حسن روحانی کو انتخابات میں واضح برتری حاصل: غیرسرکاری نتائج

تہران: ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق موجودہ صدر حسن روحانی کو اپنے مضبوط ترین حریف ابراہیم رئیسی پر ناقابل شکست برتری حاصل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘حسن روحانی فاتح ہیں اور یہ انتخابات دوسرے حریفوں کے لیے ختم ہوگئے ہیں’۔

ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق حسن روحانی کو 2 کروڑ 16 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ ان کے سب سے بڑے حریف سمجھے جانے والے ابراہیم رئیسی کو اب تک صرف 1 کروڑ 40 لاکھ ہی ووٹ مل سکے ہیں اور اب صرف 40 لاکھ ووٹ کی گنتی ہی باقی رہ گئی ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق ایران میں 4 کروڑ لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ جمعہ (19 مئی) کو صدارتی انتخابات کے لیے ہونے والی ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ 70 فیصد تک رہا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن فارس کے مطابق ابتدائی سرکاری نتائج کا اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔

حسن روحانی کے ایک قریبی ساتھی محمد خاتمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر حسن روحانی کی ایک تصویر شائع کی جس میں وہ فتح کا نشان بنائے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ انسٹا گرام پر یہ نعرہ بھی درج تھا کہ ’امید تنہائی پر غالب آگئی‘۔

حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف حامد ابوطالبی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ حسن روحانی کو 60 فیصد ووٹ حاصل ہو چکے ہیں تاہم انہوں نے اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔

حسن روحانی نے اپنے گزشتہ دور صدارت میں عوام کو اپنے ملک میں آزادی کے ساتھ رہنے اور ایران کے پوری دنیا کے ساتھ روابط کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا لیکن موجودہ انتخابات میں انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حمایت یافتہ امیدوار ابراہیم رئیسی سے مقابلے کا چیلنج درپیش تھا۔

حسن روحانی نے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات اس خطے اور دنیا بھر میں مستقبل کے کردار کے لیے اہم ہیں۔

اس کے برعکس حسن روحانی کے حریف ابراہیم رئیسی نے ان پر ملکی معیشت کے نظام کو خراب کرنے کا الزام لگایا، انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران ملک کے غریب علاقوں کے دورے کیے اور جلسوں سے خطاب میں مزید بہتر فلاح و بہبود اور ملازمتیں دینے کا عزم کیا۔

اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی ’فارس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ ‘میں ان انتخابات میں لوگوں کی حق رائے دہی کا احترام کرتا ہوں اور مجھ سمیت تمام لوگ آنے والے نتیجے کا احترام کریں گے’۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی وزارت داخلہ کے آفس پہنچے اور پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کے دوران بیلٹ بکس کی عدم دستیابی کی شکایت بھی کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ صدارتی انتخابات میں حسن روحانی اپنے کسی بھی حریف سے 3 گنا زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے تاہم حالیہ انتخابات میں آنے والے غیر سرکاری نتائج سے محسوس ہوتا ہے کہ ابراہیم ریئسی نے حسن روحانی کی جیت کا مارجن کم کردیا ہے۔

ایران میں 12 ویں صدر کے انتخاب کے لیے مجموعی طور پر ووٹنگ میں ٹرن آؤٹ بہتر رہا اور خواتین اور بزرگوں سمیت نوجوان افراد نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابات کے موقع پر ایران بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جب کہ ملک میں 63 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے۔

پولنگ کا آغاز ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے ہوا، جو بلاتعطل شام 6 بجے تک جاری رہا، جس میں بعد ازاں 4 گھنٹے کا اضافہ کیا گیا، ووٹنگ کا آغاز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد ہوا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے