جنگل کہانی

وہ جنگل دنیا کے خوبصورت ترین جنگلات میں سے تھا ، دریا اور نہریں بھی جنگل سے گزرتی تھیں جس کے باعث جانوروں کی بھی بہتات تھی لیکن افسوس جنگل میں تمام جانور ہنسی خوشی نہیں رہا کرتے تھے ،جس کی وجہ یہاں کا حکمراں یعنی شیر تھا جس نے جنگل میں عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیر رکھی تھیں جب چاہتا اور جہاں چاہتا معصوم رعایا یعنی جانوروں پر حملہ کرتا اور اپنا شکار بنا لیتا لیکن کسی کے پاس اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہ تھی لہٰذا تمام جانوروں کے مشورے سے آج جنگل کے ایک خفیہ مقام پر تمام جانور اکٹھا ہوچکے تھے لیکن پھر بھی سب ہی ایک ڈر خوف میں مبتلا تھے اور ہوتے بھی کیوں نہ ،کیوں کہ یہ جنگل کے قانون کے مطابق ایک غیر قانونی اجتماع تھا، اس کے لئے جنگل کے بادشاہ یعنی شیر بہادر سے نہ اجازت لی گئی تھی اور نہ ہی انھیں مدعو کیا گیا تھا۔ رات کے اندھیرے میں ہونیو الے اس اجتماع میں جب تمام جانور اکٹھا ہوگئے تو بی لومڑی نے بات چیت شروع کرتے ہوئے کہا کہ دنیاکے تمام جنگلوں میں ایک نیا نظام نافذ ہوچکا ہے جس کے تحت تمام جانور اپنی مرضی سے اپنا بادشاہ منتخب کرتے ہیں جس کی ذمہ داریوں میں جانوروں کی زندگیوں کی حفاظت کرنا اور انھیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی آزادی فراہم کرنا ہے جبکہ ہر جنگل میں جانوروں کو یہ بھی آزادی ہے کہ وہ جسے چاہیں اپنا بادشاہ منتخب کریں جس کے بعد بہت سے جنگلات میں اب شیر بادشاہ نہیں ہے بلکہ کہیں ہاتھی ، بھینسا اور لومڑی بھی بادشاہت کے منصب پر فائز ہیں لہٰذا ہمیں بھی اب اپنے جنگل میں ایسا ہی نظام چاہیے، لومڑی کی باتیں جانوروں کو انتہائی بھلی محسوس ہورہی تھیں، جب لومڑی نے اگلا جملہ ادا کیا تو کئی جانوروں کا دل چاہا کہ لومڑی کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر خوب ناچیں، اس نے کہا تھا کہ نئے نظام میں شیرپر یہ پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی خوراک کے لئے کسی دوسرے جنگل میں جاکر شکار کرنے کا پابند ہوجس سے جنگل کے تمام جانوروں کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں گی، جانوروں کی خفیہ محفل پورے شباب پر تھی کہ اچانک شیر کی دھاڑ نے پورے مجمع پر سناٹا طاری کردیا اس سے پہلے کہ جانور اپنی اپنی محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کرتے ،لومڑی نے ایک بار پھر چیختے ہوئے کہا کہ کسی کو جانے کی ضرورت نہیں ہے شیر سے ابھی بات کی جائے گی تاکہ جنگل میں نیا نظام نافذ کیا جاسکے، لومڑی کی کڑک دار آواز کے باعث تمام جانور رک گئے،اتنی دیر میں شیر بھی اجتماع کے نزدیک پہنچ چکا تھا اس سے پہلے کہ جانور اپنی بات شروع کرتے شیر بہادر نے چند منٹوں میں ہی اجتماع میں شریک ایک ہرن پر وار کیا اور منٹوں میں چٹ کرگیا، لومڑی نے اس پر بھی تمام جانوروں کو روک کر رکھا کہ ایک ہرن کی قربانی دیکر اگر جنگل میں نظام تبدیل ہوگیا تو ہزاروں جانوروں کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں گی، اب شیر کا پیٹ بھر چکا تھا لہٰذا دیگر جانوروں کو زندگی کچھ محفوظ نظر آنے لگی، لومڑی نے آگے بڑھ کر شیر سے کہا کہ تمام جانوروں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں جنگل کا نظام تبدیل کرنا ہے اور تمام جانور اپنی مرضی سے جنگل کا نیا بادشاہ چننا چاہتے ہیں اور نیا بادشاہ جو بھی ہوگا وہ آپ یعنی شیر بہادر کا بھی بادشاہ ہوگا اور آپ کو نئے بادشاہ کا ہر فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا ورنہ تمام جانور یہ جنگل چھوڑ کر چلے جائیں گے ، شیر بہادر بھی موڈ میں تھے پیٹ بھی بھرا ہوا تھا لہٰذا نہ جانے کس ترنگ میں انھوں نے جانوروں کو جنگل کا نظام بدلنے کی اجازت دے دی اور انھیں نیا بادشاہ منتخب کرنے کی اجازت بھی دے دی، لومڑی نے یہاں بھی اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر بادشاہ منتخب کرانے کا اعلان کردیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگلی صبح شیر بہادر کاموڈ تبدیل ہوگیا تو کیا ہوگا، بہرحال رائے دہی کا استعمال شروع ہوا بادشاہت کے لئے شیر، ہاتھی اور گینڈے میدان میں اترے تمام جانور پہلے ہی شیر کو رد کرچکے تھے لہٰذا تمام جانوروں نے طاقت اور عقل کے حساب سے ہاتھی کو سب سے زیادہ ووٹ دیکر نیا بادشاہ منتخب کردیا، جبکہ ہاتھی نے اپنے پہلے فیصلے میں لومڑی کو اپنا مشیر مقرر کردیا، اور پھر اسی وقت لومڑی کے مشورے سے ہاتھی جو جنگل کا نیا بادشاہ بن چکا تھا حکم صادر کیا کہ شیر آج کے بعد سے اس جنگل میں کسی بھی جانور کو اپنے شکار کا نشانہ نہیں بنائے گا اور شکار کرنا لازمی بھی ہو تو اسے دوسرے جنگل میں جاکر شکار کرنا ہوگا، ہاتھی کے حکم پر پورا جنگل خوشیوں اور تالیوں سے گونج اٹھا ،رات بھر جشن منایا گیا جبکہ شیر اپنے غلط فیصلے پر پچھتاتا رہا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ جنگل کے جانور شیر بہادر کی طاقت سے مرعوب ہوکر اسے ہی بادشاہ منتخب کریں گے لیکن جانور اب سمجھ دار ہوچکے تھے جبکہ ہاتھی اور اس کی مشیر لومڑی مل کرشیر کے لئے مشکلات پیدا کرسکتے تھے ،شیر نے بھی سوچ رکھا تھا کہ کسی بھی مناسب وقت پر وہ اپنی بادشاہت واپس لے کر رہے گا جس کے لئے اس نے منصوبہ بندی شروع کردی، کئی ماہ جنگل میں سکون سے گزرے جانوروں کو جنگل جنت لگنے لگا، سب کی زندگیاں محفوظ تھی،جنگل میں اب دوسرے جنگلوں سے بھی جانور آکر رہنے لگے تھے جبکہ شیر کو اپنی خوراک کے لئے دوسرے جنگلوں میں جاکر شکار کرنا پڑ رہا تھا۔ ہاتھی بھی بادشاہ بن کر خوش تھا جبکہ لومڑی بھی اپنی عقل سے جنگل کا نظام چلانے میں ہاتھی کی مدد کررہی تھی، جنگل میں تمام ہی جانور خوش تھے سوائے شیر کے جس کی بادشاہت چھن گئی تھی اور وہ سامنے آکر ہاتھی کے سامنے مزاحمت نہیں کرسکتا تھا کیونکہ لومڑی اس کی ہر سازش ناکام بنادیتی لہٰذا شیر اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک لومڑی ہاتھی کے پاس
بطور مشیر موجود ہے اس وقت تک و ہ اپنی بادشاہت لینے میں کامیاب نہیں ہوسکتا لہٰذا کسی بھی طرح لومڑی کو اپنے ساتھ ملانا ہے جس کے بعد شیر نے لومڑی کو اپنے پاس کھانے پر بلایا، اس کی عقل مندی اور ہاتھی کے لئے اس کی مشاورت کی تعریف بھی کی، پھر شیر نے اسے اپنی تکلیف بیان کی جب سے بادشاہت گئی ہے اس کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر بادشاہت واپس چاہتا ہے، جس کے لئے وہ ہر قیمت ادا کرنے پر تیار ہے۔ کافی دیر سوچ بچار کے بعد لومڑی کی آنکھوں میں چمک آگئی ،وہ شیر سے بولی ٹھیک ہے کہ تمہیں بادشاہت واپس مل سکتی ہے لیکن اس کی بھی قیمت ادا کرنا ہوگی شیر نے فوراً کہا مجھے ہر قیمت منظور ہے ،جس پر لومڑی نے جواب دیا تو پھر سنو اس کی قیمت بادشاہت ہوگی، شیر غضبناک ہوتے ہوئے بولا بادشاہت کے لئے تو سب کررہا ہوں بادشاہت کیسے دے دوں، لومڑی نے جواب دیا کہ میں جنگل میں ایسے حالات پیدا کردوں گی کہ سب ہاتھی سے نالاں ہوکر اسے بادشاہت سے ہٹانے پر تل جائیں گے جس کے بعد میں جنگل کی بادشاہت سنبھال لوں گی جس پر سب جانور راضی بھی ہوجائیں گے لیکن جنگل میں اصل حکمرانی تمہاری چلے گی، شیر کو یہ بات پسند آئی جس کے بعد فیصلہ ہوا کہ لومڑی جنگل میں حالات خراب کرے گی جس میں شیر ہر ممکن مدد کرے گا تاکہ بادشاہت ہاتھی سے لی جاسکے ،اب جنگل کے حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں ہاتھی کی حکومت کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے، لومڑی کو بادشاہت بھی مل سکتی ہے صورتحال پیچیدہ ہے۔ اس وقت ہاتھی اپنے ہی قبیلے کی رکن لومڑی اور شیر کے ساتھ دست و گریباں ہے۔ جنگل میں آنے والی کسی بھی تبدیلی سے آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے