلندی کا راز مضمر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے