نواز شریف کو فائل پڑھنا نہیں آتی

مجھے عزیز ہم وطنوں سے بلا امتیاز محبت ہے۔ وجہ سادہ ہے۔ ہم وطن، بھائی اور ہمسائے کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ ہم وطن، بھائی اور ہمسائے تبدیل بھی نہیں کئے جا سکتے۔ غالباً ایسے ہی تجربات کی روشنی میں انسان سوچ سمجھ کر دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تاہم یہ بتانے میں حرج نہیں کہ عزیز ہم وطنوں میں بھی دو قسم کے ابنائے وطن مجھے عزیز تر محسوس ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ہم وطن جو بوجہ روز گار خلیجی ممالک میں مقیم ہیں اور وقفے وقفے سے شکایت ارسال کرتے رہتے ہیں کہ وطن عزیز میں جمہوریت کی صورت حال اطمینان بخش نہیں نیز یہ کہ اشرافیہ کے ایک ٹولے نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اہل پاکستان کو چوروں اور لٹیروں کے اس گروہ کا دامے درمے سخنے مقابلہ کرنا چاہئے۔ ریاست پاکستان کی سلامتی کے لئے آئین اور وفاق سمیت ہر طرح کی قربانی دینی چاہئے تاکہ ایک شفاف حکومت قائم ہو سکے، امانت اور صداقت کا دور دورہ ہو، اہل افراد پر مبنی قیادت کی مدد سے ایک منصفانہ (صدارتی) نظام کی بنیاد رکھنی چاہئے تا کہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔ قابل محبت پاکستانی ہم وطنوں کی دوسری قسم میں وہ خضر صورت احباب آتے ہیں جو زہد و ورع کے جبلی تقاضوں کے تحت مغربی ممالک از قسم سویڈن، ہالینڈ، برطانیہ، جرمنی اور امریکہ وغیرہ میں جا آباد ہوئے ہیں۔ ان مخلصان ملت کو یہ فکر ستاتی رہتی ہے کہ ان کے منہ پھیرتے ہی وطن عزیز میں فحاشی نے بے طرح فروغ پایا ہے۔ عریانی گلی کوچوں میں منہ کھولے پھر رہی ہے۔ عورتیں کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم پا رہی ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری دفتروں میں ایمان کی آزمائش کی جاتی ہے۔ کوئی خدا کا نیک بندہ نہیں جو پاکستان کی گلیوں میں سرعام کفش کاری کا بندوبست کرے، درے لہراتے خدائی فوجدار تعینات کرے، اشیائے خورد و نوش میں حلال و حرام کی تصدیق کے لئے کمیٹیاں بٹھائے، تعلیمی اداروں میں نصاب کی تطہیر کرے، بے پردگی کی گردن ناپے، صحافت اور فلم وغیرہ پر جھاڑو پھیرے۔ اللہ، اللہ، کیسے کیسے نعمت مثال رجال تھے کہ اعلیٰ صلاحیت اور اجلے جذبوں کی قدر دانی نہ ہونے کے باعث بیرون ملک مراجعت پر مجبور ہو گئے۔ پس ثابت ہوا کہ بیرون ملک قیام سے دور کی نظر تیز ہو جاتی ہے۔ دور دیس کی مکمل خبر رہتی ہے۔ قریب کی نظر کے بارے میں البتہ ابہام پایا جاتا ہے۔ ان مہربانوں کے بارے میں سوچتے ہوئے بے اختیار فانی بدایونی یاد آ جاتے ہیں
حرم میں آ ہی نکلے ہیں تو فانی
یہ کیا کہیے کہ نیت تھی کہاں کی
ایسے ہی ایک محبی خرم عباس حیدری نے سعودی عرب سے ایک برقی تبصرہ ارزاں کیا ہے۔ درویش نے نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی پر طالب علمانہ معروضات پیش کی تھیں۔ جواب میں مکرمی حیدری صاحب نے ’کاغذ پہ رکھ دیا ہے، کلیجہ نکال کے‘۔ پڑھیے… ’جس مقام پر ڈوب مرنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے، وہاں آپ اس کرپشن مافیا کے گاڈ فادر کو جو پیدائشی، نااہل اور احمق بھی ہے، جس کو فائل پڑھنی نہیں آتی، اس کو ’اچھے‘ مشورے سے نواز رہے ہیں… اندازِ بیان جتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو، اچھے مواد کا محتاج ہوتا ہے‘۔
درویش کو اتفاقاً یاد آ گیا کہ 1993 میں ایک پیشہ ورانہ دورے پر گورنمنٹ ہائی اسکول، پیر محل میں خرم حیدری نام کے ایک طالب علم کا ذکر سنا تھا۔ خدا معلوم یہی عزیز محترم تھے یا کوئی اور ہونہار نونہال تھے۔ صاحب ہماری معذرت قبول فرمائیے۔ شدائد اور مصائب کی کثرت کے باعث ہمارے جملہ قویٰ مضمحل ہو گئے۔ ہم نااہل اور احمق افراد کی پہچان کھو بیٹھے۔ انگریزی ادب سے ہمارا دور کا واسطہ نہیں۔ ہم گاڈ فادر کا سلسلہ نسب نہیں جانتے۔ فائل پڑھنے میں ہماری نااہلی کی داستان پرانی ہے۔ ایک قابل شخص فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی کتاب ’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘میں لکھا ہے کہ وزیراعظم لیاقت علی خان فائل پڑھتے ہوئے کاغذ کو ایک خاص زاویے پر رکھتے تھے گویا ان کی نظر کمزور ہو رہی تھی۔ ایوب خان نے از رہ وضع داری پورا سچ نہیں لکھا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آکسفورڈ کے گریجویٹ لیاقت علی خان نالائق تھے۔ انگریزی پڑھنے سے قاصر تھے۔ فائل کو ادھر ادھر کر کے لفظوں کے ہجے کرتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو انگریزی لغت کے استعمال میں مناسب طور پر محتاط نہیں تھے۔ محمد خان جونیجو بھی سندھی لہجے میں اردو بولتے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو عربی محاورے سے ناآشنا تھیں۔ یوسف رضا گیلانی رک رک کے انگریزی بولتے تھے۔ نواز شریف تو پریس کانفرنس میں لکھی ہوئی پرچیاں پڑھتے ہیں۔ مغل شہنشاہ اکبر کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ دو لفظ پڑھنے لکھنے سے قاصر تھا۔ وطن عزیز میں ایسے نابغوں کی کمی نہیں جس کی عمر فائل پڑھنے، نوٹ لکھنے اور ڈرافٹ بنانے میں گزری ہے۔ آئندہ ہم قومی قیادت چننے کے لئے قذافی اسٹیڈیم میں انٹری ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط رکھیں گے۔ یہ امتحان پاس کرنے والوں کو غلام اسحاق خان سند برائے نوٹنگ ڈرافٹنگ عطا کی جائے گی۔
ان دنوں وطن عزیز میں ’گاڈ فادر‘ پر تبصرے کی بوجوہ اجازت نہیں۔ نازک مزاج شاہاں، تاب سخن ندارد۔ ایسے دریدہ دہنوں کو دست غیبی آ لیتا ہے۔ البتہ جمہوریت کے غم خواروں کی نشان دہی پر پابندی نہیں۔ اس ضمن میں خبر یہ ہے کہ کنگری ہاؤس ، کراچی میں پیر صبغت اللہ پگارا کی زیر صدارت ایک اجلاس میں ’گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس‘ قائم کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ (زیر اہتمام نواز شریف)، سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم (زیر اہتمام پرویز مشرف)، سابق وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی بھٹو (زیر اہتمام ذوالفقار علی بھٹو)، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مظفر حسین شاہ (زیر اہتمام نواز شریف)، وفاقی وزیر مرتضیٰ جتوئی (زیر اہتمام موجودہ مسلم لیگ)، سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا (زیر اہتمام آصف علی زرداری)، ڈاکٹر صفدر عباسی (یکے از جان نثاران بے نظیر بھٹو) اور اٰیاز لطیف پلیجو (جاگیر دار مخالف عوامی تحریک) شریک ہوئے۔ اس کینہ پرور حافظے کا برا ہو۔ جہاں کوئی اچھا شگون ظاہر ہوتا ہے، تاریخ کا الو چیخ اٹھتا ہے، امیر علی ٹھگ پکارتا ہے، پان لگاؤ۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس کے نام سے ایک اتحاد 7 ستمبر 1999ء کو تشکیل دیا گیا تھا۔ اس عظیم جمہوری اتحاد میں پاکستان تحریک انصاف (عمران خان)، پاکستان عوامی تحریک (مولانا طاہر القادری)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) شامل تھے۔ ’نواز شریف ہٹاؤ، وفاق بچاؤ‘ کا یک نکاتی ایجنڈا اس سیاسی اتحاد کا ماٹو قرار دیا گیا۔ 12 اکتوبر 1999ء کو نواز شریف ہٹا دئیے گئے۔ کراچی ایئر پورٹ کے رن وے پر آئین کچلا گیا۔ وفاق بچانے والوں کی آواز پھر نہیں آئی۔
نواز شریف میں دو خامیاں ہیں۔ ایک تو انہیں فائل پڑھنا نہیں آتی۔ دوسرے نواز شریف ناز و نعم میں پلے بڑھے شخص ہیں، صعوبتیں جھیلنا ان کے بس میں نہیں۔ صاحبان، سیاست دفتری فائل نہیں، قومی مفاد کا پیچیدہ دفتر ہے۔ نواز شریف نے چار دہائیوں میں یہ بار گراں تین بار اٹھایا ہے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے اجداد تو 1977ء میں بھی مطالبہ کیا کرتے تھے کہ انتخابات سے پہلے احتساب کا عمل مکمل کیا جائے۔ ناز و نعم سے یاد آیا کہ ذوالفقار علی بھٹو پر بھی فرانس کا پانی پینے کی تہمت دھری جاتی تھی۔ جرمن قوم پرست استہزا کیا کرتے تھے کہ گریٹا گاربو کی ننگی پنڈلیوں پر جان دینے والے امریکی عالمی جنگ کیسے لڑیں گے۔ ہٹلر تو ایسا سخت کوش ہے کہ سگریٹ، الکوحل اور متاہل سے مجتنب تھا۔ تاریخ کی لڑائی میں نیاز و ناز کی میزان دفتر کی میز پر نہیں لکھی جاتی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے