حسین ،جاگیر بنی نوع بشر

حسین اورکربلا بنی نوع بشر کی جاگیر ہے

عام تاثر یہ کہ اربعین کے لئے کربلا پہنچنے والے زائرین صرف شیعہ مسلمان ہیں ،
یہ ایک غلط تاثر ہے

کل ہی میرے ایک دوست جن کا تعلق اہل سنت سے ہے مجھ سے بولے کہ میں اس سال اربعین یعنی(چہلم) منا نے کربلا جانا چاہتا ہوں لہذا اس حوالہ سے آپ میری مدد کریں میں نے ازراہ مذاق ان سے پوچھا آپ کب سے شیعہ بن گئے ہیں ؟

انہوں نے بھی ازراہ مذاق مجھے جواب دیا ، کربلا کا ٹھیکہ آپ کو کس نے دیا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ کربلا اور حسین کسی مکتب فکر کی جاگیر نہیں یہ بشریت کی جاگیر ہے اور حسین بنی نوع بشر کے آزاد منش جواں مردوں کاامام اور کربلا بنی نوع بشر کے ہر طبقہ کے لئے تاقیامت کھولی گئی یو نیورسٹی ہے .

حسین اور کربلا بنی نوع بشر کی رنگ ،نسل ، زبان، مشرق ومغرب کی تفریق کو مٹاکر انسانیت کے ایک ہی دھا گے میں پرو نے کا نام ہے جوش ملیح آبادی نے اسی وحدت کی طرف اشارہ کیا تھا(انسان کو بیدار تو ہولینے دو ۔۔۔۔ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین )

حسینی بننے کے لئے، شیعہ ہونا ضروری نہیں ، حسین کی معرفت ضروری ہے .

میرے ا ہل سنت دوست کا کہنا تھا کہ میں نے بہت سوچا اربعین کا اجتماع دنیا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے اور اس اجتماع میں ہر مسلک ہر رنگ کا انسان شریک ہوتا ہے اور امام انسانیت کے حضور ان کی جرات وحمیت کی داد دیتے ہوئے ان سے حریت کی بھیک مانگنے کے لئے جایا جاتا ہے

میں نے حکیم امت علامہ اقبال کے اس شعر پر بہت ہی غور کیا( بیاں سر شہادت کی اگر تفسیر ہوجا ئے ۔۔۔۔۔مسلمانوں کا قبلہ روزضہ شبیر بن جائے )

برصغیر کے مسلمانوں میں جس نے امت مسلمہ کو بیداری کا شعور دیا جس نے اسلام کی روح کو پہچانا وہ حکیم ملت علامہ اقبال تھے انہوں کس بنیاد پر روضہ شبیر کو مسلمانوں کےلئے کعبہ کا درجہ دیا، اس شعر نے مجھے امام انسانیت کی طرف متوجہ کیا اور میں سر شہادت کی تفسیر تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور آج میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک میں کربلا پہنچ کر امام انسانیت کے روضہ کو چھو نہ لوں تب تک سرشہادت کی تفسیر نامکلمل رہے گی .

میں نے کہا میاں پہلے کچھ مسلمانوں کے لئے حج وعمرہ معاش کا بہترین ذریعہ قرار پائے تھے اور قافلہ سالار بے چارے غریب مسلمانوں کی کھال ادھیڑتے تھے، اب حسین اور کربلا کے نام پر کچھ مسلمانوں نے اربعین کے نام پر نئی دوکانیں کھول رکھی ہیں اور مکہ ومدینہ کی رہی سہی کسر کربلا کے نام پر نکال دیتے ہیں اور بالخصوص مکہ مدینہ کربلا میں پاکستان کے بھکاری سال بھر کے اخراجات کا بندوبست کرتے ہیں اور پاکستان کانام خوب بدنام کرتے ہیں ،

میں نے اپنے دوست کو پہلے ہی متوجہ کیا کہ قافلہ میں شریک ہر فرد سر شہادت کو سمجھ کر روضہ شبیر پر حاضر نہیں ہوتا اس لئے آپ کے ساتھ ہر طرح کا سلوک ہوسکتا ہے جس طرح سفر حج میں ہوتا ہے.

میرے دوست نے کہا ، یہ سفر عشق کا سفر ہے اور سفر عشق میں درد نہ ہو تو عشق کے خالص ہونے میں شک ہوگا، میں کربلاکے راستہ میں رہتا ہوں اور میں بھی پہلے یہ سمجھتا تھا کہ اربعین منانے صرف شیعہ مسلمان ہی جاتے ہونگے ، مگر میرے دوست نے میری غلط فہمی دور کردی . اور یہ ایک حقیقت ہے اربعین کا اجتماع دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے اس عظیم اجتماع میں عزت واحترام مسا لک ومذاہب میں آشتی رنگ نسل زبان میں اختلاف ضرور ہوتا ہے مگر یہ اجتماع سب کچھ بھول کر یک زبان ہوکر لبیک یاحسین کا نعرہ لگا کر جوش ملیح آبادی کے اس شعر کو شرمندہ تعبیر کرتا ہے .

ہرقوم پکاری گی ہمارے حسین ، سنی شیعہ بریلوی دیوبندی اہل حدیث عیسا ئی یہودی ہندو زرتشت بدھ مت سب زبان پر حسین کا نام سجتا ہے اور حسین کانام تفریق کو مٹاکر یذیدیت کے خلاف عالم انسانیت کو وحدت کے دھاگے میں پرو دیتا ہے ،
کربلا اب بھی حکومت کو کچل سکتی ہے ۔۔۔
کربلا تخت کو تلووں سے مسل سکتی ہے
کربلا خارتو کیا آگ پہ چل سکتی ہے
یزید مسلمان عیسائی یہودی ہندو بدھ مت ہر بھیس میں ہوسکتا ہے
اور یزید وقت کے خلاف اٹھنے والا مسلمان عیسائی یہودی ہندو بدھ مت بھی ہوسکتا ہے اس لئے نہ ہی کربلا اور نہ ہی حسین کسی مکتب فکر کی جاگیر ہے

حسین اور کربلا بنی نوع بشر کی جاگیر ہے
انسان بیدار ہو رہا ہے اور کربلا پہنچ کر حسین سے بیدار رہنے کی خیرات مانگ رہا ہے کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ بیدار ہونا کافی نہیں ہوتا بیداری کو برقرار ومستحکم رکھنا ضروری ہے اور بیداری میں تسلسل واستحکام حسین کی مدد کے بغیر ناممکن ہے ( )

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے