’نیب ریفرنسز کی سماعت فوج کی نگرانی میں کروائی جائے‘

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کے دوران عدالت کی سیکیورٹی کے لیے فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کردیا۔

عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی پیشی کے دوران اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حربے جج کو حراساں کرنے کے لیے استعمال کیے گئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتساب عدالت کی سیکیوٹی رینجرز یا آرمی کے حوالے کی جائے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آئینی ترمیم پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

پی اے ٹی کے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ شریف برادران آئین اور عدالت عظمیٰ کی بالادستی پر یقین نہیں رکھتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ امریکا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف لابنگ کرنے کے لیے تھا جبکہ حکمراں پاکستان کو مسائل کی طرف دھکیل رہی ہے۔

ماڈل ٹاؤن سانحے کے ریکارڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریف برادران کو بچانے کے لیے فیصل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ماڈل ٹاؤن سانحے کے ریکارڈ کو آگ لگادی گئی۔

تاہم انہوں نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو ماڈل ٹاؤن سانحے کا ذمہ دار قرار دیا۔

طاہر القادری کا مزید کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کوئی اہم دستاویزات جلا دی گئی ہوں، کیونکہ ماضی میں 2 ارب روپے کی کرپشن بچانے کے لیے میٹرو بس پروجیکٹ کے ریکارڈ کو آگ لگا دی گئی اس کے علاوہ ستمبر 2014 میں الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کو نظر آتش کیا گیا جبکہ نندی پور پاور پروجیکٹ کا ریکارڈ بھی پر اسرار طریقے سے غائب کیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما محمود الرشید کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنسز کی سماعت کو احتساب عدالت سے منقل کرکے سپریم کورٹ میں فوج کی سیکیورٹی میں کرائی جائے۔

پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کنہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ماضی میں عدالتوں اور ججز کو دھمکی دینے کے حوالے سے مشہور ہے جبکہ انہوں نے ماضی میں بھی عدالتی کارروائیوں کے دوران عدالتوں میں افرا تفری پیدا کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ حکمراں جماعت کے حامی وکلا کی جانب سے ہنگامہ مچانے پر از خود نوٹس نہیں لیتی تو پھر یہ کیس آئندہ چھ برس میں بھی مکمل نہیں ہوگا۔

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی اس ہنگامہ آرائی سے ثابت ہوا ہے کہ نواز شریف جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ اپنے حالیہ متنازع بیان پر قوم سے معافی مانگیں ورنہ اپوزیشن پنجاب اسمبلی کی کارروائی کی اجازت نہیں دے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے