جماعت اسلامی کیوں زوال پذیر ہے؟

لاہور کے حالیہ ضمنی انتخاب میں جہاں کچھ سوالات کے جوابات ملے ہیں، وہاں بعض دیرینہ سوال دوبارہ سے تازہ ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ووٹ کم ہوئے یا پی ٹی آئی کے ووٹ بڑھے،یہ بحثیں بھی اپنی جگہ اہم ہیں، ملی مسلم لیگ اور لبیک یا رسو ل اللہ والے دیگر حلقوں میں بھی این اے 120والی کارکردگی دکھا سکیں گے یا نہیں ، یہ اپنی جگہ اہم سوال ہے ، مگر ان دونوں سوالوں کے ساتھ جماعت اسلامی کی نہایت کمزور کارکردگی نے بھی رائیٹ کے حلقے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اسلامی تحریکوں سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے جماعت اسلامی کی یہ افسوسناک کارکردگی دل دکھانے کا باعث بنی۔ جس الیکشن میں ماضی میں جماعت کے امیدوار ٹھیک ٹھاک ووٹ لیتے رہے ہوں، وہاں چھ سو ووٹ بھی نہ ملناکسی المیے سے کم نہیں۔مئی تیرہ کے الیکشن کے بعد جماعت اسلامی نے اپنی شکست پر خاصا غوروخوض کیا ، کئی باضابطہ قسم کے سروے کرائے ، جماعت کے اندرونی حلقوں میں تفصیلی مباحث مہینوں چلتے رہے، خاصے جتن کرنے کے باوجود پنجاب میں ہونے والے ہر ضمنی انتخاب میں جماعت اسلامی کا امیدوار ضمانت ضبط کرانے کی رسمی کارروائی کے لئے ہی الیکشن لڑتا رہا۔سوال یہ ہے کہ آخر جماعت اسلامی کی اس قدر کمزور کارکردگی کا سبب کیا ہے اور کیا جماعت یوں زوال پذیر رہے گی؟ اس کے دوبارہ اٹھنے کا کوئی امکان ہے یا نہیں ؟

جماعت اسلامی کے ساتھ دلچسپ معاملہ یہ بھی ہے کہ دشمنوں اور دوستوں کے حوالے سے یہ بیک وقت خوش نصیب اور بدنصیب واقع ہوئی ہے۔ جماعت کے ہمدرد اور دوستوں کا اچھا خاصا بڑا حلقہ ایسا ہے جو جماعت کی فکر میں دبلا ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر طنز کے تیر چلانے کا کوئی موقعہ ضائع نہیں جانے دیتا۔ دینی ذوق رکھنے والے کئی احباب کو دیکھا کہ انہیں جماعت اسلامی کے ساتھ ہمدردی ہے، نظریاتی محاذ پر وہ اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، مگر جہاں کوئی موقعہ ملا نہیں، انہوں نے طنز کا تیر اس طرف اچھا ل دیا۔

مشورے، طنز ، تنقید بہت جگہ سے آرہی ہوگی، آتی رہے گی، ایسا کرنے والوں کی دردمندی اپنی جگہ، مگر جماعت اسلامی اپنی شکست کا خود تجزیہ کرے اور جہاں کہیں کمی ہے ، اسے دور کرنے کی کوشش کرے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس مشورے کے بعد اصولی طور پر تو کالم یہیں پر ختم کر دینا چاہیے، مگر جیسا کہ عام دستور ہے، مفت مشورہ اور مفت تجزیہ پیش کرنے میں ہم پاکستانی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اس لئے یہ خاکساربھی جماعت اسلامی کے زوال کے دو تین اسباب پیش کر کے دم لے گا۔مقصد البتہ طنز یا تضحیک نہیں، بلکہ تصویر کا ایک (قدرے ناپسندیدہ) رخ پیش کرنا ہے۔

حلقہ این اے 120میں شکست کی بات کریں تو اس میں لاہور جماعت کی تنظیمی کمزوری واضح نظر آتی ہے۔ یہ الیکشن لڑنا چاہیے ہی نہیں تھا، اس میں کچھ ملنے کی توقع تھی ہی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ امیر جماعت سراج الحق ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے حق میں نہیں تھے، انہیں لاہورکی تنظیم( نظم) نے اصرار کر کے اس پر مجبور کیا۔ جماعت اسلامی لاہور اور پنجاب نے اگر یہ پنگا لے ہی لیا تو پھر انہیں پوری قوت اس پر مرکوز کرنی چاہیے تھی۔ ایسا بالکل دیکھنے میں نہیں آیا۔ پہلے تو مرکزی قائدین لیاقت بلوچ، فرید پراچہ اور میاں مقصود وغیرہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب چلے گئے۔ حج کرنا ظاہر ہے بہت اہم امر ہے، لیکن اگر اس کا ارادہ کر رکھا تھا تو پھر ضمنی الیکشن کے لئے امیدوار کیوں کھڑا کیا گیا؟

ملی مسلم لیگ نے پورے صوبے سے اپنے کارکن اکٹھے کئے اور ایسی بھرپورانتخابی مہم چلائی کہ لگ رہا تھا شائد دوسرے نمبر پر وہ آ جائیں گے۔ جماعت اسلامی دوسرے شہروں سے کارکن کیا بلاتی، خود لاہور کے کارکنوں کو بھی متحرک نہیں کیا جا سکا۔ اس حلقے میں جماعت کے پوسٹر، بینر وغیرہ نہ ہونے کے برابر تھے ۔ ان کا امیدوار کوئی رئیس نہیں تھا،لوئر مڈل کلاس آدمی اپنی جیب سے کتنا خرچ کر سکتا ہے؟ جماعت کو انہیں بھرپور مالی اعانت فراہم کرنی چاہیے تھی۔اگر جماعت اسلامی ملی مسلم لیگ یا لبیک یا رسول اللہ جیسی مہم جماعت اسلامی چلا لیتی تو تین چار ہزار تک ووٹ اسے مل سکتے تھے۔ اس سے زیادہ کی امید البتہ موجودہ حالات میں رکھنا خوش گمانی کے مترادف ہے۔ اس کارکردگی سے مگر جماعت کی کچھ ساکھ بچ جاتی اور یہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑتی جو اب حصے میں آئی۔

جماعت اسلامی کے حوالے سے اگر غیر جانبداری سے بے رحم مجموعی تجزیہ کیا جائے تو وہ زیادہ دل خوش کن نہیں، بہت سے کارکنوں کو اس سے مایوسی اور تکلیف پہنچنے کا امکان ہے۔ ایسے لوگوں سے پیشگی معذرت۔جماعت کی ساخت اور داخلی سٹرکچر ہی میں دو تین ایسی بنیادی نوعیت کی خامیاں اور کمزوریاں موجود ہیں ، جنہیں دور کئے بغیر بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ، مشکل مگر یہ ہے کہ انہیں دور کیا گیا تو پھر شائد جماعت کی شکل صورت ہی بدل جائے ، جسے اندرونی حلقے قبول نہیں کریں گے۔

جماعت اسلامی پاکستانی معاشرے میں اقامت دین کی جدوجہد اور ایک اسلامی نظام بنانے کے نعرے کے ساتھ آئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی نوعیت ایک خاص انداز میں مسلکی بن چکی ہے ۔ یہ درست کہ جماعت اسلامی کسی خاص فرقے کی نمائندگی نہیں کرتی یا اس سے تعلق نہیں جوڑتی ،مگر وہ دین کی ایک خاص تعبیر پیش کرتی اور سید مودودی کی فکر کولے کر چلتی ہے ۔ جماعت سے باہر کے لوگ اسے بھی ایک طرح مسلک یا فرقہ ہی سمجھتے ہیں۔ مسلکی جماعتیں کئی ہیں اور بعض نے مناسب قسم کی انتخابی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں، مگر اس کی وجہ ان کے پاس مدارس کا نیٹ ورک موجود ہونا ہے۔ مدارس کے طلبہ ہی جمعیت علما ء اسلام فضل الرحمن کو قوت بخشتے ہیں، دیگر دینی جماعتیں بھی اپنی استطاعت کے مطابق اپنے پلیٹ فارم سے جاری مدارس کی وجہ سے سٹریٹ فورس اور ووٹ لیتی ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں ملی مسلم لیگ کے ووٹ کے پیچھے بھی ان کے مدارس اور وہاں سے فارغ التحصیل طلبہ کی ورک فورس ہے۔

یہ جماعت اسلامی کا بنیادی ایشو رہاہے۔ اپنی اس کمزوری کو انہوں نے جدید یا عصری تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کی شکل میں پورا کیا۔ جمعیت نے انہیں ہمیشہ سٹریٹ پاور کے ساتھ کمٹیڈ ورکر بھی فراہم کئے۔ سٹوڈنٹ یونینز ختم ہو جانے سے جمعیت خاصی کمزور ہوگئی ۔اب مڈل کلا س اور لوئر مڈل کلاس طلبہ کی بڑی تعداد نجی تعلیمی اداروں میں چلی جاتی ہے، جہاں جمعیت کا داخلہ ہی بند ہے۔ جماعت اسلامی میں وہ اوپن نیس اور کشادگی نہیں، جس سے کام لے کر طیب اردوان نے ترکی میں اسلامسٹوں اور معتدل عناصر کو ملا کرسیاسی انقلاب برپا کر دیا۔اس پر کبھی الگ سے تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے۔

تیسری بڑی کمزوری نظریاتی اعتبار سے کسی دیوقامت شخصیت کا موجود نہ ہونا ہے۔ نظریاتی جماعتیں ہمیشہ کسی طاقتور فکر پر استوار ہوتی ہیں، ایک سحر ہوتا ہے جس کے تابع نوجوان ناممکن کو ممکن کر دکھاتے ہیں۔ نئے چیلنجز اور نئے سوالات کا جواب دینے کے لئے اس قد کاٹھ کے مفکر موجود نہ رہیں تو پھر زوال شروع ہوجاتا ہے۔سید مودودی کے بعد جماعت اسلامی ان جیسا تو کیا ان سے کئی گنا فروتر مدبربھی پیدا نہیں کر سکی۔ جماعت کے اندر ایک خاص نوعیت کا فکری بحران جاری ہے۔ مولانا کے لٹریچر پر کب تک کام چلایا جاسکتا ہے ؟ انہیں مٹی اوڑھے چار عشرے ہونے کو ہیں۔ اس عرصے میں پورا زمانہ بدل گیا، نئی سوچ، نئے زاویے ، نئے سوالات پیدا ہوئے۔جماعت کے اندرونی حلقے سے کون ان کا جواب دے سکتا ہے؟ پروفیسر خورشید احمد آخری شخص ہیں، مگر ان کا دور بھی عملاً گزر چکا۔

چوتھا فیکٹر جماعت کی جانب سے بنائے گئے سیاسی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے۔ جماعت کی بدقسمتی یہ ہے کہ رائیٹ ونگ کا روایتی ووٹ مسلکی مذہبی جماعتوں کے ساتھ ہے، رائٹ اور رائٹ آف دی سنٹرکا قدامت پسند ووٹ مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا ایک حلقہ جماعت کے ساتھ تھا، مگر آئی جے آئی کے بعد وہ ن لیگ کے ساتھ کھڑا رہا۔ رائیٹ کی انٹلکچوئل کلاس بھی نظریاتی طور پر جماعت کے ساتھ ہے، مگر سیاسی طور پر ن لیگ ان کی ترجیح بن گئی ۔ رائٹ اور رائٹ آف سنٹر کا ماڈرن ووٹ اور کسی حد تک تبدیلی کے خواہاں لبرل عناصر عمران خان کے ساتھ چلے گئے۔ پیپلزپارٹی کا پنجاب میں صفایا ہوگیا، جس کے خوف سے اینٹی پیپلزپارٹی نظریاتی ووٹر جماعت کے ساتھ چلا جاتا تھا۔ اب جماعت اسلامی کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ آؤٹ آف دی باکس سوچنا، نئے آئیڈیاز، نیا بیانیہ ، نیا اسلوب ، نئے اتحادی اور سب سے بڑھ کر نیا خون لانا ہوگا۔ کیسے ، یہ مشکل سوال ہے، واضح جواب میرے پاس نہیں، اس پر جماعت کو خود سوچنا اور بے رحم خود احتسابی کرنا ہوگی۔

ایک متبادل حل دعاؤں بلکہ بد دعاؤں کا ہے۔ مسلم لیگ ن کسی طرح تتر بتر ہوجائے، قدرت عمران خان کو کسی حیلے سے سیاست چھوڑنے پر آمادہ کر دے اور لیفٹ کی قوتیں کسی معجزے سے طاقتور ہوجائیں۔ یہ سب انہونیاں اگر ہوجائیں تو جماعت اسلامی دوبارہ سے ابھر کر اپنے سنہرے دنوں جیسا عروج پا سکتی ہے۔ اب یہ جماعت اسلامی پر ہے کہ وہ دعاؤں پر بھروسہ کرتی ہے یا اپنی دنیا خود پیدا کرنے کا چیلنج قبول کرتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے