محدود سے لامحدود کا تصور

جب ہم دین کو عقل اور منطق کی بنیاد پر سمجھنا چاہتے ہیں تو عمومی طور پر اس کی ہر شکل اور درجے کو شعوری سطح پر پرکھنے کی کوشش کرتےہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ جس غیب پر ایمان لانے کا حکم ہمیں دیا گیا ہے اس سے مطلب یہ لیا جائے کہ بس سُن لیا اور ایمان لے آئے؟

اس سلسلے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہےوہ قرآن کریم کے وہ معجزے ہیں جن کو ہم عقلی توجیح دینے سے قاصرہوجاتےہیں اور نتیجے کے طور پر مذہبی طبقہ اس موقع پر صحابہِ اکرام کا بغیر سوچے سمجھے یا محض سُن کر ایمان لانے کے درجے کو ایک حجت کے طور پر ماننے پر مجبور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس طبقے کا خیال ہے کہ چونکہ معجزات انبیاء کے زمانے میں عقل سے ماورا تھے تو اس سے یہ سمجھ لینا کہ وہ ہمیشہ ہی عقل سے ماورا رہیں گے تو یہ بھی خام خیالی ہے۔

مقدمہ یہ ہے کہ جس چیز کو انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی یا سمجھ نہیں پاتی ، کیا اس کا کسی درجے میں ادراک کرسکتی ہے؟

معراج شریف کی مثال لیتے ہیں۔

ہم مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ آپ رات کے ایک انتہائی قلیل حصے میں اللہ سے ملاقات کرکے آئے۔

اب جس دور میں یہ واقعہ ہوا اس وقت سب سے تیزرفتارزریعہِ سفر گھوڑاتھا۔ اس سے آگے انسانی ذہن کی حد ہی نہیں تھی، ایسے میں اگر آپ محض مسجدِ اقصی تک جانے کا واقعہ ہی بیان کردیتے تو اسے بھی ماننا لوگوں کے لیے انتہائی مشکل تھا کجا یہ کہ آسمانوں کی سیر کا بھی دعوی کیا جاتا۔

سائنس کہتی ہے کہ انسان مادہ ہے مگر یہ توانائی میں تبدیل ہوسکتا ہے، وہ یہیں تک نہیں رہتی بلکہ ایک قدم اس سے بھی اگے جاکر یہ دعوی بھی کرتی ہے کہ مادہ توانائی میں تبدیل ہوکر دوبارہ مادے کی شکل میں آسکتا ہے۔

ایسے ہی آج ہم گھوڑے کی رفتار سے تیز چیزوں کا تصور کرسکتےہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک وقت تھا جب اس سے آگے ہم نہیں سوچ سکتےتھے۔ تو کیا بعید ہے کہ آج آواز سے تیزجہاز اور اس سے بھی آگے کی رفتار رکھنے والے جہازوں اور گھوڑوں پر تجربات ہوتے ہوتے انسان ایسی رفتار پر بھی قابوپالے جس رفتار پر واقعہ معراج کھڑا ہے۔ میرانہیں خیال کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جسم توانائی میں تبدیل ہوگیا ہو یا یہ ممکن ہے کہ آپ جس چیز کے اوپر یا اندر بیٹھے اس نے توانائی کی شکل اخیتار کر لی ہو اور روشنی کی وہ رفتارحاصل کی ہو جس پر وقت اثر نہیں کرتا، اور جب کسی چیز پر وقت ہی نہ گزررہا ہو تو وہ چاہے کسی بھی جگہ کتنا بھی وقت گزارلے وقت رکا ہی رہے گا۔

اس کی دوسری عقلی توجہیہ یہ ہے کہ ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جسم مبارک نے خود ہی توانائی کی شکل اختیارکرلی ہو اور بعد میں تمام مشاہدات وکمالات دیکھنے کے بعد دوبارہ انسانی جسم میں ڈھل گیا ہو۔کوئی بعید نہیں کہ انسانی علم آنے والے دور میں اُس جگہ کھڑا ہو جہاں سے تمام بادل چھٹ جائیں اور دین کے وہ تمام دعوی عقل کے تابع آجائیں۔

یہ سب احتمالات، یہ سارے اشکالات ممکنات میں سے ہیں اور ہماری عقلی تسکین کے لیے خوراک مہیا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر قرآن سازے زمانوں کے لیے ہے تو ہرزمانے کا ایمان لانے کا درجہ بھی اُسی حساب سے ہے۔ معراج کو ماننا نبی کریم کے زمانے کے حساب سے ویسا ہی تھا جیسا صحابہ اکرام نے مانا۔ مگر آج اس کی عقلی توجیح ممکن ہے۔ اور جسیے جیسے زمانہ ترقی کرتا جائے گا معجزہ انسانی دانش کے دائرے میں آتاجائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے