تیر کی کمان میں ڈرامائی واپسی

ملک خداداد میں مسائل میں روز آفزوں ترقی تو خیر کسی تعارف کی محتاج نہ تھی مگر اس ملک کے کرتا دھرتا اداروں اور شخصیات کی پھرتیوں اور کرامات نے وہ انی ڈالی ہے کہ خدا کی پناہ۔

چھ اکتوبر دو ہزار سولہ کو انگریزی اخبار ڈان نے خبر لگائی کہ ایک اعلی سطح کی میٹنگ کہ جس کی سربراہی وزیراعظم کر رہے تھے اس میں عسکری قیادت کی حوالے سے بات کی گی ہے اور کہا گیا ہے کہ فوج ملک میں دہشت گردی کے معاملات کو نمٹانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

سادہ مطلب یہ کے سول حکومت تو چاہتی ہے کہ دہشت گردی کا قلع قمع ہو مگر اس میں فوج رکاوٹ ہے یہ تھا اس خبر کا لب لباب۔

ملک کے سنجیدہ حلقوں کے لیے یہ بات کسی صدمے سے کم نہ تھی کہ ایک ایسی جنگ کہ جس میں عوام کے ساتھ ساتھ فوج نے بھی بے انتہا قربانیاں دیں ہیں اور یہ سلسلہ تا حال جاری یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ہی اس لعنتی جنگ سے الگ ہو۔

اس خبر نے اندرون ملک عوام کی ایک بڑی تعداد کو جہاں متاثر کیا وہاں بیرونی سطح پر اس خبر نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے موقف کو شدید نقصان پہنچایا اور پاک فوج کا دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی محنت اور قربانی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا

اس وقت وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ایک سکیورٹی بریچ ہے جبکہ وزیر اعظم آفس بھی اس خبر کو بے بنیاد اور من گھرٹ قرار دیتے ہوے اس کی سختی سے تردید کر دی گی ۔ بعد معاملے کی شدت کو دیکھتے ہوے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گی جس کے سپرد یہ کام تھا کہ پتا لگایا جاے کہ سارا معاملہ کیا ہے ۔ اس کے بعد حکومتی بد حواسیاں شروع ہو گیں اور سب سے پہلے سٹوری فاہل کرنے والے رپورٹر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ECL)میں ڈالا گیا اور چند دن خفت اٹھانے کے بعد ہٹا لیا گیا۔ رپورٹر اور ادارہ اپنی خبر پرقائم رہے۔

آٹھ ماہ تک یہ معاملہ بنائی گی کمیٹی میں ڈنڈا ڈولی ہوتا رہا اور پھر ایک لیٹر وزیراعظم آفس سے جاری ہو ا کہ بنائی گی کمیٹی کی رپورٹ کے تناظر میں مندرجہ زیل اشخاص کو زمہ دار ٹھیرایا گیا جن میں جناب طارق فاطمی جو کہ وزیر اعظم کے خارجہ معاملات میں مشیر خاص تھے اور دوسرے راو تحسین پریس
انفا ر ڈیپارٹمنٹ(PID)کے سربراہ تھے ان کو ہٹانے کی سفارش کی گی تھی اور ان کو فلفور ہٹانے کے آرڈر بھی ان کے محکموں سے کر دیے گے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ حکومت ڈان لیکس کمیٹی کی تشکیل سے قبل ہی وزیر اطلاعات پرویزرشید کو فارغ کر چکی تھی ۔

حکومت کے اس علامیہ کے فوری بعد ڈی ،جی آی ایس پی آر نے ٹویٹ کیا کہ فوج کو یہ اعلامیہ قبول نہیں ۔۔اور جن لوگوں کہ بارے میں فوج نے تحفظات بیان کیے تھے ان کے بارے میں کچھ ذکر نیہں کیا گیا۔(یہاں عوامی حلقوں اور بالخصوص سیاسی جماعتوں کے راہنماوں کا یہ خیا ل تھا کہ اس تمام معاملے کے پیچھے مریم نواز اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کا ہاتھ ہے)

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ جہاں ایک ڈرامے سے کم نہیں تھا ویں ملک کی تمام سیاسی پارٹیو ں اور عوامی حلقوں نے آی، ایس، پی، آر کے ٹویٹ کو بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھااو ر اس پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا کہ فوج کے جس کا سربراہ آہین کی روح سے ملک کا منتخب وزیراعظم ہے اس کے حکم عدولی اور وہ بھی اتنے سخت الفاظ میں کیسے کر سکتی ہے ۔

فوج کا تیر کمان میں واپس آگیا:

اب تازہ مضحکہ خیز خبر یہ کہ فوج نے 29 اپریل دو ہزار سترہ کو کیا گیا اپنا ٹویٹ واپس لے لیا ہے۔

اس بارے فوج کے ترجمان کیا فرماتے ہیں اپنی پریس کانفرنس میں:

ٹویٹ اس لیے کی تھی کہ حکومت کی طرف سے جاری کیے گے نوٹیفیکیشن میں سفارشات مکمل نہیں تھیں اسلیے ریجیکٹ کیا تھا اب وزارت داخلہ نے غلط فہمی دور کرا دی ہے

29 اپریل دو ہزار سترہ کو جاری شدہ اعلامیہ میں پرویز رشید کا نام شامل نہیں تھا اب کر دیا گیا ہے ہمیں تسلی ہو گی ہے۔

یہ تھا سارا ٹوپی ڈرامہ جو آٹھ ماہ سے مل کر کھیلا گیا۔۔اگر معاملہ اتنا سنگین تھا تو اس کو انجام تک کیوں نہیں پہنچایا گیا خبر کس نے دی کوئی پتا نہیں جن کو ہٹایا گیا وہ کورٹ پہنچ گے ہیں

بنیادی طور پر پاکستانی قوم غلط فہمی سے زیادہ خوش فہمی کا شکار جلد ہوتی تبہی تو یہ پیرا سائٹ حکمران ہر بار عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے مصروف کرکے خود پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔پوچھے کوی اس بیس کروروڑ سے زائد ہجوم کو کہ جس کو عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے اس سے پہلے کتنے کمیشن بنے اور چل بسے نہ چلی تو ان کمیشنوں کی بنای ہوی ریپورٹس۔

حمودالرحمن کمیشن تو بہت دور کی بات ہے اور ویسے بھی ہم سب کا عوامی حافظہ بھی اس قابل نہیں ۔۔ابھی کل کی بات کہ جب ہمارے درینہ یار امریکہ بہادر نے ہماری عسکری تربیت گا ایبٹ آباد کی گود سے اپنے سابقہ چہتے اسامہ کو قتل کیا ۔۔اور ہمیں تب پتا چلا جب معاملہ خلاص ہو چکا تھا اور یہ دنیاں کی بیسٹ آرمی اپنے ایٹم بمب سے لپٹی سوتی رہ گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمیٹی بنی تحقیات ہوہیں مگر رپورٹ ندارد۔

ماڈل ٹاون لاہور میں اٹھارہ بندوں کا خون کر دیا گیا کمیٹی بنی رپورٹ کو ہی پتا نہیں کون نیچے رکھ کے بیٹھا ہے۔اور اب خیر سے پاناما کمیٹی بھی بن چکی ہے اور اس بار یہ لولی پاپ دیا گیا ہے کہ جناب اس بار سپریم کورٹ نے یہ کمیٹی بنائی ہے ٹینشن نہ لو ،،، اب بندا بھولی عوام کو کون سمجھاے کہ جناب یہ محلے کی کمیٹی تھوڑی ہے جو نکل آئے گی نہ نکلی تو تھوڑہ رولہ شولہ ڈال کے نکلوا لے۔۔۔ بابا یہ حکومتی کمیٹیاں ہیں جو بنتی تو عوامی خون سے ہیں مگر نتائج کے معاملے میں بارآور ثابت نہیں ہوتیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے