صحافی لکیر کا فقیر نہیں ہوتا

بچہ ابھی آغوشِ مادر میں ہی ہوتا ہے،وہ ماں کا دودھ پی کر تھوڑی دیر بعد سوجاتا ہے، لیکن کوئی ہے جو اس کے حقوق کے لئے جاگتا رہتا ہے، جو آج کے اس ظالم سماج میں بچوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتا ہے ، جو معاشرے میں یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر کیوں ایک گھر کا بچہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتا ہے اور دوسرے گھر کا بچہ ننگے پاوں چلتا ہے۔

کچھ سالوں بعد بچہ سکول میں داخل ہوجاتا ہے لیکن کوئی ہے جو اس بچے کے لئے معیاری تعلیم کا مسئلہ اٹھاتا ہے، جو سارے بچوں کے لئے یکساں نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتا ہے، پھر بچہ کالج میں داخل ہوجاتا ہے، محنت کے باوجود اسے میرٹ پر نوکری نہیں ملتی، بچہ رشوت دے کر نوکری حاصل کر لیتا ہے لیکن کوئی ہے جو میرٹ کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور میرٹ کو پامال کرنے والوں کو للکارتا ہے۔

معاشرے میں عملی زندگی کا حصہ بننے کے بعد کل کے بچے اور آج کے نوجوان کو یقین ہوجاتا ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا لیکن کوئی ہے جو رشوت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور رشوت خوروں کے سکینڈل سامنے لاتا ہے۔

یہ نوجوان چند سالوں کے اندر اس حقیقت کو درک کرتا ہے کہ ہماری اس دنیا میں رشوت ، سفارش اور دھونس کے بغیر پولیس بھی کسی کے کام نہیں آتی، لیکن کوئی ہے جو رشوت ، سفارش اور دھونس والوں کو بے نقاب کرتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں، قتل کروایا جاتا ہے اور اس پر مقدمات قائم کئے جاتے ہیں۔

نسل در نسل کتنے ہی بچے اس دنیا میں جنم لیتے ہیں، پروان چڑھتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں نوکریاں کرتے ہیں لیکن وہ اس سے بے خبر رہتے ہیں کہ کوئی ہر لمحے ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہا ہے ، کوئی ان کے حقوق کے لئے دھمکیاں برداشت کر رہا ہے ، کوئی ان کی فلاح و بہبود کے لئے راتوں کو جاگ رہا ہے۔

جی ہاں ! وہ مسلسل جاگنے والا، جدوجہد کرنے والا ، دھمکیاں اور الزامات برداشت کرنے والا،ظالموں کو للکارنے والا، رشوت خوروں کو بے نقاب کرنے والا، منہ زور سیاستدانوں اور اداروں سے ٹکر لینے والا کوئی اور نہیں اس ملک کا ہر دیانتدار ، باشعور اور مخلص صحافی ہے۔

دنیا میں بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ صحافت ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک مشن ہے اور قلم لکھنے کا آلہ نہیں بلکہ انسانیت کی آبرو ہے۔
ہر صحافی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عینک کے شیشے جیسے ہوتے ہیں ، انسان کوویسا ہی دکھائی دیتا ہے، شیشے سرخ ہوں تو سب کچھ سرخ اور اگر سبز ہوں تو سب کچھ سبز دکھائی دیتا ہے، انسان کی محبت اور عقیدہ بھی ایک عینک کی مانند ہے، انسان جب اپنے دماغ پر کسی کی محبت یا کسی قسم کے عقیدے کی عینک چڑھا لیتا ہے تو پھر اسے سب کچھ اپنی محبت اور عقیدے کے مطابق دکھائی دینے لگتا ہے۔

لہذا ایک صحافی کو لکیر کا فقیر بننے کے بجائے ہمیشہ آزادانہ طور پر تحقیق کرنی چاہیے۔مثلا کوئی بھی پاکستانی صحافی اس لئے پاکستان سے محبت نہیں کرتا کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوا ہے اور اس کے ماں باپ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ بلکہ ایک صحافی جب اپنے وطن سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کی تاریخ پر تحقیق کرتا ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں پر انگریزوں اور ہندووں نے کیا کیا مظالم ڈھائے تھے اور انگریزوں اور ہندووں کے تسلط سے نجات کے لئے مسلمانوں نےیہ ملک بنایا تھا ۔ ایک محقق صحافی پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ کے نعرے کو تحقیق کے بعد دل و جان سے قبول کرتا ہے اور وطن عزیز کی حفاظت کے لئے اپنی جان تک نثار کرنے کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے۔

اسی طرح کسی بھی صحافی کو امریکہ و اسرائیل سے خواہ مخواہ بغض نہیں ہونا چاہیے بلکہ تحقیق کے ساتھ معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ کیوں پاکستان اور عالم اسلام کا دشمن ہے اور اسرائیل کیا ہے؟ کب وجود میں آیا ؟ اس نے فلسطینیوں پر کیامظالم ڈھائے ہیں؟

اب رہی بات مسنگ پرسنز یا سعودی عرب اور ایران کی تو اندھا دھند کاپی پیسٹ کرنے کے بجائے ایک دانشور، صحافی اور محقق کو پوری زمہ داری کے ساتھ دوطرفہ ممالک کی تاریخ ، تعلقات اور اہداف کا مطالعہ کرنا چاہیے، جب تک کوئی صحافی اپنی عقل پر لگی ہوئی عینک کو اتار نہیں دیتا تب تک وہ نہ ہی تو حقیقت کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی حقیقت کو بیان کر سکتا ہے۔

حقیقت بیانی کے لئے ضروری ہے کہ صحافی حضرات سب سے پہلے اپنے دماغ پر لگی ہوئی مختلف عینکوں کو اتاریں،مکمل طور پر حالات و واقعات کا مطالعہ کریں اور حق بات کو قبول کریں خواہ ان کے عقیدے،پارٹی اور مسلک کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

مسنگ پرسنز کا مسئلہ آئین پاکستان کی بالا دستی اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، اس مسئلے پر صحافیوں کو لکیر کے فقیر کی طرح خاموشی نہیں اختیار کرنی چاہیے چونکہ صحافی لکیر کا فقیر نہیں ہوتا بلکہ لکیر شکن ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے