مجتہد یا مرجع بننے کے مراحل

1- سب سے پہلے انسان کسی حوزہ علمیہ میں داخلہ لے.
قران کریم کی درست قراءت و تلاوت کا ملکہ حاصل کرے
اور ابتدائی دو سال تک علم صرف و نحو
( ادبیات لغت عربی. صرف میر, نحو میر, عوامل نحو, ہدایہ صمدیہ, اور اجرومیہ وغیرہ ) کی تعلیم حاصل کرے.
اور ساتھ میں منطق موجز وغیرہ بھی پڑھے.

2- دوسال تک یہ اس لائق ہوجائیں گے کہ عربی زبان کے الفاظ و معانی کو اسکے اصل مصادر سے اخذ کرسکیں. اور الفاظ کے صرف و ایجاد پر قدرت حاصل کرسکیں
یعنی ایک صیغہ سے متعدد صیغے بنا سکیں گے.
(جیسے النصر سے نصر اور ینصر ناصر ….. الخ)

یہ علم بہت وسیع ہے. عربی زبان میں ایک مادہ کے چودہ چودہ شاخیں نکلتی ہیں. اور الفاظ کا ایک سمندر ہے جس کی لاتعداد شاخیں نکلتی ہیں اسکی تفصیل کا یہاں موقع نہیں.

3- دوسال بعد یہ نحو کے اعلیٰ پائے کے درجے میں پہنچیں گے اور مزید دو سال تک
شرح بن عقیل. سیوطی. یا البلاغة الواضحة و دیگر ادبی و نحوی کتب پڑھیں گے. ساتھ میں تفسیر قران کی مبادیات سے آشنا ہونگے.

اس درجے میں طالبعلم کے پاس یہ صلاحیت آجاتی ہے کہ وہ کسی بھی روایت یا آیت کی لغوی و اصطلاحی شناخت حاصل کرسکتا ہے.

اسی لیول میِں ہی طالبعلم منطق کی متوسط کتاب منطق مظفر پڑھ لیتا ہے اور استدلال کی دنیا میں پہلا قدم رکھتا ہے. ساتھ میں کسی مرجع کی توضیح المسائل کو کامل سمجھ کر پڑھ لیتا ہے

4- اسکے بعد طالب علم بحث فقہ استدلالی میں قدم رکھتا ہے

اور شہیدین کی لُمعہ اول و دوم پڑھتا ہے اس میں آج کل 6 سال لگتے ہیں. پہلے دو سال میں مکمل ہوتا تھا.
اس لیول پر طالبعلم اصول فقہ کی دو جلدوں جو مباحث الفاظ و مستقلات عقلیہ پر مشتمل ہے پڑھتا ہے. ساتھ میں تفسیر قرآن و رجال کی ابتدائی کتب پڑھتا ہے. اور کافی حد تک استدلال پر عبور حاصل کرلیتا ہے.
یہی وہ لیول ہے جہاں طالب علم اختلاف علمی کو قبول کرتا ہے اور اجتہاد کا دروازہ اس کے سامنے کھلا ہوا ہوتا ہے. یہ اس کے لیے حساس ترین دور ہوتا ہے.

5- لمعتین جلدیں مکمل کرنے کے بعد وہ رسائل مکاسب شیخ انصاری کو پڑھتا ہے اس میں بھی دو تا تین سال لگتے ہیں. آج کل اس لیول پر حلقات شہید صدر بھی پڑھایا جاتا ہے.

6- اب وہ سطوح عالیہ میں پہنچ جاتا ہے اور رسائل کے بعد کفایة الاصول و دیگر مطولات كی باری آتی ہے.
یہ بہت ہی دقیق علمی کتاب ہے. اسے صرف مجتہد یا حوزے کا بہت ہی قابل استاد ہی پڑھا سکتا ہے.
اس لیول پر وہ رجال کی دقیق کتب پڑھتا ہے اور عملی طور پر علمی نظریات کو منطبق کرتا ہے. اس مرحلے کے اساتذہ یا تو مجتہد ہوتے ہیں. یا ایسا شخص ہوتا ہے جسکی علمی صلاحیت حوزے میں معروف ہو جس نے بحث خارج کے کئی دورے مکمل کیے ہوں.

7- کفایہ سے فراغت کے بعد وہ بحث خارج میں چلا جاتا ہے اس مرحلے پر وہ حجت الاسلام کے لقب کا حقدار قرار پاتا ہے.
آج کل بعض جہال بھی لقب حجت الاسلام لگا لیتے ہیں جو ایک ظلم عظیم ہے.

8- بحث خارج میں جانے کے بعد وہ مختلف مراجع عصر کے اعلیٰ پائے کے فقہی استدلالی دروس میں شرکت کرتا ہے.
اور ساتھ ساتھ علم رجال الحدیث و فن حدیث پر اعلیٰ تحقیقات و آراء سے بھی مستفید ہوتا رہتا ہے.
اور خود بھی اعلیٰ مقدماتی سطح ( لمعہ ) کے طلباء کو درس دیتا ہے تاکہ اسکی علمی فقہی صلاحیتوں کا اظہار ہو.
درس خارج کے مرحلے میں چھوٹے چھوٹے مسائل فقہ پر مہینوں بھی بحثیں ہوتی ہیں.
اور آخر میں جاکر مجتہد دیگر تمام آراء کے مقابل اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے.
پس
طالبعلم اس مرحلے میں فقہی استنباط کی تربیت حاصل کرتا ہے مختلف آراء کو رد یا قبول کرنے کی علمی و منطقی دلائل سے خودکو لیس کرتا ہے.
اور صاحب الرائے بنتا ہے

9-بلاشبہ بحث خارج میں اسے کم ازکم دس سال گزارنے ہوتے ہیں تاکہ وہ استنباط پر مکمل ملکہ حاصل کرسکے.
اس دوران کسی بھی طالبعلم کی علمی قابلیت کھل کر سامنے آتی ہے. اور وہ ہم عصروں میں اپنے علمی کمال کی بدولت منفرد حیثیت اختیار کرتا ہے.
وہ اپنے اساتذہ پر علمی جرح و تعدیل کرتا ہے اسطرح وہ مجتہد استاد کی نگاہ میں منظور نظر بنتا ہے.
یہاں تک کہ وہ اس حد تک پر اعتماد ہوجاتے ہیں کہ سطوح عالیہ کے طلباء کو پڑھا سکے. اور خود بھی بحث خارج دے سکے. یا سطوح عالیہ کے طلباء کو پٍڑھا سکے.
ظاہر ہے ان کے یہ دروس علماء کیلئے ہوتے ہیں جو نقد علمی کا سلسلہ مسلسل جاری رکھتے ہیں.

پس ایک وقت آتا ہے کہ حوزہ کے جید اساتذہ و مراجع ایسے شخص کی تائید کرتے ہیں کہ یہ مجتہد مسلم ہیں.
درس خارج دینے کی کوئی انتہاء نہیں ہے یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے جب تک مجتہد زندہ رہے یا کوئی رکاوٹ نہ ہو. یہاں تک کہ پورا حوزہ اس شخص کی علمیت کا قائل ہوجاتا ہے.

پھر ایسے شخص کی مرجعیت کا اعلان کردیا جاتا ہے اور یہ اعلان اہل خبرہ کرتے ہیں جو مجتہدین عظام پر مشتمل ہوتے ہین.

عراق و ایران دونوں میں اہل خبرہ ہیں . جو کسی مجتہد کی وفات پر اسکے نائب مجتہد کا اعلان کرتے ہیں.
ایک ضروری بات وہ یہ کہ لازم نہیں کہ درجہ اجتہاد پر فائز ہونے والا ہر شخص اجتہاد کے منصب کو سنبھالے.
ایسے بہت سے افراد ہیں جو اس منصب کے اہل ہیں لیکن مرجعیت کا اعلان نہیں کرتے
مثلاً
آیت اللہ شیخ جعفر سبحانی. آیت اللہ مصباح تقی یزدی
آیت اللہ جوادی آملی
اس میں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایک شخص فقہ کے کسی خاص باب میں اعلم ہو اور دوسرے باب میں کوئی اور اعلم ہو.
مثلاً
آیت اللہ شبیری زنجانی کے متعلق فقہائے قم کا اجماع ہے کہ وہ باب حج میں اعلم ہیں.
ایک درجہ مجتہد متجزی کا ہے جب کوئی درس خارج مکمل کرے اور استنباط حکم شرعی منابع سے اخذ کرنے کی صلاحیت حاصل کرے تواس پر تقلید حرام ہے
اسے چاہیے کہ مسائل شرعیہ میں اجتہاد کرے اور دوسرے کی رائے پر اکتفاء نہ کرے
یہ طولانی بحثیں ہیں اس پر پھر کبھی ان شاء اللہ بات ہوگی
ان تمام سخت مراحل میں اعلیٰ درجے کے تقویٰ اور روحانیت کی ضرورت ہوتی ہے
ورنہ بعض لوگ پڑھ لکھ کر بھی حقیقی مجتہد نہیں بنتے. ایسوں کی مذمت امام علیہ السلام نے کی ہے جسطرح مجتہد حقیقی کی تعریف کی گئی ہے اور انہیں امام کا نائب کا درجہ حاصل ہے.
آغا خمینی کے بقول مجتہد بننا سوئی سے کنویں کھودنے کے مترادف ہے
البتہ توفیق الٰہی جب شامل حال ہوجائے تو پھر یہ مراحل
( والذین جاہدوا فینا) کی آیت کے بقول آسان ہوجاتے ہیں

یہ مختصر خلاصہ تھا جو ہم نے درج کیا. یعنی کم ازکم 25 تا 30 سال لگیں گے درجہ اجتہاد تک پہنچنے میں
بشرطیکہ وہ مسلسل پڑھے اور ادھر ادھر وقت ضائع نہ کرے .
پھر مرجع بننے تک ممکن ہے مزید دس بیس سال بھی لگیں .
ہاں کسی پر اللہ عزوجل کی خاص عنایت ہوجائے تو یہ مراحل جلدی بھی مکمل ہوسکتے ہیں .

اسقدر سخت مراحل طے کرنے کے بعد کوئی شخص مرجع بنے لیکن چند گھر بیٹھے کورس کے تحت خود ساختہ عالم نما لوگ مجتہد پر تنقید کریں تو بہت دل کو درد اور افسوس ہوتا ہے.

مزید کوئی اس پر چاہے تو اضافہ کر سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے