2005 کا زلزلہ: بھلا ہومشرف کا

بالاکوٹ کے مکین 12 برس سے اپنے حق کے لئے صبر آزماء جدوجہد میں تھکے نہیں، وادی کاغان کا دروازہ بالاکوٹ جو 8 اکتوبر 2005 کی صبح 8 بجکر 53 منٹ پر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ یہ زلزلہ نہ تھا بلکہ ایک قیامت تھی جو آئی اور گزر گئی مگر اپنے پیچھے ملبے کے ڈھیروں تلے سسکتی آہ و فغاں کرتی سینکڑوں داستانیں چھوڑ گئی۔پورا شہر قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ قدرتی آفات کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ رب کائنات کے کرم اور آزمائش کے اپنے انداز ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر جگہ جگہ لگے پرانے کپڑوں کے ڈھیر اس شہر کی بربادی و تباہی کا اعلان کر رہے تھے۔ بالاکوٹ خوبصورت شہر تھا ۔ 1831 کے معرکہ کے ہیروز سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کے مزاروں کی برکت سے اس شہر کو دنیا بھر میں شہرت حاصل تھی مگر زلزلہ کے بعد بالاکوٹ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ یونین کونسل بالاکوٹ‘ یونین کونسل گرلاٹ‘ یونین کونسل گھنول کی آبادی لقمہ اجل بنی۔

لواحقین اپنے پیاروں کی یاد میں خیموں کے اندر حسرت و یاس کی تصویر بنے سالوں بیٹھے رہے اور سعودی امداد کی صورت میں شیلٹرز ملے جو کسی نعمت سے کم نہیں مگر ان کی تقسیم کو بھی پسند نا پسند کا غلاف چڑہانے والوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی اور آج بھی متعدد متاثرین شیلٹرز سے محروم ہیں۔اختیار کا ڈنڈا ہاتھ میں اٹھائے کئی سورماء پھرتے دیکھے گئے جن کا مقصد زاتی مفاد کے سوا کچھ نہ تھا۔۔ جزا کی امید صرف اور صرف اپنے رب سے لگائے راقم نے بھی اپنی بساط کے مطابق کارخیر میں حصہ لیا تھا ۔ متعدد فلاحی اداروں نے دلجوئی کی تھی۔ آج اس بدترین سانحے کو 12 سال گزر گئے‘ کوئی حکومتی وعدہ ایفاء نہ ہو سکا‘ نیو سٹی کے نام پر سیاست آج بھی عروج پر ہے،نہ کوئی عدالت سوموٹو لیتی ہے نہ کوئی اپوزیشن شور مچاتی ہے،لاکھوں خاندان متاثر ہو ئے،ہسپتال بنے نہ سکول‘ سڑکیں بنی نہ واٹر سپلائی چینل۔۔۔ بھلا ہو سابق صدر مشرف کا جس کے حکم پر مکانات کا معاوضہ اگرچہ کم تھا مگر ملا ضرور۔۔۔ تین اقساط میں پونے دولاکھ کی رقم ہر متاثرہ فرد کو دی گئی۔ بکریال کے مقام پر جدید سہولتوں سے آراستہ بستی بسانے کا اعلان ہوا تو دنیا بھر سے امداد آئی ۔۔

سابق صدر نے کہا تھا کہ ہم نے جو مانگا دنیا نے اس سے بڑھ کر دیا مگر نیو سٹی کا خواب آنکھوں میں سجائے بالاکوٹ ریڈ زون کے مکین 12 سالوں سے منتظر ہیں۔۔ حکومتی یقین دہانیاں‘ اپنے منتخب کردہ عوامی نمائندوں کے بلند بانگ دعوے ڈھکوسلے ثابت ہوئے‘ آج بھی ریڈ زون کے مکین سراپا احتجاج ہیں‘ اربوں کی بیرونی امداد پر ایرا‘ سیرا اور پیرا کے ڈرامے تخلیق کرنے والوں کو متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی سزا ضرور ملے گی۔قارئین 8 اکتوبر 2005 کی صبح اور رحمت کے پہلے عشرے نے لاکھوں زندگیوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا تھا۔ ایک قیامت تھی جو گزر گئی۔ سسکتی زندگی اور بے بسی کی بولتی تصویریں اس وقت بھی نوحہ کناں تھیں اور آج بھی ہیں۔۔ اگرچہ بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی مگر میرے شہر کے لوگوں میں اضطراب اس وقت بھی نہ تھا اور آج بھی پر امن احتجاج کا سہرا ان ہی کے سر ہے ۔۔ میرے شہر کے لوگ صبر جمیل کی چادر اوڑھے آج بھی نیو سٹی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔

فہرستیں ایک بار پھر تازہ کی جارہی ہیں۔قرائن بتاتے ہیں کہ مظہر علی قاسم کی بے لوث کاوش رنگ لانے کو ہے۔مقامی قیادت نے بھی سر جوڑ رکھا ہے۔سماجی حلقوں سے لے کر صحافتی حلقوں تک ہر ایک نے اپنا جاندار کردار ادا کیا ہے یہاں ملبے کے ڈھیر اور قبروں کی شہر میں بیٹھ کر اپنے دکھ درد اور مسائل کی ایوان اقتدار تک صدا پہنچانے کا سہرا مقامی صحافیوں جاوید اقبال،قاضی اسعد اسرائیل،اکرام مغل،ڈاکٹر محمد فرید،قدوس بٹ،ملک ارشاد،خورشید زمان ،ذوالفقار علی ،میاں عارف ،زاہد اقبال ،راشد علی راشد،اظہر اعوان کے علاوہ شاعروں احمد حسین مجاہد،اختر زمان اختر،سمندر خان سمندر،ہارون الرشید، اسلام آباد سے شہید افتخار مغل،دلدار فانی مغل،افتخار لغمانی،محترم سیکرٹری جمیل احمد خان کے سر جاتا ہے۔

اس کربناک ،تڑپا دینے والی صورتحال میں سیکرٹری یونین کونسل منصف حسین کا ’’کردار‘‘ نمایاں رہا۔۔اللہ پاک ہر جدوجہد کرنے والے کو جزا دے۔ ملکی ، غیر ملکی اخبارات اور چینلز نے بالاکوٹ کے متاثرین کی ہمت ، حوصلے اور خودی کو ہمیشہ شاندار الفاظ میں سراہا۔۔اپنی مدد آپ کے تحت شہر بس چکا ہے،رونقیں وہ نہ سہی مگر غیرت مندی آج بھی پہلے سے بڑھ کر ہے۔تحصیل میں ہسپتال نہ ہونا کس کی ناکامی ہے یہ بھی کوئی راز نہیں ۔یقین جانیئے، سالوں گزرگئے سعودی شیلٹروں میں مقیم لوگ سرخ لکیر پیٹ رہے ہیں۔ آج بھی بالاکوٹ کے باسی ارباب اختیار کی طرف دیکھ رہے ہیں تاکہ سالوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافیوں کا ازالہ ہو سکے۔ شاید متاثرین زلزلہ کو ان کا حق مل جائے۔سکول تعمیر ہوں۔۔ہسپتال بنیں۔۔رابطہ سڑکوں کی بحالی و تعمیر نو ہو۔۔پینے کا پانی گھر گھر بہم میسر ہو۔۔

امید تو کی جا سکتی ہے کیوں کہ ناامیدی گناہ ہے ۔ یہ زلزلہ نہ تھا بلکہ ایک قیامت تھی جو آئی اور گزر گئی مگر اپنے پیچھے ملبے کے ڈھیروں تلے سسکتی آہ و فغاں کرتی سینکڑوں داستانیں چھوڑ گئی ہے ۔اور بالاکوٹ کے مکین 12 برس سے اپنے حق کے لئے صبر آزماء جدوجہد میں تھکے نہیں۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے