انتہا پسندی کا علاج ؟

215104_99643936

پاکستان سے باقاعدہ طور پر دولت اسلامیہ فی العراق و الشام یعنی داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے داعش کے مرکزی رہنما اور تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد افغان صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں مارا گیا ہے۔
ایک پیشہ ور قاتل اور فتنہ پرور مجرم کا واصل جہنم ہونا ان تمام پاکستانی عوام کے لیے باعث اطمینان ہے جو ٹی ٹی پی کے ہاتھوں ہزاروں نہتے اور بےگناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل و غارت سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں یا غمزدہ اور افسردہ رہے ہیں۔
اس مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا کر پاکستانیوں کو اس کے شر اور بربریت سے نجات دلانے اور ہزاروں پاکستانیوں کے دردناک قتل و غارت کا بدلہ لینے کا سہرا امریکہ کے سر جاتا ہے جبکہ مسلمان قائدین ایک دہائی تک ایسے بدترین مجرموں کو جہاد، شہادت، نفاذ شریعت اور جنت کے لبادے میں قتل و غارت کا جواز فراہم کرتے رہے اور حکومت کو ان کے خلاف قدم اٹھانے سے روکتے رہے۔
 ان دہشت گرد عناصر کو ملنے والی کھلی چھوٹ کے نتیجے میں بدترین دہشت گردی نے پورے ملک کو آگ و خون کی لپیٹ میں لے لیا اور آنکھوں کے سامنے ستر ہزار سے زیادہ معصوم بچوں، خواتین، عمر رسیدہ افراد اور جوانوں کی جانیں ان مجرموں کے ظلم و بربریت کےبھینٹ چڑھ گئی ۔
سینکڑوں مساجد، عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز اور قومی تنصیبات تباہ و برباد ہو گئے۔ عین اسی وقت بہت سے مذہبی قائدین ان پیشہ ور قاتلوں میں جنت کی سند بانٹتے رہےـ
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پاک آرمی کے سپہ سالار مقرر ہونے کے بعد حکومت اور عوام کی سیاسی، اخلاقی اور قومی تعاون سے پاک آرمی نے دہشت گردوں کے خلاف فاٹا میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔
اس دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تنصیبات، تربیتی مراکز اور اسلحہ کے ڈپوز کو تباہ کرنے کے بعد پاک آرمی دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے میں کامیاب ہو گئی۔
ملک کے مختلف شہروں اور اضلاع سے دہشت گردی کے متعدد منصوبوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں دہشت گرد مارے یا گرفتار کیے گئے۔
سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے ڈیڑھ سو معصوم بچوں کی المناک شہادت کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے لیے فنڈنگ، نظریاتی سپورٹ اور مقامی سطح پر سہولت کاری کے شیطانی تکون کو توڑنے کی کوششیں تیز کی گئیں۔
چونکہ فاٹا دہشت گردوں کا مرکز تھا اس لیے آپریشن ضرب عضب کی کاروائیاں بھی اسی علاقے میں ہوئیں۔ اس آپریشن کے نتیجے میں فاٹا کے عوام کو اندرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہونے کی وجہ سے بہت تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں۔
پاکستانی عوام، پاک آرمی کی بے مثال قربانیوں اور خاص طور پر دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کے لوگوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن و سلامتی کی فضا لوٹ رہی ہے اور لوگوں کا احساس تحفظ بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالی اس کے بعد پاک آرمی، سیاسی قائدین اور قربانیاں دینے والے عوام کا شکریہ ادا کرنا چایئے۔
ایک سوال ابھی بھی جواب طلب ہے کہ دہشت گردی کے واقعات پر انتظامی طور پر ضرب عضب کے باعث قوی امکان ہے کہ قابو پالیا جائے گا تاہم انتہاپسندی ایک کثیر تعداد میں نوجوانوں کے زہنوں اور رویوں میں رچ بس گئی ہے، اس کا علاج کون کرے گا، کب اور کیسے کیاجائے گا ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے