آدھی غربت دور ہو چکی ہے

اپنے عمران خان کے منہ میں گھی شکر بلکہ ’’وزارت غوزما‘‘ کہ بڑی مدت کے بعد ان کی لسان مبارک سے ایک نہایت ہی دل خوش بات نکلی ہے۔ خوش خبری اور مژدہ جان فزا جو انھوں نے چند روز پہلے بمقام ’’بنیر‘‘ سنایا کہ ہم نے کے پی کے سے آدھی غربت ختم کرڈالی ہے کسی اور کا تو پتہ نہیں لیکن ہم تو اتنے خوش ہوئے کہ عش عش کرنے میں غش کھا گئے۔ لیکن خوش خبری اتنی بڑی تھی کہ غش میں بھی ہوش کی باتیں کرنے لگے۔
لا پلا دے ساقیا پیمانہ پیمانے کے بعد
ہوش کی باتیں کروں گا ہوش کے جانے کے بعد
اگر آدھی غربت دور ہو چکی ہے کیونکہ عمران خان سچے آدمی ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے لیڈر ہیں اور پاکستان میں لیڈر کی واحد کوالی فیکیشن یہی ہے کہ وہ سچ بولتے ہیں اور سچ کے سوا کچھ نہیں بولتے چاہے کسی سیتا گیتا پر ہاتھ رکھیں یا نہ رکھیں۔ یہ انھوں نے بتایا نہیں ہے کہ وہ آدھی غربت جو ختم ہو گئی ہے کہاں چلی گئی اور جو آدھی رہ گئی ہے وہ کہاں چھپتی پھرتی ہے کیونکہ اپنی آدھی کا حشر دیکھ کر باقی آدھی غربت کو بھی جان کے لالے پڑ گئے ہوں گے بقول باقیؔ صدیقی
کچھ ایسی بات اڑی ہے ہمارے گاؤں میں
کہ چھپتے پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں
ویسے ہمیں اپنے گاؤں کا ایک شخص یاد آرہا ہے جس نے دوسرے سے بیل خریدا تھا کافی عرصہ گزرنے پر جب اس نے بیل والے کو پیسے نہیں دیے اور تمام تقاضے بیکار گئے تو اس نے جرگے میں نالش کر دی دونوں کے بیانات لیے گئے قرض دار نے اپنی غربت کا اور فصل نہ ہونے کا ایسا رونا رویا کہ جرگے والوں نے آدھے پر فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی روپے کی جگہ چالیس روپے دے دو اس نے وعدہ کیا کہ دے دوں گا جب دونوں نکل رہے تھے تو قرض خواہ نے کہا دیکھو چالیس روپے تو تم ہڑپ گئے اب یہ باقی کے چالیس ضرور ادا کرنا۔ دوسرے نے کہافکر مت کرو جس طرح یہ آدھے ختم ہو گئے اسی طرح کے باقی آدھے بھی ختم ہو جائیں گے۔اور ہمیں بھی عمران خان پر بھروسہ ہے کہ جس طرح یہ آدھی غربت انھوں نے ختم کر ڈالی ہے ٹھیک اسی طرح یہ باقی کی آدھی بھی ختم کردیں گے۔
ویسے ہمیں تھوڑی سی شکایت یہ ہے کہ جس طرح انھوں نے ’’کرپشن‘‘ کو شکست دے دی اسی طرح اگر وہ اس کم بخت غربت کو یک مشت ختم کر دیتے تو کتنا اچھا ہوتا کیونکہ اس کے بعد اگر دوسری حکومت آ گئی اور انھوں نے اس ختم شدہ آدھی غربت کو پھر بلا لیا تو ؟۔کیونکہ آثار ایسے دکھائی دے رہے ہیں کہ بدقسمت بد نصیب بد عمل بدقماش کے پی کے میں اس مرتبہ بھی ایک ملغوبہ یا ست رنگا اچار قسم کی حکومت آئے گی اور جب وہ سب اپنی اپنی غربت دور کریں گے تو نہ جانے اس آدھی غربت کا کیا ہوگا۔
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے
جناب عمران خان کی بات پر بھی ہمیں صد فی صد یقین ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے کیونکہ پاکستانی لیڈر ہیں اور پاکستانی لیڈر جھوٹ بالکل نہیں بولتے اور یہ بات بھی سنی سنائی نہیں ہے بلکہ قہر خدا وندی چشم گل چشم کو تو آپ جانتے ہی ہیں وہ خود بگوش خود یہ بات بنیر کے جلسے میں جناب کپتان کے منہ سے سن کر آیا ہے۔علاقہ بنیر کی دو چیزیں بڑی فیمس ہیں ایک تو ایلم کا پہاڑ اور دوسرا پیر بابا کا مزار۔ اور قہر خداوندی جب سے اپنا سارا کام بیٹوں کو سونپ چکا ہے تب سے مزارات پر حاضری دینے کو معمول بنا چکا ہے اگر چہ اس کی اس بے پناہ اور بلا ناغہ مزار گردی پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ بریانی عرف برڈ فلو نے کہا ہے کہ یہ تو صرف پاکستان یا کے پی کے کے مزارات ہیں اگر قہر خداوندی تمام عالم اسلام کے صاحبان مزارات کو بھی اپنی سفارش میں لے آئے تو اس کے گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ شاید آدھے بھی معاف نہ کر واسکے ۔
قہر خداوندی نے بتایا کہ عمران خان نے اور بھی ایسے کئی چاندوں کا ذکر کیا جو اس کی پارٹی نے کے پی کے کے دامن میں لگائے ہیں لیکن غربت بلکہ آدھی غربت دور کرنے کی بات انھوں نے بطور خاص اس لیے بتائی ہے کہ ان کے حساب سے آدھے لوگ اس صوبے کے اس کی پارٹی میں ہیں اور ان کے بارے میں انھیں یقین ہے کہ ان کی غربت دور ہو چکی ہے اور اگر موجودہ بلدیاتی نظام اور فنڈوں کی بے حساب بارش میں بھی وہ اپنی غربت دور نہیں کر سکے ہیں تو وہ ان کی پارٹی کے قانون میں ’’نا اہل‘‘ ہیں اور نا اہلوں سے کپتان صاحب کو خدا واسطے کا پیر ہے۔اس حساب سے قہر خداوندی کی تائید بھی کپتان خان کو حاصل ہو گئی۔
ویسے بھی یہ جو بلدیاتی نظام انصاف کے ترازو کے نیچے چلا ہے اس میں غربت دور کرنے کے مواقعے اتنے زیادہ ہیں کہ نالائق سے نالائق انصاف دار کو بھی ’’نصف‘‘ تو مل ہی گیا ہوگا۔ اور یہ اصولی طور پر درست بھی ہے انصاف کا مطلب ہی نصف کرنا ہے اور اگر اتنی بڑی تحریک انصاف بھی نصف غربت دور نہ کر پائے تو یہ بڑی شرم کی بات ہوگی۔باقی رہ گئی وہ آدھی غربت جو ڈھیٹ ہونے کی وجہ سے ابھی باقی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ صوبے کی آیندہ حکومت بھی ملغوبہ یا ست رنگا اچاری ہوگی۔ گویا باقی کی غربت بھی دور ہو جائے گی لیکن ڈر ہمیں صرف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جو آدھی غربت چلی گئی ہے کہیں وہ بھی ’’سود سمیت‘‘ واپس نہ آجائے، جیسا کہ ایک شخص نے اپنی چار پانچ بچوں کی ماں بیوی کو اپنے سسر کے گھر بھیجتے ہوئے کہا تھا کہ لو سنبھالو اپنی بیٹی’’سود سمیٹ‘‘۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے