بہادر باپ کی بہادر بیٹی

کئی روز قبل جب پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان کی کچھ تصاویرکو لے کر نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا پربھی خوب بحث کی گئی تو میں نے ماہرہ خان پر تنقید کرنے والوں کو پاکستان کے سب سے بڑے بےوقوف قرار دیا تھا کیونکہ سوشل میڈیا یا یاالیکٹرانک میڈیا پر ذاتی نفرت یا ذاتی بغض کی بنیاد پر آپ کسی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ تو پھیلا سکتے ہیں مگرانہیں کمزور نہیں کر سکتے۔ البتہ ان حرکات سے آپ انہیں مظبوط ضرور بنا رہے ہیں۔

اگر آپ کسی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو اپنی بات میں ٹھوس دلیل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کا بھی خیال رکھئے۔ ماہرہ خان اداکارہ ہے۔ وہ فلم شوٹنگ کیلئے کچھ بھی پہنے مجھے اس سے اختلاف اور اس کے کام سے شدید نفرت تو ہو سکتی ہے لیکن اس کی ذات سے دشمنی ہرگز نہیں۔ بلکہ مجھے ان کے کام سے جتنی نفرت ہے، اس کے برعکس اس کی ذات کا اتنا ہی ادب و احترام ہے کیونکہ وہ بھی میری طرح عام مسلمان، انسان اور اس سے بڑھ کر ایک خاتون ہیں۔

میرا مذہب تو مجھے نہ صرف مسلمان بلکہ تمام تر لوگوں، خواہ وہ مرد ہو یا خاتون، کی عزت و تکریم کا درس دیتا ہے تو پھر میں خطاکار کون ہوتا ہوں ذاتی گناہ اور ثواب کی بنیاد دوسروں کے جزا و سزا کے فیصلے کرنے والا؟ میں کسی بدکار کے لئے اپنے سمیت اس کی ہدایت کی دعا تو کر سکتا ہوں مگر کسی کو گالم گلوچ کر کے روز محشر ان کے گناہ اپنے سر نہیں لے سکتا کیونکہ حقوق اللہ کی کوتاہی پر تو بخشش ممکن ہے مگر حقوق العباد کی ذرہ برابر کمی پر بھی سزا ملے گی۔

آج دفتر سے واپسی پر راستے میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے بہت ہی قریبی دوست و قلم کار رجب علی فیصل کے فون پہ فون آنا شروع ہو گئے۔ معمول کے مطابق کی جانے والی کالز سمجھ کر نظر انداز کر دیا لیکن گھر پہنچ کر رابطہ کیا تو خیر و عافیت کے بعد تشویشناک لہجے میں انہوں نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ سر پر دوپٹا اوڑھے، کوٹ پینٹ پہنے دیکھی جا سکتی ہے۔ کیا اس سے متعلق آپ کو کچھ علم ہے؟ چونکہ مجھے پتہ نہ تھا لہٰذا ان سے درخواست کی کہ جن سوشل میڈیا اکاونٹس پر یہ سب تماشہ جاری ہے مجھے بھی بھجوا دیں۔

پھر دیکھا کہ نہ صرف ملالہ بلکہ ان کے والد محترم کے خلاف بھی عجیب قسم کی نازیبا گفگتو کی جا رہی تھی۔ یقین مانئے ضیاءالدین یوسفزئی کے خلاف یہ سب پڑھ اور دیکھ کر مجھے وہ درد اور دکھ دوبارہ شدت سے محسوس ہونےلگا جب علاقائی وڈیروں نے میری گستاخیوں کی وجہ سے سرعام مجھے اور میرے والد کو قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں گاؤں کی گلیوں میں گھسیٹا تھا۔

میں کافی دیر تک مختلف پروپینڈہ پھیلانے والوں کے بارے میں سوچتا رہا کہ کاش یہ ملالہ کے والد کو ذاتی طور پر جانتے نہ کہ بغیر جانے پہچانے اور اس تصویر جس میں بظاہر کوئی خامی بھی نہیں دیکھنے سے قبل اس قسم کے الفاظ کا استعمال نہ کرتے۔ ضیاءالدین صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر پھر اچانک خیال آیا کہ پہلے تصویر تو چیک کر لوں۔ تاہم جب تصویر دیکھ لی تو رابطہ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی کیونکہ مجھے اس تصویرمیں کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ لہٰذا بطور طالب علم صحافی یہ بھی بہتر انداز میں پتہ ہے کہ ملالہ اگر برقعہ بھی پہن لے تو بغض کے مارے ایک طبقہ نے ان کے خلاف ہر صورت جھوٹے الزامات کی ٹھان رکھی ہے۔

دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس
عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے

ضیاءالدین یوسفزئی بہادر بیٹی کے ایک بہادر باپ ہیں۔ میرا ان سے نظریاتی اختلاف تو ممکن ہے مگر میں ان کی کاوشوں کا معترف ہوں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ عام پاکستانیوں کوان کا آئینی حقوق دلوانے کے لئے بےحد جدوجہد کی جس کی پاداش میں مختلف اذیتیں بھی جھیلیں حتیٰ کہ اپنی بیٹی کو بھی پاکستان کے دشمنوں کے سامنے لا کھڑا کر دیا۔ اس جرات مندی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ملالہ کو قاتلانہ حملے کے باوجود بچالیا حالانکہ اس میں جینے کی امید بھی نہ تھی۔

لیکن اللہ نے نہ صرف ملالہ کو نئی زندگی عطا کی بلکہ پوری دنیا میں ملالہ یوسفزئی کی بہادری کے قصے سنائے جانے لگے۔ ضیاءالدین یوسفزئی اور ان کی معصوم سی پھول جیسی بیٹی کے خیالات و نظریات سے ضرور ادب و دلیل کے ساتھ اختلاف رائے اور مثبت تنقید کا اظہار کریں مگر جھوٹ و سنی سنائی باتوں پر ہر گز نہ جائیں اور کم از کم کسی سے متعلق بھی کوئی رائے بنانے سے پہلے ان کے ظاہری انداز کے بجائے پس پردہ کردار کو بھی جانچنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کوئی صحیح فیصلہ کر سکیں۔

اگر کوئی پینٹ یا کوٹ پہننے سے یہودیوں کا ایجنٹ بن جاتا ہے تو پھر انتہائی معذرت کے ساتھ علامہ محمد اقبالؒ، قائد اعظم محمد علی جناح، پاکستانی اعلیٰ ڈاکٹر حضرات، اعلیٰ افسران سمیت ججز اور جرنیل بلکہ پاکستان کے اکثر صحافی جو ہر وقت پینٹ کوٹ سجائے ٹی وی سکرین پر دکھائی دیتے ہیں، وہ بھی یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔

کچھ عقل سے بھی کام لے لیا کریں۔ ہر ملک اور ہر علاقے کا اپنا کلچر یعنی ثقافت ہے۔ ذاتی چیزوں کو ذات تک ہی محدود رہنے دیا جائے تو ہم سب کیلئے یہ بہتر ہوگا۔ اور باقی رہی بات ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی کی تو میں اللہ کو حاضر ناظر کہہ کر غیرجانبداری کے ساتھ یہ بات کہنا چاہوں گا کہ جتنا میں ذاتی طور پران کوجانتا ہوں یا محسوس کیا، خدا کی قسم ان جیسا بےلوث، مخلص، عظیم انسان دوست اور سب سے بڑھ کر اعلیٰ اخلاقی شخصیت کا حامل شخص میں نے آج تک اپنی زندگی میں نہیں دیکھا کیونکہ خاکسار کو نامور علماء کرام، سیاسی و سماجی اور صحافی حلقوں سے منسلک لوگوں سے قربت کا شرف حاصل رہا اور ابھی بھی ہے لیکن ان میں سے ایک بھی اس عظیم انسان جیسا نہیں جو بغیر مطلب حد سے بھی زیادہ دوسروں کا عزت و احترام کرتا ہو۔

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا میزان (ترازو) میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی عمل زیادہ ثقیل (وزن) نہیں۔(سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الادب :

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے