چکن گونیا کیا ہے؟

کراچی شہر دسمبر سے ایک وبال کی لپییٹ میں ہے۔جس نے کراچی کے شہریوں کو آٹھ آٹھ آنسو رونے پر مجبور کردیا ہے۔چکن گونیا نامی اس وبال نے ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو ایک دردناک عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

کیونکہ اس بیماری کی اب تک کوئی ویکسین اور فوراًاثر کرنے والی دوا دریافت نہیں ہو سکی ہے۔مزید یہ کہ اگر گھر کا ایک شخص اس بخار میں مبتلا ہو تو اس کا وائرس پورے گھر کے افراد کو بستر تک پہنچائے بغیر رخصت نہیں ہوتا۔

اس وائرس کاحملہ مریض کے جوڑوں پر اتنا شدید ہوتا ہے کہ مریض وقتی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے ۔بستر سے اٹھنے اور بیت الخلا تک جانے کے لئے بھی دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے۔تیز بخا ر کے ساتھ درد کی شدت مریض کی چیخیں نکال دیتی ہے۔

حتیٰ کہ بخار اترنے کے بعد بھی جوڑوں کی تکلیف برقرار رہتی ہے۔دسمبر میں اس بخار میں مبتلا ہوکر صحت یاب ہونے والے شہری اب تک درد کی دہائی دیتے نظر آرہے ہیں۔

ملیر سے شروع ہونے والی اس عجیب و غریب بیماری نے اب شہر کے دوسرے حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے اور اس کا دائرہ کارپھیلتا چلا جا رہا ہے ۔اس وقت نارتھ ناظم آباد کے شہریوں کی بہت بڑی تعداد اس وائرس کے شکنجوں میں جکڑی ہوئی ہے۔

وائرس سے متاثرہ گھرانوں کی صورت حال نہایت دگرگوں ہے کیونکہ وائرس بیک وقت ایک سے زیادہ افراد پر حملہ کر کے انہیں بستر تک محدود کر دیتا ہے۔ کئی مریض بخار اور جوڑوں کے درد کے علاوہ الٹیوں کی تکلیف میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں اور اسپتال داخل ہونے کی نوبت آ جاتی ہے۔

بخار اور جوڑوں کے درد کے علاوہ مریض کے جسم پر سوجن اور خارش کے ساتھ سرخ دھاپڑ بھی تکلیف بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔
چکن گونیا وائرس مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔جب وائرس سے متاثر کسی شخص کے خون سے مچھر اپنی غذا حاصل کرتا ہے تو مچھر بھی اس وائرس سے متاثرہوتا ہے اور پھر یہی مچھر جب کسی تندرست شخص کو ڈنگ مارتا ہے تو یہ وائرس اس کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔

چکن گونیا پھیلانے والایہ وہی مچھرہے جو ڈینگی وائرس پھیلانے کا سبب ہے ۔یہ دن اوررات کے اوقات میں انسانوں کو ڈنگ مارتے ہیں۔ متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے ۶ یا ۷ دن بعد اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جس میں سر فہرست تیزبخار اور جوڑوں کا درد ہیں۔

اس کے علاوہ مریض کے مسوڑھے بری طرح سوج جاتے ہیں اور منہ بھی پک جاتا ہے۔جس کی وجہ سے کھانے پینے میں نہایت دقت پیش آتی ہے۔ اب تک یہ وائرس ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور تا دم تحریر اس بڑھتے ہوئے سیلاب پر کوئی بندباندھا نہیں جا سکا۔

حکومتی سطح پر اس سنگین مسئلے کی روک تھام کے لئے کوئی اقدامات اور کوششیں دور دور تک نظر نہیں آ رہی ہیں۔پورے کراچی میں جگہ جگہ کچرے کے انبار لگے ہوئے ہیں۔آلودگی ،جراثیم اور بیماریاں انسانوں کی زندگیاں نگل رہی ہیں۔مگر نہ تو کچرے کے ڈھیر میں کوئی کمی لانے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی شہر میں کسی قسم کا مچھر مار اسپرے کیا گیاہے۔

کراچی کی سڑکوں کے عین درمیان اور فٹ پاتھ کے اطراف کچرے سے بھر ے ہوئے ہیں۔شہر میں جاری گرین لائن بس پروجیکٹ کی تعمیر کی وجہ سے ان سڑکوں پر بد ترین ٹر یفک جام روزانہ کا معمول ہے۔جس کی وجہ سے شہری ان کچرے کے ڈھیروں سے روزانہ آتے جاتے متاثر ہوتے ہیں۔

انہی سڑکوں پرکھانے پینے والے ٹھیلوں کی بہتات بھی ہے اور عام شہری یا مزدور طبقہ ان ٹھیلوں سے کھا پی کر اپنا پیٹ بھی بھرتے ہیں۔لہٰذا اس وقت شہر کی بدترین آلودگی اور حفظان صحت کے اصولوں سے کوسوں دور ماحول میں شہری بیماریوں، جراثیم اور آلودگی سے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں۔

اس سارے ماحول میں حکومتی غفلت ایک المیہ ہے۔ایسا لگتا ہے وہ شہر کی اس ساری صورت حال اور اس میں پھیلی ہوئی بدترین بیماری و آلودگی سے قطعی ناواقف ہیں۔اور مجھ جیسے بیماری سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کا نہ کوئی پُرسانِ حال ہے اور نہ ہی اس بیماری سے نجات کا کوئی آسان حل۔کیونکہ روزانہ موسپل لگانے کے باوجود چکن گونیہ وائرس مجھ سمیت پوری فیملی کو بستر پر لٹا چکا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے