نااہل شخص پارٹی کے عہدیدار بننے کا بھی اہل نہیں ہوگا، بل منظور

سینیٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی ترمیمی بل 2017 منظور کرا دیا جس کے مطابق پارلیمنٹ کے رکن بننے کے لئے نااہل شخص پارٹی کا عہدہ رکھنے کے بھی اہل نہیں ہوگا۔

اپوزیشن کی جانب سے جب سینیٹ میں حال ہی میں منظور ہونے والے انتخابی اصلاحاتی بل پر مزید ترمیم کے لیے بل پیش کیا تو حکومت کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔

وزیر قانون زاہد حامد نے اس موقع پر کہا کہ ایوب خان کے دور میں نااہل شخص پر پارٹی سربراہ بننے کی پابندی لگائی گئی تھی جس کو ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت نے ختم کیا تھا اور اب بل میں ترمیم سے اپوزیشن آئین کے خلاف اقدام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 17 نومبر 2014 کو یہ شق ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اس وقت پاناما کے حوالے سے کہیں ذکر نہیں تھا اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ یہ قانون ایک شخص کے لیے بنایا گیا ہے۔

وزیرقانون نے کہا کہ انتخابی اصلاحاتی بل کے لیے حزب اختلاف کی جانب سے 631 تجاویز دی گئی تھیں لیکن ان میں سے ایک تجویز بھی شق 203 سے متعلق نہیں آئی تھی لیکن اب اپوزیشن ڈکٹیٹر کے دور میں بنے قانون کو واپس لانا چاہتی ہے جس قانون کو انھیں کے خلاف استعمال ہونے کے لیے بنایا گیا تھا۔

حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ آج ایوب ازم اور مشرف ازم کو کامیاب حاصل ہوئی ہے جبکہ بھٹو ازم کو شکست ہوئی ہے۔

حکومت کی مخالفت کے بعد اپوزیشن نے انتخابات بل 2017 میں مزید ترمیم کا بل پیش کرنے کی اجازت کی تحریک پیش کی جس پر ووٹنگ کروائی گئی اور 46 ارکان نے تحریک کے حق میں جبکہ21 ووٹ مخالفت میں آئے۔

خیال رہے کہ جب چیئرمین سینیٹ نے بل کمیٹی کے سپرد کرنا چاہا تو اپوزیشن نے سینیٹ قواعد معطل کرنے کا بھی مطالبہ کردیا۔

اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ بل کمیٹی کو نہ بھیجا جائے اس بل پر مزید بحث کی ضرورت نہیں اس لیے کمیٹی کو بھیجنے کے بجائے فوری طور پر منظور کیا جائے جس پر ایک مرتبہ پھر حکومت کی جانب سے مخالفت کی گئی۔

وزیر قانون نے کہا کہ قواعد کو معطل کرنا روایات کے خلاف ہے تاہم اپوزیشن ووٹنگ کے ذریعے قواعد کو معطل کرانے میں کامیاب ہوئی اور انتخابات ترمیمی بل 2017 منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا گیا۔

بعد ازاں بل کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوئی جہاں پر بل کی حمایت میں 49 اور مخالفت میں 18 ووٹ آنے کے بعد اپوزیشن بل منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔

بل کی حمایت میں فاٹا کے 5 ارکان نے اپوزیشن کی حمایت کی جبکہ پرویز رشید، مشاہداللہ خان، نثار محمد خان، سینیٹر مفتی عبدالستار ووٹنگ کے وقت غیر حاضر رہے، مذکورہ بل کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل شخص کسی پارٹی کا عہدہ رکھنے کا بھی اہل نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ حکومت نے رواں ماہ کے اوائل میں سینیٹ سے انتخابی اصلاحاتی بل کو شق 203 سمیت منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے منظور کرکے نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر بننے کی راہ ہموار کی تھی جس کے بعد وہ بلامقابلہ پارٹی کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے