قومی بیانیہ۔این چہ بوالعجبیست؟

ایک وقت تھا جب اہم قومی مفادات پر کوئی بحث لفظ ’’اسٹرٹیجک‘‘ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ اس لفظ کے استعمال سے نہ صرف انتہائی غیر اہم واقعات یا پالیسی تجاویز کو اہمیت مل جاتی بلکہ اسے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مکالمے کو مسدود اور بحث کو محدود کردیا جاتا۔ ’’اسٹرٹیجک‘‘ کا سابقہ معاملات کو تقدیس کے سانچے میں ایسا ڈھال دیتا کہ پھر ’’ایتھے جا نئیں او بولن دی‘‘۔ خیال کیا جاتا کہ زنگ آلود لوہے کو زرِ خالص میں بدلنے والے اس پارس کو نظر انداز کرنا حب الوطنی کے لائسنس کو معطل، بلکہ منسوخ کرانے کے مترادف ہے۔ ایٹمی ہتھیار، ملٹری ٹیک اوور، امداد فراہم کرنے یا تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات، انتہا پسند گروہوں کی نمو جیسے تمام معاملات اسی تزویراتی حرم میں اپنی موجودگی رکھتے تھے۔ گویا یہ طے ہوچکا کہ اپنی انتہائی اہمیت کے پیش ِ نظر یہ امور خودبخود منظور اور نافذ شدہ ہیں۔
لفظ ’’’اسٹرٹیجک‘‘ ابھی بھی زیر استعمال ہے لیکن اس کی مرکزی اہمیت وارد ہونے والے ایک اور لفظ ’’بیانیے‘‘ نے کم کردی ہے۔ ہر تحریر میں موجود یہ اسم (اور اسم صفت) اب ایسا سنگ ِ بنیاد بن چکا ہے جس کے بغیر کسی قومی اسکیم یا تعمیر کا تصور بھی محال ہے۔ پالیسی ساز اور میڈیا کے پنڈت اس اصطلاح کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتے۔ اسے ایک طرف ہمارے تمام قومی مسائل کی وجہ، اور دوسری طرف ان سب کا حل سمجھا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ’’پاکستان کا امیج اس لیے بہتر نہیں ہو رہا کیونکہ ہمارا بیانیہ کمزور ہے‘‘۔ ’’چونکہ انڈیا کا بیانیہ مضبوط ہے، اس لیے وہ دنیا کو من پسند تصویر دکھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے حالانکہ وہ خود مقبوضہ کشمیر میں انتہائی سنگین جرائم کا ارتکاب کررہا ہے۔ ’’اگر ہم اپنے بیانیے کو عالمی فورمرز پر پوری طاقت سے آگے بڑھائیں تو عالمی برادری ہمارے موقف کو تسلیم کرلے گی۔‘‘ ’’قومی بیانیے کی مخالفت کرنے والے ملک کے دشمن ہیں۔‘‘ ’’کہاں ہے ہمارا بیانیہ؟‘‘ ’’ہمیں ایسا بیانیہ تخلیق کرنا چاہیے جو ہمارے تمام مسائل کو حل کردے۔‘‘

یہ اور کچھ دیگر خواہشات، خدشات اور من پسند امکانات کی مارکیٹ میں بیانیہ ہی مستعمل کرنسی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کا مستقبل اور اس کا حال صرف یہی ’’فاتح عالم لسانی اصطلاح‘‘ محفوظ بنا سکتی ہے۔ یقین ِواثق ہے کہ قومی بیانیے کے بغیر ہم کچھ نہیں۔ اسٹرٹیجک سے آنکھیں پھیرتے ہوئے بیانیے کی طرف ہمارے تزویراتی جھکاؤ کی وجہ کیا ہے؟ اس کے لغوی معانی تو محض ’ریکارڈ‘ یا ’تحریری بیان‘ کے ہیں۔ بیانیہ ہمارا خبط کیونکر بنا؟ ہم نے اسے بونا پارٹ کیوں سمجھ لیا؟

اس خبط کی ایک وضاحت تو آسان ہے کہ یہ سوشل میڈیا کی پیداوار ہے۔ سوشل میڈیا نے لکھے اور بولے ہوئے لفظ کو بے پناہ وسعت دے دی ہے۔ اب عام بیانات ہر چند سچائی اور ساکھ سے محروم ہوں، سوشل میڈیا کی سان اُن کی دھار تیز کردیتی ہے۔ اس کے صارفین کی تعداد ( 44ملین ملکی اور 2.8 بلین عالمی اکاؤنٹس) آپ کی آواز کو پَر بھی لگا سکتی ہے اور آپ اس بحرِ بیکراں میں غرق بھی ہوسکتے ہیں۔مزید وضاحت اس حقیقت سے ہوتی کہ بیانیہ دراصل کسی مخصوص موقف کو پھیلانے کی جدید شکل ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ پروپیگنڈا کا ہی دوسرا نام ہے۔ اور اکثر اوقات پروپیگنڈا ضروری ہوجاتا ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ کے حریف آپ کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہوئے اپنا کیس مضبوط کر لیں گے۔ چنانچہ اس کی جدید شکل، بیانیہ ضروری ہے۔ ہم سب اس بات کو سمجھتے ہیں۔

تاہم جو بات ناقابلِ فہم ہے وہ یہ کہ آج کے دور میں قومی بیانیے پالیسی سازی کے ایک پیچیدہ نظام کی ایک پروڈکٹ بن چکے ہیں۔ یہ نظام ایک دوسرے کے ساتھ مربوط فعالیت رکھتے ہیں۔ ان کے پاس صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ دنیا کے سامنے اپنی پروڈکٹ (قومی بیانیہ) متعارف کرانے سے پہلے داخلی طور پر اتفاق رائے پیدا کرسکیں۔ اس نکتے کی مزید وضاحت کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بیانیہ کیا نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے، یہ کسی بیان، یا کسی مخصوص مدت میں دیے گئے بیانات کے سلسلے کا نام نہیں۔ نہ ہی یہ کسی موقف کو ثابت کرنے کے لیے پریس کانفرنسوں کا دفتر سجانے یا گاہے گاہے اعدادوشمار کا اتوار بازار لگانے کا نام ہے۔ قومی بیانیہ کسی ایک فرد یا کسی ایک ادارے کا موقف نہیں ہوتا۔ یہ اہمیت کا حامل اور قومی امنگوں کا ترجمان ضرور ہوتا ہے لیکن اسے کسی الہامی وحی کا درجہ حاصل نہیں ہوتا جس پر بحث اور تمحیص کی گنجائش موجود نہ ہو۔
چنانچہ اگر ایسا نہیں تو پھر بیانیہ کیا ہے؟ قومی بیانیہ پالیسیوں، حکمت عملیوں اور افعال کا ایک ایسا پیکیج ہے جس کا مقصد معینہ وقت کے اندر کسی قومی مقصد کا حصول ہوتا ہے۔ طے شدہ اہداف اُسی وقت حاصل کیے جا سکتے جب اُنہیں جاندار طریقے سے پیش کیا جائے۔ قومی پالیسیوں کی مارکیٹ ویلیو اُسی وقت بن سکتی ہے جب اُن کی موثر طریقے سے بھرپور تشہیر کی جائے۔ چنانچہ ان مراحل پر بیانیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔

تاہم قومی بیانیے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اسے فعال پالیسیوں اور جاندار اقدامات کا ساتھ حاصل ہو۔ مربوط پالیسیوں کی عدم موجودگی میں بیانیے محض بے کار شور شرابے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوتے۔ کسی پالیسی یا فعالیت کے بغیر محض بیانیے پر خوشنما توقعات کا محل استوار کرنا حماقت ہے۔ یہ سوچ بھی خام خیالی ہے کہ چونکہ بیانیے ملکی اور عالمی سطح پر پوری تندہی سے پیش کیے جا رہے ہیں، اس لیے وہ موثر ثابت ہوں گے۔ جس طرح جنگی پلان کے لیے گولی چلانے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح کسی بیانیے کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے کہ اُس کے سامعین اس کی طرف متوجہ ہوں۔ ہمارے کیس میں سامع عالمی برادری ہے۔

بیانیے جھوٹ یا فریب کی ملمع کاری کا نام نہیں۔ دشمن کے مقابلے میں جوشیلی نعرے بازی بھی بیانیہ نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ بیانیہ فکری ساکھ کی میزان پر پورا اترنے اور رائے عامہ کو تبدیل کرتے ہوئے اپنے مواقف بنانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ مزید براں، بیانیے کو آگے بڑھانے والے افراد ساکھ سے محروم نہ ہوں۔ یہ جاننے کے لیے کہ کم جونگ اُن ایک عظیم لیڈر ہیں یا نہیں، آپ نارتھ کورین ٹائمز کا مطالعہ نہیں کریں گے۔ نہ ہی آپ ایوانکا اور ٹفنی سے ٹرمپ کی کامیابیوں کی گواہی لیں گے۔ جب فکری دیوالیہ پن کے شکار افراد کو بیانیہ آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو وہ اس کے مواد کو تباہ کر دیتے ہیں۔ تاہم قومی بیانیے کا سب سے اہم عنصر اس کے پیچھے اتفاق رائے کی طاقت کا ہونا ہے۔ ضروری ہے کہ اسے آگے بڑھانے سے پہلے اس پر سیر حاصل بحث کر لی جائے۔ قومی اتفاقِ رائے کے بغیر بیانیہ ایسے پھول کی طرح ہے جو کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتا ہے۔
ان معروضات کو سامنے رکھتے ہوئے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے بیانیے کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، اور کیوں ہم اپنی بہترین کوششوں کے باوجود عالمی برادری کی رائے کو اپنے حق میں ڈھالنے میں ناکام ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں تمام قربانیوں، نقصانات، تکالیف اور کامیابیوں کے باوجود دنیا ہماری طرف انگشت نمائی کرتی چلی آرہی ہے۔ جمہوری تسلسل اور ملک کی ترقی کے باوجود دنیا پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتی ہے جس کے اقتدار پر فوج کسی بھی وقت قبضہ کرسکتی ہے۔ اپنی میڈیا انڈسٹری کے دنیا کو دکھائے جانے والے تمام تر اعداد و شمار کے باوجود ہم حقیقی آزادیٔ اظہار کے گراف پر بہت نچلے درجے پر ہیں۔

اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ ہماری پالیسیوں اور اقدامات میں عدم مسابقت پائی جاتی ہے، یا پھر ہمارے بیانات اور حقائق ایک دوسرے سے متصادم ہیں، یا پھر ہمارے بیانیے کا سرچشمہ قومی بحث نہیں ہے۔ ہمارے قومی بیانیے موسمیاتی تبدیلیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کا جھکاؤ صاحبانِ اقتدار کی منشا کی طرف ہوتا ہے۔ ان میں تسلسل کے اہم ترین عنصر کا فقدان ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بحث شجر ممنوعہ کا درجہ پاتی ہے۔ مختلف اداروں کے موقف کے درمیان مفاہمت کی بات گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتی ہے۔ داخلی طور پر تقسیم، جسے مزید گہرا کرنے کی کوشش میں ہمارا کوئی ثانی نہیں، رکھتے ہوئے ہم دنیا کے سامنے ایک متحدہ محاذ لانا چاہتے ہیں۔ گھر میں ایک دوسرے کے سینے میں خنجر اتارنے کا مشغلہ اپنانے والے عالمی برادری کو صلح جو چہرہ دکھانے کے آرزو مند ہیں۔ ذاتی تشہیر کی بازی میں ایک دوسرے کا گلا گھونٹتے ہوئے ہم توقع رکھتے ہیں کہ دنیا پاکستان سے ایک آواز سنے۔ اس صورتِ حال میں کسی بیانیے کا کامیاب ہونا تو کجا، اس کی تشکیل ہی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ ہمارا فیصلہ ساز دھڑے، یہ جانے بغیر کہ ہمارے حقیقی اہداف کیا ہیں، متضاد مقاصد پر گامزن ہیں۔ معیشت، خارجہ پالیسی، دفاعی امور، جمہوریت، استحکام، بنیادی آزادیوں کے حوالے سے ہم داخلی عدم مطابقت کا شکار ہیں۔ جب سازینہ ہی شکستہ ہو تو کیسی موسیقی، کیسے سُرتال؟ باہم متحارب دھڑوں سے یکجان قومی بیانیے کی توقع عبث ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے