انجام کار کیا ہو گا؟

تین ہزار سال پہلے کی بات ہے مصر کی سرزمین میں ایک حکمران ’’رامیسس دوم‘‘ کی حکومت تھی ۔کہتے ہیں کہ وہ چند معاملات میں بہت سخت تھا ۔ایک یہ کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرتا تھا اور اپنے انتہائی عزیز شخص کو بھی معاف نہیں کرتا تھا۔اس کی دوسری عادت یہ تھی کہ بیت الخلاء کے لیے انتہائی پردوں کا انتظام کرتا تھا اور اپنی داڑھی کا بہت خیال رکھتا تھا ۔ ’’رامیسس دوم‘‘ کامیاب حکمرانی کر رہا تھا ۔پوری سلطنت پر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی باوجود اس کے کہ اس نے اپنی حکومت میں بہت سارے ظالمانہ قانون رائج کیے ہوئے تھے لیکن اس کا ظلم ابھی انتہا کو نہیں پہنچا تھا۔ایک دن نجومیوں نے اسے بتایا کہ یہ سال تمہارے لیے بہت برا ہے کیوں کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہو گا جو تمہاری سلطنت کو تباہ و برباد کر دے گا ۔

’’رامیسس دوم‘‘ نے یہ’’ آکاش وانی‘‘ ملتے ہی اپنی پارلیمنٹ کا فوری اجلاس بلایا کہ کوئی تدبیر نکالی جائے ،ماہرین سیاست و معیشت و معاشرت سر جوڑ کر بیٹھ گئے ۔مختلف مشورے ہوئے ۔کئی اجلاس ہوئے پھر ان ماہرین فہم و فراست نے ایک قانون بنایا جسے تاریخ انسانیت کا سب سے مکروہ قانون کہا جاتا ہے وہ قانون یہ تھاکہ اس سال پیدا ہونے والے تمام بچے قتل کر دیے جائیں ۔اس قانون کے تمام مثبت اور منفی پہلو دیکھے گئے پوری جانچ پٹخ کی گئی اور ’’رامیسس دوم‘‘ کا ظلم اپنی انتہا کو پہنچ کر اس قانون کی صورت میں رائج کر دیا گیا ۔پھر سورج کی آنکھ نے سیکڑوں معصوموں کی گردنوں پر چھریاں پھرتے ہوئے دیکھیں ،اس سال پیدا ہونے والا ہر لال ماوں کے سامنے ذبح کر دیا گیا۔ہم اس حکمران کو فرعون کے نام سے جانتے ہیں ،جب بھی اس کا نام آتا ہے ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔لیکن قانون اسے نہ بچا سکا وہ حکمران غرق ہو گیا ۔نہ اس کی سلطنت بھی باقی رہی ،نہ ہی وہ پارلیمنٹ رہی جس نے وہ قانون بنایا تھا نہ ہی وہ وزیر ومشیر باقی رہے ۔خود ’’رامیسس دوم‘‘کا جسم دنیا کے لیے عبرت کی جولانگاہ بنا ہوا ہے ۔لیکن اس کا بنایا ہوا کا قانون رہتی دنیا تک ہمیشہ ملعون و مطعون رہے گا۔

مورخ جب بھی انسانیت کے سب سے برے حکمرانوں کی فہرست بنائے گا تو ’’رامیسس دوم‘‘ کا نام فہرست میں سب سے اوپر ہو گا ۔انسانی تاریخ میں بہت سی حکومتوں کے خود سر حکمرانوں نے اپنے اپنے راج میں ایسے بہت سے قانون بنائے ہیں جنھیں اچھا نہیں کہا جا سکتا لیکن انسانی فطری قدروں کو پامال کرنے والے قوانین بہت کم بنے ہیں ۔ظالم سے ظالم حکومت بھی فطری انسانی قدروں کو روندنے والے قوانین بنانے سے پہلے سو بار ضرور سوچتی ہے اور کوئی نہ کوئی ایسی طرع ضرور اختیار کرتی ہے کہ اس کا بنایا ہوا غلط قانون بھی درست معلوم ہو ۔دنیا کا کوئی بھی انسان سچ ،عدل ،انصاف ،نیکی ،ایثار،صداقت ،دیانت اور امانت جیسی اعلیٰ صفات کا انکار نہیں کر سکتا ۔ایک ڈاکو کبھی ڈاکے کو درست قرار نہیں دے گا ۔ایک چور کبھی چوری کو اچھا نہیں کہ سکتا ۔کیوں کہ اس نے اپنی معاش کا طریقہ غلط ضرور اختیار کیا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اس غلط عمل کو درست نہیں کہلوا سکتا ۔

پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اس کے آئین کا دیباچہ چند اسلامی دفعات سے مزین ہے ۔جس میں بہت ساری شقیں درج ہیں گو اطلاقی اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن دل کی تسکین کے لیے بہر حال اسلام ہمارا سرکاری مذہب ہے ۔ہم وہ اسلامی ملک ہیں جہاں شرح سود صرف 5.75 فیصد ہے ۔صدرمملکت علما ء کرام سے یہ گزارش بھی کر چکے ہیں کہ دیگر فقہی مسائل کی طرح سود میں بھی کوئی گنجائش نکالیں ۔اس وقت ملک میں گرما گرم بحث ختم نبوت کے قانون میں کی گئی چھیڑ چھاڑ ہے ۔یہ قانون تو قائم رکھنا پڑے گا اور اپنی اصل شکل میں ہی قائم رہے گا ۔لیکن اس قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے پہلے ہماری ’’مقدس ‘‘پارلیمنٹ نے ایک ترمیم کی ہے جو آئینِ پاکستان کی شک باسٹھ تریسٹھ کے متعلق ہے ۔اور وہ ترمیم یہ ہے کہ جی ملک کے حکمران کے لیے ’’صادق‘‘ ہونا ضروری نہیں ہے ۔ملک کے حکمران کے لیے ’’امین‘‘ ہونا ضروری نہیں ہے ۔

تاریخ انسانی میں شاید یہ کوئی چوتھی یا پانچویں کوشش ہے جس میں انسانی بینادی قدروں کے خلاف ببانگ دہل یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ہم سچ کو نہیں مانتے ،ہم امانت کو نہیں مانتے ۔موجودہ نون لیگ کی حکومت کے متعلق یہ خیال تھا کہ بھٹو صاحب کی حکومت کے بعد یہ سب سے بڑے مینڈٹ کی حامل حکومت ہے ۔اب اس قانون کے پاس ہو جانے کے بعد جو اس بات کو نہیں مان رہے تھے انھیں بھی بلا تردد اسے مان لینا چاہیے ۔کیوں کہ کوئی انتہائی طاقت کی حامل حکومت ہی اس طرح کی قانون سازی کر سکتی ہے ۔قوم کے تشخص پر یہ ایک ایسا شب خون مارا گیا ہے جس کی کوئی مثال کسی بھی مہذب معاشرے میں تو کیا کسی غیر مہذب معاشرے میں بھی نہیں ملتی ۔کچھ لوگ اپنے منطقی انجام کار کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔یہ حکومت تو یہیں رہ جائے گی ۔ملک ،سلطنت،راج ،وزارتیں سب نے یہیں رہ جانا ہے ۔لیکن تاریخ لکھے گی کہ پاکستان میں ایک شخص حکومت کرتا تھا ۔نون لیگ اس کی پارٹی تھی ۔سنا ہے کہ ان میں بہت ساری خوبیاں بھی تھیں پھر ایک دن نجومیوں نے بتایا کہ اگر تم یہ قانون بنا لو تو تمہاری بادشاہت بچ سکتی ہے ۔فوری اجلاس بلائے گئے ۔ماہریں سیاست ومعاشرت و معیشت جمع ہوئے اور انھوں نے قانون بنایا کہ ’’ملک کے حکمران کے لیے صادق و امین ہونا ضروری نہیں ہے ‘‘

کیا اس وقت ملک میں سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ ایک شخص کو تما م تر قوانین سے بالا تر کیسے کیا جائے ۔کیا ملک میں قانون سازی میں اس قدر برق رفتاری دکھانے کے لیے اور کچ نہیں بچا ۔کیا سود اس معاشرے کا مسئلہ نہیں ہے ،کیا بے روزگاری کے خاتمے کے لیے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے ۔کیاملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے کسی قانون سازی کی کوئی گنجائش نہیں بچی ؟۔کیاملک میں تعلیم کی سہولتیں ہر ایک کو میسر آگئی ہیں؟ ۔کیا صحت کی ضروریات ہر شخص کو اس کے دروازے پر میسر ہیں ؟ہزار ہا معاملات ایسے ہیں جو گزشتہ ستر سال سے توجہ طلب ہیں لیکن ان کے لیے تو کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی اور ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ مزید ستر سال گزنے پر بھی نہیں ہو گی ۔لیکن اب تو قانون بن گیا ہے اب کیا ہو سکتا ہے ۔لیکن نہیں جناب ایسا نہیں ہے

اب یہ ہو گا کہ یہ قانون مطعون و ملعون ٹھہرے گا آنے والی نسلیں اس قانون کو اس کے بنانے والوں کو ،اس حکومت کو ،اس پارلیمنٹ کو ان ارکان اسمبلی پر ،ان وزراء پر ،ان ماہرین سیاست و معاشرت پر لعن طعن کریں گیں ۔اقتدار کی گردش ایک نیا موڑ لے گی سمندر بپھرے گا ،طغیانی آئے گی ۔بہت سے مجسمے غرقاب ہو جائیں گے ۔قطبے عبرت کی جولانگاہ بنیں گے ۔کیا سمجھدار دماغ اور روشن آنکھیں یہ نہیں دیکھ رہیں کہ ختم نبوت کے قانون کو جان بوجھ کر چھیڑا گیا ہے۔نیت کا فتور اس میں صاف نظر آتا ہے ۔دانستاََ اس میں ترمیم کی کوشش کی گئی ہے صرف اس لیے کہ ہمارے دیگر بنائے گئے قانون اس شور میں دب جائیں لوگوں کو اس طرف سوچنے کی فرصت نہ ملے اور جب غبار تھمے گا تب تک فاختہ اُڑ چکی ہو گی ۔جن حکمرانوں کی ذہنی پستی اس درجے کو پہنچ چکی ہو کہ وہ ختم نبوت جیسے مقدس قانون کو بھی اپنی خواہشات کے لیے بطور ایک ٹول کے استعمال کرتے ہوں ان سے قوم کو کس خیر کی توقع ہے ۔

ہماری مقتدرہ جس بندر بانٹ اور باہمی مصلحت کی پالیسی پر چل رہی ہے اس نے داخلی طور پر انھیں فرعون بنا دیا ہے ۔اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ دین کے مقدس نظریات بھی ان کی خواہشات کی بھینٹ چڑھنے لگے ہیں ۔یہ حالات کسی اچھے کل کی نوید نہیں دے رہے ۔یہ قدرت کومیزان لگانے پر مجبور کر رہے ہیں ۔جب انسانی معاشرے آفاقی نظام کے ساتھ اس طرح چھیڑ چھاڑ شروع کر دیں تو سمجھ لیں کہ ان معاشروں کے دن گنے جا چکے ہیں ۔قضاکے دروازے کھولے جانے والے ہیں ۔ہر عروج کو زوال مقدر ہے اور بہت سے شہ زور گزشتہ تیس سالوں میں عبرت کے نشان بنیں ہیں ۔میں نے سمجھدار لوگوں کو خوف کھاتے دیکھا ہے کہ اس بادشاہت کی رعونت اس درجے کو پہنچ چکی ہے کہ اس کی گردن میں خم ڈالنا ضروری ہو گیا ہے ۔اب خدا جانے انجام کار کیا ہو گا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے