سر رہ گزر ہتھ کنڈے اور ہتھکڑیاں

جس معاشرے میں خوف یزداں نہ ہو وہا ںخوف بندگان کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں آخر ہم سے ایسا کیا ہو گیا ہے کہ ایک دوسرے سے ڈرتے رہتے ہیں، شاید ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور ہتھکڑیوں سے ڈر لگتا ہے، ہمارے لہجوں میں حکم دینے کا عنصر کیوں شامل ہوتا ہے، ممکن ہے ہم ایک طویل عرصے سے خود کو غالب دوسرے کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاست، جمہوریت، مذہب، اخلاقیات علم الغرض ہر چیز کو حکم سے منوانے کا شوق ہے دلیل سے نہیں، ضروری نہیں کہ ہماری بات حکم کے انداز میں ہو دراصل ہماری سوچ حکمیہ ہے، حاکم بُرا نہیں ہوتا اس کی حکمیہ ذہنیت اچھی نہیں ہوتی، کیونکہ یہی وہ میکانزم ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے، کیا ہم سب جابر بھی ہیں مجبور بھی، کہیں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، اور ہم سب اپنی ساری توجہ اس پر مرکوز کر دیتے ہیں، اس کے نتیجے میں کسی فرد کے ناگزیر ہونے کا عقیدہ جنم لیتا ہے اور اسی سے ہیرو ور شپ پیدا ہوتی ہے جو دل کو دماغ کو صنم کدہ بنا دیتا ہے، عالم اپنے علم کے ذریعے طالب علم کو مرعوب کرتا ہے اسے علم نہیں دیتا، اور یہیں سے خوف زدہ کرنے اور ہراسانی کے ہتھکنڈے پھوٹتے ہیں، اہل دانش، غور و فکر کرنے کی طرف راغب نہیں کرتے یہ باور کراتے ہیں کہ عوام کتنے احمق ہیں، یہی نکتہ اہل سیاست نے اچک لیا اور انسانوں پر حکمرانی کے بہانے دھونس جمانے لگے، جہالت کو علم کے ذریعے عام کیا جاتا ہے تاکہ پڑھ لکھ کر بھی کوئی اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ نہ ہو سکے، علم امانت ہے جسے عام کرنا فریضہ، علم تلوار کا دشمن ہے، اور وار کا مخالف، امانت دینے والا اگر حکم دے تو تلوار قلم ہے اور تاریخ رقم کرتی ہے مگر اپنے حکم سے تلوار اٹھانا بے علم ہونے کا بڑا ثبوت ہے، آج وہی حکمران، وہی نظام، وہی عالم، وہی رہنما، وہی ادوار زندہ ہیں جن کے ذریعے امانت حق دار تک پہنچائی گئی اور جن میں رعونت کا شائبہ تک نہ تھا، مسلط ہونے کا شوق ہی ڈبوتا ہے، عجز و نیاز سے بھلائی پھیلانے کا ذوق امر کر دیتا ہے۔
٭٭٭
دراڑ اور غار
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے:ہمالیہ کی طرح مضبوط ن لیگ میں دراڑوں کے خواہش مند دماغی معائنہ کرائیں، بھلا وہ دماغی معانئے کیوں کرائیں یہ تو ایک طرح سے ایسے خیالات کے مالک افراد کو صاحبِ دماغ تسلیم کرنے کے مترادف ہے، کسی کے دماغی صلاحیت سے عاری ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کسی کے زوال میں اپنا سورج تلاش کرے، ایسی سوچ پراگندہ و گندا ہے جس کا حامل بھی کوئی بندہ ہے؟ وزیر اعلیٰ صاحب کو ہمالیہ بہت پسند ہے، چین کے ساتھ ہمالیہ سے اونچی اور قلزم سے گہری دوستی کے موجد بھی وہ ہیں اور پنجاب کی تعبیر بھی وہ ہیں، کچھ لوگوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ سارا پنڈ فوت ہو جائے تو وہ بھی چوہدری بن جائے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی عوامی پارٹی کے پاس پارٹی ہو عوام نہ ہوں، ہم بیجا تعریف سے بچنے کے لئے اتنا تو کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت اگر تقابل کیا جائے تو پنجاب کی صورتحال بہتر ہے، ہمیں پہلے خود سے پھر جملہ اہل وطن سے گلہ ہے کہ ہم سب شعوری لاشعوری سطح پر اپنے دین کو اختیار کرنے کے بجائے اسے اپنے سفلی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، مثلاً ارباب سیاست نے بھی دین اسلام کی ست رنگی چھتری تان لی ہے، جبکہ دین اپنے معنیٰ کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی قربت ہے، ہم خدا خدا کر کے جرم کے قریب جاتے ہیں حالانکہ اللہ اللہ کر کے اللہ کے قریب جانا چاہئے۔ سیاسی لیڈرز ہوں یا حکمران برائی کی خاطر دوسروں کی برائیاں تلاش کرنے پر ہمہ وقت ریسرچ کرتے رہتے ہیں، اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ معاشرے سے ظلم، کرپشن وغیرہ ختم کرنا ہمارا اولین مقصد اور پہلی ترجیح، جبکہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں سے آگاہ ہے، ایک عقیدے کی مسجد دوسرے عقیدے کی مسجد سے اس لئے اونچی بنائی جاتی ہے تاکہ اسے نیچا دکھایا جائے حالانکہ سارے گھر خدا کے ہیں، اور ان کی بنیادیں مقابلے پر نہیں تقویٰ پر رکھی جانی چاہئیں، ن لیگ میں دراڑ ڈھونڈنے والے اپنے اندر کے غاروں کو تلاش کریں۔
٭٭٭
ملاوٹ کی کٹوری میں کیمیکل بتاشہ
سنا ہے کہ پرانے زمانے کے بادشاہ چاندی کے کٹورے میں پانی پیا کرتے تھے، کہتے ہیں آج سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ چاندی اینٹی زہر ہے، مگر بادشاہ اس کے باوجود کسی اور طرح سے مر جاتے تھے، حاصل کلام یہ کہ کوئی چیز اینٹی موت نہیں، اس لئے خدا کا خوف کرنا چاہئے اور آخرت کے لئے اعمال صالحہ کا زادِ راہ تیار رکھنا چاہئے، ہم بھی کیسے بادشاہ لوگ ہیں کہ ملاوٹ کی کٹوری میں کیمیکل بتاشہ گھول کر پی لیتے ہیں اور پھر بھی جیسے تیسے جی لیتے ہیں۔ میڈیا اب اتنا وائرل اور ملاوٹ کا ویری ہو گیا ہے کہ ہر روز کوئی نہ کوئی چینل کسی ملاوٹ خانے کی سیر کرا دیتا ہے، اور اب تو یہ حال ہو گیا کہ کوئی چیز بھی کھانے پینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ جو کھا پی رہا ہوں کیا یہ واقعی وہی چیز ہے جو میں استعمال کرنا چاہتا تھا، ایک صاحب نے کہا بس اب صرف پانی ہی خالص رہ گیا ہے، گزارش کی کہ اس میں بھی واسا گٹر کا پانی ملا دیتا ہے، اور دور کیا جائیں ہم سب انسان با جماعت آکسیجن میں بھی مختلف طریقوں سے ملاوٹ کرتے ہیں، مثلاً میری دیوار کے ساتھ خالی پلاٹ میں ایک گوالے نے بھینسیں باندھ رکھی ہیں، جن کے بول و براز کے باعث میں اپنے صحن کا رخ نہیں کرتا زادیہ نشین ہو گیا ہوں گویا حالات نے مجھے چلہ کش صوفی بنا دیا ہے، خبر دیکھی کہ یہ جو خشک دودھ سے چائے بنا کر پیتے ہو یہ بھی دودھ نہیں سفیدی ہے، چونا ہے جو قہوے کی سیاہی کو سانولا بنا دیتا ہے، اور یہ بھی لکھا تھا کہ خشک دودھ بنانے والے قانوناً پابند ہیں کہ وہ اس پر لکھیں یہ دودھ نہیں (کچھ اور ہے) جو مضر صحت ہے۔ آتش بازی سے بھی فضا آلودہ ہو جاتی ہے مگر اب تو ہر شادی پر آتش بازی اور ہوائی فائرنگ عام ہے، اس طرح تو گوری دلہنیں کالی ہو سکتی ہیں۔ دلہنوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہئے شاید حکومت پنجاب ان کی ہی سن لے۔
٭٭٭
جمالی، جلالی ہو گئے!
….Oپیر پگارا نے پیشگوئی کی ہے کہ 2018کے الیکشن نہیں ہوں گے،
ہم تو کہتے ہیں سراج الحق کی بات مان لی جائے پہلے احتساب ہو لینے دیں۔
….Oجرمنی، ذہنی معذور شخص کا خنجر سے حملہ 8 افراد زخمی،
ایک ہم ہی نہیں تنہا اس دنیا میں چھرا مار ہزاروں ہیں!
….Oمیر ظفر اللہ خان جمالی (ن لیگ):نواز شریف میرے لیڈر نہیں عباسی پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،
جمالی صاحب کا یہ جلالی روپ ہے، اس لئے عباسی صاحب محتاط رہیں۔
….Oوزیر داخلہ احسن اقبال:سازشوں میں کون شریک، عوام جانتے ہیں۔
خود ہی بتا دیں وہ کون ہے جو سازشیں کرتا ہے ن لیگ نہیں، پیپلز پارٹی نہیں، پی ٹی آئی نہیں، کوئی نہیں!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے