پبلک ٹرانسپورٹ کے تجزیہ کار

لاہور میں سفر کے دوران بسوں میں کچھ ایسے تجزیہ کاروں سے واسطہ پڑتا ہے جن کے تجزیے سن کر بعض اوقات اپنا سر پھوڑنے کو دل کرتا ہے اور بعض اوقات ان کی فی البدیہ باتیں بےاختیار ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔ذرا ان کے بے لاگ تبصرے سنیے اور سر دھنیے۔ضمنی الیکشن کے بعد میڑو میں سفر کر رہا تھا تو دو ادھیڑ عمر بابے اپنی رو میں اونچی اونچی تبصرہ کر رہے تھے

ایک نے کہا بڑی سہولت بن گئی ہے میڑو دوسرے نے کہا یہ نواز اور شہباز نے کاموں کے جال بچھا دیے ہیں عوام ان کے ساتھ ہے ،ویکھیا نہیں کل الیکشن وچ ،عمران خان لحاف لے کے سویا ہوا ہے ہارنے کے بعد ،اگلی حکومت بھی ان کی ہے ،عمران تے ملک تباہ کر دینا ہے ۔اور بھی بہت کچھ ،ان کے بے لاگ تبصرے ان کی سیاسی نظر ہونے کا ثبوت ہے ۔فیڈر بس میں سفر کر رہا تھا دو بظاہر پڑھے لکھے افراد میرے پیچھے بیٹھے ہوئے محو گفتگو تھے بات ریلوے کی زمینوں سے چلی اور منڈی کی جگہ پر کیا بنے گا پر آئی ۔

ایک نے کہا اس جگہ پلازہ بنے گا اس کی وجہ سے زمین پر بوجھ پڑے گا جو کہ خطرناک ہے ۔پانی زمیں میں جذب ہو جائے گا پانی میں مشکل ہو گی۔بس جی لوگ سائنس کے اصولوں کو مانتے نہیں اور حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔آبادی بڑھ رہی ہے ۔اگے بیٹھے ایک بابا جی کا سٹاپ بھی قریب تھا اور اس کی بات کا جواب بھی دینا چاہتے تھے بولے ،کچھ نہیں ختم ہونے والا تم لوگوں کو رب پر یقین نہیں رہا ۔کم بچے پیدا کرنا حل نہیں ،رب کی مخلوق ہے ہر ایک کو دے رہا ہے ۔

وہ بابا جی تو اتر گے لیکن میرے پیچھے بیٹھے تجزیہ ،کاروں نے بابا جی کی بات پر بڑا دفاعی تجزیہ فرما کر انکی بات کے اثر کو زائل کر دیا ۔بات پھر مہنگائی ،وسائل،حالات پر آ گئی۔ان کے مطابق بجلی بھی وقتی پوری ہوئی ہے،مہنگائی بے تحاشہ ہے پیاز اب ۸۰ روپے ہوئے ہیں ۔بل بے تحاشہ ہیں ۔جو فیکٹری والا اپنی فیکٹری کے باہر حکمرانوں کی تصاویر لگا لیتا ہے ان کو پوچھتا کوئی نہیں ۔ڈائریکٹ کنڈیاں لگاتے ہیں ۔ان کے بل بھی ہم دیتے ہیں ۔

ایک بولا مہنگائی کنٹرول تھی ضیا دور میں اس کے بعد جو بھی آیا اس نے لوٹا ہی ہے عوام کو۔دوسرا بولا اس ملک میں فوجی ہی بہترین حکومت کر سکتے ہیں ۔میرا بھی دل کرتا کہ شریک گفتگو ہو لیکن ان کا جارحانہ انداز دیکھ کر خاموشی میں ہی عافیت سمجھی ۔اسی دوران ان میں سے ایک کا سٹاپ آ گیا اور دوسرے نے اپنی جگہ بدل لی اور ہم بھی اپنی منزل کو روانہ ہو گے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے