کیاپاکستان کے وسائل چوکیداری کے لیے ہیں؟

21فروری 1948کوقائد اعظم نے فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے نوزائیدہ مملکت پاکستان کی ترجیحات کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا” ہماری اس کے سوا کوئی اور خواہش نہیں کہ ہم امن و امان کے ساتھ رہیں ، دوسروں کو امن و امان کے ساتھ رہنے دیں اور کسی بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے ملک کو ترقی دیں اور عام انسان کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنائیں۔”قائد اعظم نے ہمیں جینے کا بہت سادہ سا اصول دیا تھا جسے ہم نے ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے اپنی ترجیحات کا تعین قدرے مختلف انداز میں کیا۔میری پاکستان کی ہیئت مقتدرہ سے گزارش ہے کہ چونکہ ہم قائد اعظم کو بانی پاکستان مانتے ہیں اور قائد اعظم کے افکار کے مطابق پاکستان کی تعمیر و ترقی کے دعوے کرتے ہیں تو کم از کم ہمارے سول و فوجی اداروں میں بیٹھے لوگوں کو قائد اعظم کی تعلیمات سے تو روشناس کرایا جائے یا ریفریشر کورسز کرائے جائیں کیونکہ یہ قائد کا پاکستان تو ہرگز نہیں۔

قائد اعظم کی مسلم لیگ یا نون لیگ آج برسر اقتدار ہے لیکن میرا دعویٰ ہے کہ اس کے پارٹی چیئرمین اور صدر سمیت کابینہ کے کسی رکن کو قائد اعظم کی تعلیمات کیا تھیں وہ تو دور کی بات ہے شائد انھیں قائد کا کوئی ایک قول بھی نہ آتا ہو۔ ہماری نئی نسل کو قائد اعظم کے نام کے علاوہ کچھ پتہ نہیں کہ ان کے افکار کیا تھے اور وہ کیسا پاکستان بنانا چاہتے تھے۔شائد آج تک ہم خود طے نہیں کر سکے کہ ہمیں پاکستان کا قائد اعظم چاہئیے کہ پاکستان کے کچھ مخصوص طبقات اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات والا پاکستان چاہئے ۔ آج نہیں تو کل تاریخ بتائے گی کہ ہندوستان کی تقسیم جو ناگزیر تو تھی لیکن جس طرح جلد بازی میں بہت سے بنیادی مسائل حل کئے بغیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم کی لکیر کھینچی گئی اس کے پیچھے عالمی قوتوں کے مفادات تھے جنھیں گاندھی اور قائد اعظم جیسے راہنما بھانپ گئے تھے لیکن دونوں راہنما اپنی دوسرے درجے کی کوتاہ بین قیادت اور فوجی جنتا کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے اور باالآخر موت نے دونوں راہنماؤں کو مہلت نہ دی۔ دونوں راہنماؤں کی موت کے بعدپاکستان اور ہندوستان عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیلنے لگے۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ صدیوں سے اکٹھے رہنے والی قوم مل جل کر پر امن طریقے سے اپنے مسائل خود حل کرتے لیکن دونوں ممالک کے د رمیان بد اعتمادی کی خلیج آزادی کے بعد پہلے دن سے ہی اتنی مضبوط رکھ دی گئی کہ جو آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ جوں ہی صورتحال معمول پر آنے لگتی ہے کچھ ہو جاتا ہے ۔

اب صورتحال یہ ہے کہ بے پناہ وسائل اور صلاحیت کے با وجود دنوں ممالک کی نصف سے ذائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے لیکن دونوں ممالک کے پالیسی میکرز کو اس سے غرض نہیں۔ ہندوستان کا تو پتہ نہیں لیکن ہمارے خود ساختہ ڈر اور خوف نے قائد اعظم کی ساری طے کردہ ترجیحات بھلا دیں اورجس کی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ انتہا پسندی کے سمندر میں غرق ہے ۔ جب بندوقوں اور بوٹوں والے اقتدار کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہیں تو معاشرہ پہلا سبق انتہا پسندی کا ہی سیکھتا ہے۔جب ذہن کے دریچے بند ہو جائیں اور معقولیت پسندی کی جگہ انا ، مفاد اور جذبات لینے لگیں تو سمجھ لیں آپ پر انتہا پسندی غالب آ رہی ہے۔اداروں کی بجائے افراد طاقتور ہو جائیں تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے۔میں نے بچپن سے اپنے حکمرانوں کو یہاں معقولیت پسندی کا گلہ گھونٹتے ہوئے دیکھا ہے۔

جب بہت چھوٹا تھا تو ضیاء الحق ہمارے ایک قریبی گاؤں میں کسی جاگیر دار کے حلقہ انتخاب میں خطاب کیلئے آئے اور لوگ جوق در جوق مرد مومن مرد حق ضیاء الحق ، ضیاء الحق کے نعرے لگاتے ہوئے جلسہ گاہ کی طرف جا رہے تھے ۔یہ وہ وقت تھا جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے گلی کوچوں میں ایک مخصوص مکتبہ فکر کی جہادی جماعتوں کے مسلح جتھے سر عام ر نگروٹ یا جہادی بھرتی کیا کرتے تھے اور یہ رنگروٹ صرف کسی مخصوص مکتبہ فکر سے نہیں بلکہ مجھے یاد ہے میرے اڑوس پڑوس میں بہت سے شیعہ اور بریلوی نوجوان بھی تعلیمی اداروں میں جانے کی بجائے "حوران جنت” کی تلاش میں غائب ہو گئے ۔بہت سے بچوں اور ان کے والدین کی ایسی برین واشنگ اور پراپیگنڈا کیا گیا کہ بہت سے والدین نے خود اپنے بچوں کو اس خود ساختہ جہاد پر بھیجا ۔ گرمیوں کی چھٹیوں سے کچھ دن قبل سرکاری سکولوں اور کالجوں میں جہادکی تربیت کیلئے خاص طور پر کیمپ لگائے جاتے جہاں کشمیر ، بوسنیا ، فلسطین اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں پر ٹوٹنے والی قیامت کا رلانے والے انداز میں ذکر ہوتااور مسئلے کا واحد حل جہاد بتایا جاتااور یوں ان نوجوانوں سے ہاتھوں سے کتاب چھین کر بندوق تھما دی جاتی۔مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی کسی استاد نے ان جہادیوں کو کیمپ لگانے سے منع کیا۔میں نے اپنی آنکھوں سے اور شائد آپ میں سے بہت سوں نے بھی پاکستان کے گلی کوچوں میں جہادکیلئے چندے کے صندوق دیکھے ہوں گے۔آپ نے اپنے ارد گرد چوک اور پارکوں میں جا بجا میزائلوں ، ٹینکوں ، توپوں ، چاغی کے ماڈلزاور دیگر ہتھیاروں کی یادگاریں بھی اپنے جیتے جی ضرور دیکھی ہوں گی۔

اب ظاہر ہے ایسے جنگی ماحول میں قوم کی تربیت کیسی ہو گی۔ اتنے زخم کھانے کے بعد بھی ہماری آبادی کا معتدبہ حصہ اب بھی انتہا پسندانہ رجحانات رکھتا ہے۔جن معاشروں میں انتہا پسندی جنم لیتی ہے وہاں برداشت، لطیف جذبات اور فنون لطیفہ کی موت واقع ہو جاتی ہے اور کسی معاشرے میں اہل ہنر و علم کی تذلیل نکمے لوگوں کی تعمیر و ترقی کا باعث بنتی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ گرین پاسپورٹ پوری دنیا میں معتوب ہے اور پاکستانی دنیا کی مشکوک ترین قوم کے افراد تصور ہوتے ہیں۔ انتہاپسندانہ نظریات اور ماحول نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ہندوستان ، امریکہ ، افغانستان ، ایران اور دنیا کے دیگر ممالک اگر ہماری طرح سوچیں تو وہ ہمارے دوست ورنہ وہ ہمارے دشمن ہیں کوئی وجہ نہیں کہ مذ کورہ ممالک کی بھی پاکستان کے بارے میں یہی سوچ ہو۔ تو لازمی ہے کہ ہم اپنی سوچ کا دھارا تبدیل کریں اور حقائق سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کا سامنا کریں۔ روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ہمیں سنبھل جانا چاہیئے تھا لیکن شائدیہ تب ہی ممکن ہو جب گزشتہ ادوار میں ہمارے قومی اداروں میں نظریات کے نام پر بھرتی کئے گئے لوگ ریٹائرڈ ہوں گے اور ان سے اور ان کی سوچ سے ہمیں نجات ملے گی۔اپنے قومی مفادات کیلئے پراکسیز کم و بیش ہر ملک بناتا ہے لیکن اس میں خیال رکھا جاتا ہے آپ کی پراکسیزمخصوص اہداف تک محدود رہتے ہوئے عالمی اور علاقائی طاقتوں کیلئے چیلنج نہ بن سکیں کیونکہ آپ کس کس سے لڑیں گے۔دوسرا یہ کہ اپنے ہی شہریوں کو پراکسی کے طور پر دنیا بھر میں استعمال کرنا اپنے شہریوں سے دشمنی کے مترادف ہے اور ہم نے اپنے معصوم شہریوں سے یہ دشمنی کی ہے ۔ کسی کو زچ کرنے اور نیچا دکھانے کیلئے پراکسی بنانا ہی ایک غلط روش اور آپ کی ذہنی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے لیکن اگر پراکسی بنانا ناگزیر ہی ہو تو کم از کم اپنے شہریوں کو تو استعمال نہ کریں ۔ کیا پاکستان کے شہریوں کی یہ حیثیت ہے کہ جنھیں ہمارا حکمران طبقہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیتا ہے۔

پراکسی کے استعمال میں ہم پڑوسی ملک ایران سے ہی کچھ سیکھ لیتے جو اپنے ہاں افغان مہاجرین کو عراق جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ ہم نے اپنے غریب اور معصوم شہریوں کو نہ صرف کشمیر ،انڈیا اور افغانستان بلکہ کئی دیگر ممالک میں بھی بطور پراکسی استعمال کرنے کی بے وقوفی کی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ہمارے ہی بہت سے شہری ہمارے قومی مفادات کے خلاف دشمن بطور پراکسی استعمال کررہا ہے جس کی وجہ سے آج ہم دنیا بھر میں انتہا پسند اور دہشت گرد کہلاتے ہیں ۔اگرچہ پاکستان ایک ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنا اتنا آسان نہیں لیکن پھر بھی بہتر یہی ہے کہ ہم قائد اعظم کے اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے امن و امان کے ساتھ رہیں۔مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بتدریج بہتر بنائیں اور اپنے معاملات میں بیرونی مداخلت سے گریز کو یقینی بناتے ہوئے پر امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندگی گزاریں۔معیشت کی بہتری کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں اور اپنی بائیس کروڑ کی افرادی قوت کی تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کے معیار زندگی کو بلند کریں۔

لیکن زراٹھہریں اگر عوام کا معیار زندگی بلند ہو گیا تویہ شتر بے مہار عوام کبھی جرنیلوں اور کبھی سیاستدانوں کے پیچھے کیسے بھاگیں گے ۔ ہماری سول اور ملٹری قیادت کو قومی امور پر فوری طور پر مذ اکرات کے ذریعے ایک پیج پر آنے اورقائد اعظم کے مذکورہ بالا فرمان کی روشنی میں قومی مفادات کا از سر نو تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم نے پاکستان اس لئے بنایا تھا کہ پھر ساری زندگی اپنی تمام توانائیاں اور وسائل اس کی چوکیداری پر صرف کرتے رہیں ۔لگتا نہیں کہ مستقبل قریب میں بھی ہم انتہا پسندی اور جنونیت کو ترک کر کے انسانوں کی طرح جینا سیکھ لیں۔ہم واقعی انتہا پسند ہیں کیونکہ ہم قائد اعظم کے نظریات کے مطابق پاکستان کو ڈھالنے میں اب تک ناکام ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے