پمز کا مسلہ فوری توجہ طلب۔۔۔!!!

جمعرات کی شام اچانک طبیعت خراب ہوئی تو برادرنسبتی واجد یاسین نے کمر سے شروع ہوکربائیں بازو میں شدید درد، تکلیف کی نوعیت اورعلامات کے نقطہ نظر سے اس کو سنجیدہ لیتے ہوئے مجھے جی نائین میں گھر کے قریب اور وفاقی دارلحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پمز لے جانے کا فیصلہ کیا۔۔میں نے کہا یار کوئی مسلہ نہیں ہے مسل پل ہوگیا ہے شاید لیکن وہ نہ رکا اور مجھے بازو سے پکڑ کر گاڑی میں بیٹھایا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیز کی ایمرجنسی میں لے گیا۔ایمرجنسی میں پہنچے تو لوگوں کی لمبی قطاریں۔۔۔اندرونی منظر انتہائی خوفناک مریض بے حال نرس نہ سٹاف اور ڈیوٹی پر موجودنوجوان ڈاکٹرز جتنی بھی سپیڈ ماریں کتنے مریضوں کو دیکھیں سکتے ہیں ۔۔۔ہرطرف آہ و زاری اور ہائے۔۔ہائے۔۔کی آوازیں۔۔ایمرجنسی میں میٹرو نیوز ٹی وی کے بیورو چیف حبیب الرحمن سے بھی ملاقات ہوگئی وہ بھی ہماری طرح اپنی باری کے انتظار میں تھے۔۔ہمارے دونوں کے سامنے ایک نوجوان مسلسل خون کی الٹیاں کر رہا تھا۔۔۔اس صورتحال کو دیکھ کر سچ بتاوں تو مجھے تو اپنی تکلیف بلکل ہی بھول گئی۔

۔کتنی بدقسمتی ہے اس ملک کے عوام کی کہ مسلہ ڈاکٹرز پیرامیڈیکل سٹاف اورحکومت کا ہے اور پس رہے ہیں عوام۔۔پمز میں اوسط تین ساڑھے تین ہزار مریض روزانہ آتے ہیں ،خون کی الٹیاں کرنے والا نوجوان معلوم نہیں بچا ہوگا یا نہیں مگر پچھلے چودہ روز سے مریضوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے انکو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں خدانخواستہ کسی کو جانا پڑئے تو معلوم ہوجتنا مریضاس صورتحال سے متاثر ہورہے ہیں۔۔۔اب آجائیں پمز کےپروفیسر،ڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکس اوردیگرسٹاف اور ملازمین کے اصل مسلہ کی طرف وہ کیوں احتجاج پر اتر آئے ہیں ۔پمز ملازمین نےپاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے بارے حکومت کی طرف سے مجوزہ ترمیمی بل سے متعلق نوٹیفکیشن کومستردکیا اور مطالبہ کیا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے تحت فی الفور پمز کو میڈیکل یونیورسٹی سے علیحدہ کیا جائے۔مجھے جس ڈاکٹر نے چیک کیا اس سے میں استفسار کیا تو اس کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پمز ہسپتال میں پیارے پاکستان کے عوام میڈیکل کی سہولت سے مفت استفادہ کریں تاہم حکومت اس کے برعکس سوچ رہی ہے اس لیے احتجاج کر رہے ہیں۔پورے معاملے کی تہ تک جانے کی بجائے میرا موقف ہے کہ ہوسکتا ہے پمز ملازمین کی طرف سے کئے جانے والے مطالبات درست ہوں۔۔یاارباب اختیار کی رائے سعد ہو۔

۔ ہڑتال کے باعث او پی ڈی بند ہے جبکہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کا ٹیمپریچر اور بی پی تک چیک کرنے والا سٹاف نہیں ہے ہارٹ سمیت کوئی جتنا بھی سنجیدہ مریض آئے اس کو نارمل کی طرح ڈیل کیا جارہا ہے۔۔اس سے پہلے کے مزید مریض متاثر ہوں اور خدانخواستہ کسی انسان کی جان جائے یہ بھرپور توجہ طلب مسلہ ہے جس پر حکومت اور متعلقہ ارباب اختیار کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے