ریت پر گرفت، عہدِ نو اور قائداعظم یونیورسٹی کا نوحہ

’’وقت ایک پنجرہ ہے جس کی دیوار پر لٹکے کیلنڈر پر روز تاریخ بدلتی ہے، ایک دن مرجھا کر نیچے جا گرتا ہے اور تاریخ کے کوڑے دان میں گرا یہ دن، نئے دن کےلیے جگہ خالی کردیتا ہے۔‘‘ میں نے یہ سحر انگیز الفاظ رشید امجد کے کسی افسانے میں پڑھے تھے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اِس سیاسی انتشار پر، جو درحقیقت ثقافتی انتشار ہے اور جس کی جڑیں ہماری تاریخ میں پیوست ہیں، کتنا لکھا جائے؟
اپنی ایک پرانی تحریر میں لکھا تھا اور آج بھی برمحل محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک انتہائی سطحی ذہنیت کی حامل قوم ہیں جس کا تمدنی شعور اشتعال انگیزی کی جانب مائل ہے۔ ہم تاریخی شعور سے عاری اور وقت کے مزاج سے نا آشنا ہجوم ہیں۔ کتابیں نہ پڑھنے والا ہجوم۔ بخدا اس معاشرے کے سیاسی اور اجتماعی شعور نے اسی دن خودکشی کرلی تھی جب جوگندر ناتھ منڈل، بڑے غلام علی خان اور قرۃ العین حیدر واپس بھارت لوٹ گئے تھے، جس دن فاطمہ جناح کو انتخابات میں ایوب خان کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور جس دن حبیب جالب پر ڈنڈے برسائے گئے تھے۔ جانے درد کی کس رو میں بہہ کر ناصر کاظمی نے لکھا تھا:
وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے
میں نے گزشتہ دنوں قائدِاعظم یونیورسٹی کی نصف صدی کی تابناک مسافرت پر ایک تحریر لکھی تھی اور ابھی اس کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ یونیورسٹی میں طلبا کی طرف سے کی گئی ہڑتال نے تدریسی اور انتظامی معاملات کو مکمل طور پر معطل کردیا۔ آخری اطلاعات تک ہڑتال ضرور ختم ہوگئی تھی لیکن احتجاج کا سلسلہ بہرکیف جاری تھا۔ میں حالیہ دنوں میں مقالہ جاتی تحقیق کے سلسلے میں انگلینڈ میں مقیم ہوں۔ میری تمام تر معلومات کا ماخذ فیکلٹی ای میل، سوشل میڈیا، احباب سے موصولہ اطلاعات اور میڈیا رپورٹس ہیں لہذا تجزیئے میں معروضی حقائق کے ضمن میں غلطی کا بہرحال احتمال ہے۔ اس بابت کسی بھی غلطی کی پیشگی معذرت۔
یہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے اندر ہونے والی چوتھی بڑی ہڑتال ہے۔ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا منصفانہ اور غیر جانبدرانہ تجزیہ کیا جائے۔ کسی ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرا کر اور ذمہ داران کا تعین کرکے بات تو لپیٹی جاسکتی ہے مگر جامع اور متوازن مکالمے کی عدم موجودگی اس طرح کے بحران کی مراجعت کا موجب ہو گی۔ صورتحا ل کا موزوں احاطہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم اس کو ریاست اور معاشرے کے باہمی تقابل، ایک بڑے پیرائے اور تاریخی تسلسل میں سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ یہ ایک سرسری سی ہی کاوش ہوگی۔ احمد فراز یاد آئے:
اس عہدِ ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے
مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا
مشہور اطالوی مفکر دانتے الغیری نے کہا تھا کہ ان لوگوں کو جہنم کے تاریک ترین مقامات کی نظر کردینا چاہیے جو سنگین اخلاقی بحران میں بھی غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آمنہ مفتی نے لکھا تھا ایک قلم کار پر اُن لوگوں کا حق ہوتا ہے جو اپنے لیے نہیں بول سکتے۔ سچ بولیے اور سچ لکھیے۔
قائداعظم یونیورسٹی کی حالیہ شورش کے پسِ منظر میں کچھ معروضات پیشِ نظر ہیں جو خالصتاً میری ذاتی اور فکری رائے پر مبنی ہیں۔ کسی کی دل آزاری اور طرفداری ہر گز مقصود نہیں:
1۔ ہمارے ملک کی سیاسی ثقافت نے جو عمرانی معاہدہ ترتیب دیا ہے اُس میں استحصال، غیر منصفانہ اختیارات کی تقویض اور طاقت کا غلط استعمال نمایاں ہیں۔ ہماری نئی نسل اسی سوچ کے زیر اثر پروان چڑھی ہے اور اس سے شاکی بھی ہے۔ مشیل فوکو نے کہا تھا جہاں طاقت ہوگی وہاں مزاحمت ہوگی۔ ہمارے طلبا عمر کے اُس حصے میں یونیورسٹی آتے ہیں جب مارکسی اخلاقیات اور مزاحمتی سوچ و فکر ذہن اور دل دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ یوں بھی بہت سے فلسفیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر آپ پچیس سال سے قبل انقلابی سوچ کے حامل نہیں تو آپ دل سے عاری ہیں اور اگر آپ پچیس سال بعد بھی انقلابی ہیں تو آپ دماغ سے پیدل ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی اپنے دامن میں مزاحمت کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ ضیاء الحق کے مارشل لا کی مخالفت ہو، جامعہ کی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام ہو یا ججز بحالی تحریک، اس یونیورسٹی کے طلبا اور فیکلٹی نے مزاحمت کے باب میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ جامعہ کا ثقافتی تنوع اور ترقی پسندانہ سوچ ایک روشن حقیقت ہے جس سے انکار محض زمینی حقائق سے روگردانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ طلباء کے تحریکی اور احتجاجی مزاج کی تاریخ میں نے نہ صرف سنی ہے بلکہ گزشتہ ایک عشرے میں پھلتے پھولتے دیکھی بھی ہے۔
2۔ اس دلیل کے بطن سے دو اہم سوال جنم لیتے ہیں کہ کیا احتجاجی تاریخ اور ثقافتی تنوع کو جواز بنا کر جامعہ کے امن و امان اور کو طلبا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور نظم و ضبط کے حوالے سے بنی قانونی مسطور اور صریحی اختیاری کمیٹیوں کو معطل کردیا جائے اور یونیورسٹی انتظامیہ محض ایک تماشائی کے کردار تک محدود ہوجائے؟ اور دوسرا یہ کہ اس نوعیت کے مسائل وفاق اور صوبوں کی دوسری جامعات میں کیوں نہیں پنپتے؟ کیا نسٹ اور لمز کو طلبا کی طاقت کے زور پر بند کیا جاسکتا ہے؟ جواب صریحاً نہیں ہوگا۔ کچھ دوستوں اور احباب کا خیال ہے کہ اس معاملے کو غیر ضروری طول دیا گیا ہے وگرنہ یہ ایک معمولی سے پولیس ایکشن کی مار ہے اور طاقت کا یہ استعمال نہ صرف مسائل پیدا کرنے والے طلبا سے خلاصی کا سبب ہوگا بلکہ یونیورسٹی کی رٹ کو بھی بحال کردے گا۔ میرے وہ احباب جو یونیورسٹی کی رہائش گاہ میں قیام پذیر ہیں اور اس ہڑتال سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں، اُن کا بھی بالعموم یہی خیال ہے۔ میں اپنے ان احباب کے دکھ اور تکلیف میں مکمل شریک ہوں۔
اب آتے ہیں بنیادی سوالوں کی طرف۔ پہلے سوال کے جواب کےلیے ہمیں اُن تمام عوامل کا احاطہ کرنا ہوگا جو جامعہ کی رٹ کو کمزور کرنے کا باعث بنے۔ اس ضمن میں خود احتسابی بھی ضروری ہے۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہماری انتظامی کمزوریوں اور جامعہ کے متعین کردہ قوانین سے ارادی یا غیر ارادی انحراف اس کے آئینی اور قانونی تقدس کو مجروح کرنے کا باعث بنا ہے۔ آپ قوانین کے دوہرے اور تہرے معیار نہیں متعین کرسکتے۔ قانون کے اطلاق کی بنیادی اکائی ہی مساوی برابری ہے نہ کہ تناظر۔ انتظامیہ کو اس بابت میں ایک جیسے معیار قائم کرنے ہوں گے ورنہ طلبا امتیازی سلوک کی منطق پر بار بار احتجاج کی جانب مائل ہوں گے جیسا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بار بار ہو رہا ہے۔ انتظامی مسائل کا حل انتظامی ہی ہوتا ہے۔ دوسرے سوال کا جواب پہلی معروض میں ہی درج ہے کہ ہر ادراے کا اپنا ایک مزاج اور تاریخی تسلسل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے لے کر کراچی یونیوسٹی تک اور پشاور یونیورسٹی سے لے کر اسلامک یونیورسٹی تک طلبا کی سیاسی فعالیت کی وجوہ مختلف ہیں۔ کہیں مذہب تو کہیں قومیت۔ قائداعظم یونیورسٹی کا مزاج بالعموم چند واقعات کو چھوڑ کر متشددیت پر مبنی نہیں۔
3۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی پالیسیوں اور حکومتی سطح پر تعلیم کے ایک بنیادی ترجیح نہ ہونے کے باعث جامعات کے مسائل میں گوناگوں اضافہ ہی ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ایچ ای سی کے فنڈز کم کر دیئے گئے اور یوں جامعات کی مالی معاونت بھی کم ہوگئی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کےلیے قلیل مدتی حکمت عملی اختیار کی گئی جس میں نئے داخلوں کی تعداد کو بڑھا دیا گیا۔ میرے طالب علمی کے زمانے میں جس یونیورسٹی میں طلبا کی تعداد چار سے پانچ ہزار تھی وہ اب تیرہ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ یونیورسٹی کا بنیادی ڈھانچہ جوں کا توں ہے۔ تین سے چار ہزار طلبا ہاسٹل میں مقیم ہیں جن کا مسئلہ بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ فیسوں کے اضافے نے طلبا کے مسائل کو اور کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ یہ مسائل زمینی حقائق ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ یہ عوامل طلبا کو احتجاج کا مسلسل جواز فراہم کرتے ہیں۔
4۔ بحثیت اساتذہ کرام ہم ایک ضمن سے چشم کشائی برت رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جس نسل سے اب ہمارا واسطہ پڑا ہے، یہ ابلاغ عامہ اور سماجی مواصلات سے آہنگ نسلِ نو ہے۔ ہماری تدریس اور طلبا سے راہ و رسم ابھی تک روایتی فکر و سوچ سے باہر نہیں نکل سکی۔ ہمیں نظامِ تدریس کو جدید تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ آج کا طالب علم کلاس میں بیٹھے بیٹھے استاد کے علم اور معلومات کی نہ صرف پڑتال کرسکتا ہے بلکہ اس پر سوال بھی اٹھا سکتا ہے۔ ہمیں نظامِ تعلیم، اس کے تقاضوں اور اس کی مقصدیت کو ازسرِنو پرکھنا ہوگا ورنہ یہ اپنی ساکھ کھو دے گا۔ ہم سب کو ’’Paulo Freire‘‘ کی کتاب ’’Pedagogy of the Oppressed‘‘ پڑھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم صرف سامراجی نظام کے گماشتے ہی تو نہیں تیار کررہے؛ اور تعلیم کے بینکاری طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں؟ ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا ہوگا کہ ہمارے تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی طریق کار متروک ہوچکے ہیں اور اُن کی فعالیت کے سامنے ایک بڑا سا سوالیہ نشان ہے۔
5۔ ہمیں اس ضمن میں بھی غور کرنا ہوگا کہ کہیں ہم بیماری کا علاج کرنے کے بجائے بیمار ہی مار دینے کی منطق پر تو عمل پیرا نہیں۔ ہمارے ایک نہایت ہی عزیز دوست نے، جو ایک اور یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، ایک واقعہ سنایا کہ اُن کی یونیورسٹی میں ایک جوڑا ایک بڑے چھاؤں والے درخت کے نیچے غیر اخلاقی حرکتوں کا مرتکب پایا گیا۔ ادارے کی انتظامیہ نے ہنگامی میٹنگ بلائی اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔ کئی دن کے پُرمغز تجزیئے کے بعد انتطامیہ نے مستقبل میں ایسی صورت حال کے سدِباب کے طور پر ایک اہم قدم اٹھایا اور یوں بڑا درخت کاٹ دیا گیا۔ کیا ہماری معاملہ فہمی اور مسئلے کی تشخیص کہیں اسی کج فہمی کے تابع تو نہیں؟
ادارہ جاتی نظم و ضبط بے حد ضروری ہے اور اسے قائم ہونا چاہیے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آج کے کاروبارانہ نظامِ تعلیم کے غلبے میں کیا ہم نے طلبا کو تخلیقی طور پر مصروف کیا ہے؟ اگر نہیں تو ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہ گا کہ جہاں تحقیق کا راستہ بند ہوجائے وہاں سے تخریب کا راستہ شروع ہوتا ہے۔ جہاں آزادانہ مکالمہ بند ہوجائے وہاں منافقت عام اور کھلی ہوجاتی ہے۔ جہاں متشددیت غلبہ پا لے وہاں عقلیت موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے؛ اور جہاں عقلیں مرجائیں وہاں نسلیں مرجاتی ہیں۔ جہاں دلیل دفن ہو اس کے پہلو میں قابیل کی قبر بنتی ہے، جہاں تخلیق فنا ہو جائے وہاں بقا کا باب بند ہوجاتا ہے۔ آئیے اس حقیقت پر سوچیں اور چپکے چپکے افتخار عارف کو پڑھیں:
مصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں
اور ہر طرف سکون ہے سکون ہی سکون ہے
فغان خلق اہل طائفہ کی نذر ہو گئی
متاع صبر وحشت دعا کی نذر ہو گئی
امید اجر بے یقینیٔ جزا کی نذر ہو گئی
نہ اعتبار حرف ہے نہ آبروئے خون ہے
سکون ہی سکون ہے
مصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں
اور ہر طرف سکون ہے سکون ہی سکون ہے
خلیج اقتدار سرکشوں سے پاٹ دی گئی
جو ہاتھ آئی دولت غنیم بانٹ دی گئی
طناب خیمۂ لسان و لفظ کاٹ دی گئی
فضا وہ ہے کہ آرزوئے خیر تک جنون ہے
سکون ہی سکون ہے
مصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں
اور ہر طرف سکون ہے سکون ہی سکون ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے