نیوم منصوبہ کیا ہے؟ آئی بی سی اردو کا خصوصی بلیٹن

نیوم منصوبہ کی ویب سائٹ وزٹ کریں

http://discoverneom.com/

[pullquote]نیوم کے محل وقوع کا نقشہ جاری[/pullquote]

500 ارب ڈالر کے سرمائے سے قائم کئے جانے والے جدید ترین سعودی شہر "نیوم”کے محل وقوع کا وضاحتی نقشہ جاری کر دیاگیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نیوم کا اسٹراٹیجک علاقہ اردن اور مصر کی سرحدوں ، بحراحمر، خلیج عقبہ کے ساحل اور جزیرہ تیران اور جزیرہ سرافیل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ نیوم میں 9خصوصی شعبوں میں سرمایہ لگایا جائے گا۔ ان کا بنیادی مقصد انسانی تمدن کے روشن مستقبل کی تعمیر ہے۔

[pullquote]دیوار چین سے بڑا منصوبہ تعمیر کرینگے ، شہزادہ محمد بن سلمان[/pullquote]

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’’نیوم‘‘ سیاحتی منصوبے میں روایتی کمپنیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ یہ منصوبہ غیر روایتی منصوبے شروع کرنے کا خواب دیکھنے والوں کیلئے مخصوص ہے۔ یہ منصوبہ سعودی عرب کے جغرافیائی محل وقوع، شمسی توانائی او رہوا کی توانائی سے بھرپور استفادہ کریگا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ سعودی عرب کے خوابوں اور آرزوئوں کی کوئی حد نہیں۔ ہمارا ملک ثابت قدمی کے ساتھ عظیم الشان پروگرام کو لیکر آگے بڑھ رہا ہے۔تبدیلی اور ترقی کی طرف گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ 20ملین سعودی شہریوں میں سے ایک ہیں۔ وہ تنہا کچھ بھی نہیں۔ وہ بنیادی طور پر سعودی نوجوانوں کو تحریک دینے پر انحصار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں 20ملین سعودیوں میں سے ایک معمولی شہری ہوں۔

سعودی مجھے آگے بڑھنے کی تحریک اور حوصلہ دے رہے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ تبوک کا علاقہ ریاض، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مشرقی ریجن کی طرح عالمی نقشے پر اپنا ایک مقام بنائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے 4علاقے عالمی نقشے پر اپنا ایک مقام بنائے ہوئے ہیں۔ میری مراد ریاض، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مشرقی ریجن سے ہے۔ میں اہل تبوک کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ انکا علاقہ بحر احمر منصوبے اور نیوم منصوبے کے بعد دنیا کے نقشے پر منفرد مقام بنائیگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تبوک کی طرح مملکت کے دیگر تمام علاقوں میں بھی منفرد کام ہونگے۔ انہو ںنے نیوم منصوبے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم عظیم دیوار چین سے بڑا منصوبہ تعمیر کرینگے مگر سولر پینل سے۔ ہمارے یہاں سب سے اہم سعودی نوجوان ہیں جو فراست ، عزم و ارادہ اور اپنے وطن میں عظیم الشان اقتصادی مواقع کے مالک ہیں۔ نیوم میں انسانوں سے زیادہ روبوٹ ہونگے۔ بحر احمر کا علاقہ توانائی پیدا کرنے کیلئے بہت کافی ثابت ہوگا۔ وہاں ہم شمسی توانائی اور پن بجلی تیار کرنے کے بڑے مواقع ہیں۔ نیوم منصوبہ سعودی عرب کے بیشتر نقوش تبدیل کردیگا۔

[pullquote]مستقبل ساز منصوبہ ’’نیوم‘‘ کا عظیم الشان افتتاح[/pullquote]

سعودی ولی عہد ، نائب وزیراعظم و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے مستقبل ساز منصوبے (Neom)نیوم کا منگل کو عظیم الشان عالمی تقریب میں افتتاح کردیا۔ یہ سعودی عرب ، اردن اور مصر میں 26.5کلو میٹر کے رقبے پر قائم کیا جائیگا۔ 3 براعظموں کو ایک دوسرے سے مربوط کریگا۔ یہ بحر احمر اور خلیج عقبہ کے 468کلو میٹر کے رقبے پر سایہ فگن ہوگا۔اسکا پہلا مرحلہ 2025ء میں مکمل ہوگا۔ یہ سعودی وژن 2030کے خوابوں کا امین ہوگا۔

9خصوصی سرمایہ کاری کے شعبوں کا احاطہ کریگا۔ اس میں توانائی، پانی ، ٹرانسپورٹ ، اہم ٹیکنالوجی ، خوراک ، سائنس ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، میڈیا ، تفریحات ، معیشت اور ترقی یافتہ صنعتیں لگائی جائیں گی۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نیوم زون کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ یہ انسانی تمدن کے مستقبل کا آئینہ دار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 9شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی بدولت سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

روزگار کے نئے مواقع مہیا ہونگے۔پبلک سیکٹر کو سرمایہ کاری کی ترغیبات فراہم کریگا۔ سرکاری شعبوں کو بھی حصہ لینے کا موقع مہیا کریگا۔ سعودی عرب پبلک انویسمنٹ فنڈ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار آئندہ برسوں کے دوران اس میں 500ارب ڈالر سے زیادہ لگائیں گے۔

[pullquote]”نیوم” کے باشندے قابل اور تجربہ کار سعودی اور تارکین وطن ہونگے[/pullquote]

ریاض… سعودی عرب ، مصر اور اردن کو جوڑنے والے عظیم الشان عالمی منصوبے نیوم سے متعلق 13اہم سوالات کے جوابات دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ نیوم شہر کے باشندوں میں قابل اور تجربہ کار سعودی اور تارکین وطن دونوں شامل ہوں گے۔ سعودی عرب نے نیوم منصوبے کیلئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت نگران ادارہ قائم کردیا۔ یہ منصوبہ مملکت کے شمال مغرب میں مصری اور اردنی اراضی میں قائم کیا جائے گا۔ منفرد خصوصیات کا حامل ہوگا۔ عالمی تجارتی راستوں اور منڈیوں کے قریب ہو گا۔ بحراحمر سے گزرے گا۔ عالمی تجارت کا 10 فیصد حصہ اس سے منسلک ہو گا۔ دنیا کے 70فیصد باشندے زیادہ سے زیادہ 8گھنٹے میں یہاں پہنچ سکیںگے۔ یہ پرکشش ساحلوں سے مالامال ہے۔

بحراحمر کے ساحل کا 460کلومیٹر حصہ اور کئی پرکشش جزیرے اس میں داخل ہوں گے۔ یہاں دنیا کا اعلیٰ ترین دماغ جمع ہو گا۔ جدت طراز کمپنیاں کھلیں گی۔ یہاں کا طرز معاشرت اپنے آپ میں ایک چیلنج رکھے گا۔ پوری دنیا کے لئے مثالی منصوبہ ثابت ہوگا۔اس کی بدولت سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار کی کھپت اندرون ملک ہو سکے گی۔ سعودی سرمایہ کار باہر کا رخ کرنے کی بجائے نیوم کا رخ کریں گے۔ نیوم کا اپنا انتظامی ڈھانچہ ہو گا۔ یہاں تنازعات نمٹانے کیلئے خصوصی عدالتی نظام ہوگا۔ اس علاقے کے قوانین و ضوابط منفرد ہوںگے۔ مملکت کے قوانین سے مختلف ہوں گے۔ سعودی بالادستی قائم رہے گی۔ یہاں ثقافتی ،تعلیمی اور فنون کے حوالے سے عالمی طور طریقے اپنائے جائیں گے۔ نیوم منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔

مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا۔ پہلا مرحلہ 2025ءمیں مکمل ہوگا۔ یہاں افرادی قوت سے کہیں زیادہ روبوٹس پر انحصار کیا جائے گا۔ یہاں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ آبادی میں بھی اضافہ ہو گا۔ اعلیٰ مہارت رکھنے والے لوگ اسٹراٹیجک اور اچھوتے کاموں کے لئے آئیں گے۔ ان میں ڈاکٹر وغیرہ شامل ہوں گے۔ یہ ایک طرح سے مستقبل کا عالمی مثالی شہر ہو گا۔ تعلیم، صحت ، خوراک ، ٹرانسپورٹ ، تفریحات اور جدید ٹیکنالوجی کی صنعت کے حوالے سے انتہائی معیاری ہو گا۔ یہاں کے باشندوں کو پیدل چل کر یا سائیکلوں کے ذریعے آنے جانے کے مواقع مہیا ہوں گے۔ بنیادی ڈھانچہ اعلیٰ درجے کا ہو گا۔ سرکاری خدمات کی فراہمی اور استعمال دونوں آسان ہوںگے۔ ڈیجیٹل مفت سروس مہیا ہوگی۔ ہر جگہ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائیگی۔

نیوم میں توانائی و پانی ، نقل و حمل، اہم ٹیکنالوجی ، خوراک ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائنس ، ترقی یافتہ صنعت، میڈیا اور ابلاغی پروگرام نیز تفریحات وغیرہ کا مستقبل تابناک ہو گا۔ یہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پرکشش مواقع فراہم ہوں گے۔ سعودی اور عالمی منڈی تک رسائی آسانی سے ہو سکے گی۔ سعودی پبلک انوسٹمنٹ فنڈ اور مقامی و عالمی سرمایہ کار یہاں 500ارب ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ لگائیں گے۔ نیوم کا علاقہ اسپیشل ہوگا۔ عام ریاستی قوانین و ضوابط ، انکم ٹیکس، کسٹمز ، قوانین محنت اور تجارتی پابندیوں سے آزاد ہو گا۔ عسکری امور، خارجہ پالیسی اور ریاستی فیصلے سعودی عرب کے ہوں گے۔

[pullquote]ایشیا ، افریقہ اور یورپ کو جوڑنے والا نیوم منصوبہ کہاں ہوگا؟[/pullquote]

منصوبے کیلئے مختص مقام انتہائی اہم خصوصیات کا حامل ہے۔ یہ عرب دنیا کو ایشیا، افریقہ، یورپ سے جوڑنے والے پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ علاقہ مملکت کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ شمال اور مغرب کی جانب سے بحر احمر اور خلیج عقبہ کا 468کلو میٹر کا علاقہ اس کے دائرے میں آئیگا۔ مشرق میں 2500میٹر اونچا پہاڑی علاقہ واقع ہے۔ یہاں کا موسم خوشگوار رہتا ہے۔یہاں سورج کی کرنوں اور ہوا کی نعمت سے متبادل توانائی پر کامل انحصار بھی کیا جاسکتا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ نیوم کا علاقہ الف سے یا تک مکمل ازسر نو بسایا جائیگا۔ یہاں فی الوقت کوئی بھی سہولت مہیا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ اگر دنیا کا سب سے محفوظ علاقہ نہیں تو دنیا کے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ضرور ہے۔ یہاں جملہ خدمات صد فیصد مہیا ہونگی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نیوم شہر اور دیگر شہرو ں میں وہی فر ق ہے جو ایک روایتی قسم کے موبائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ موبائل کے درمیان ہوتا ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ 10فیصد عالمی تجارت نیوم کے راستے ہوگی۔

[pullquote]کیا نیوم دبئی کا حریف بننے جارہاہے؟[/pullquote]

شہزادہ محمد بن سلمان سے دریافت کیاگیا کہ کیا نیوم دبئی کا حریف بننے جارہا ہے ، انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ نیوم کو اس زاویئے سے نہ دیکھا جائے، اس سے تمام فریق فائدہ اٹھائیں گے ۔ یہ مقابلہ جاتی کھیل نہیں۔ نیوم نئے گاہک پیدا کرے گا ، ہمسائے بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ ہانگ کانگ کے قیام سے سنگاپور کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوا یا سنگاپور نے ہانگ کانگ کو نقصان سے دوچار نہیں کیا، دونوں کا اپنا اپنا میدان ہے۔ یہی اصول دبئی اور نیوم پر بھی لاگو ہوگا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ نیوم کو اس وقت تک بین الاقوامی حصص مارکیٹ میں پیش نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ پورا تصور پختہ نہ ہوجائے۔ سعودی عرب اور ورجن کمپنی کے درمیان شراکت سے متعلق تفصیلات سے پتہ چلا ہے کہ سعودی جنرل انویسٹمنٹ فنڈ اور وریجن گروپ نے خلائی پروازوں کے منصوبے پر 480 ملین ڈالر لگانے کا فیصلہ کیا ہے اس کی منظوری شہزادہ محمد بن سلمان اور ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برسن نے دے دی ہے۔ ورجن گروپ کے بانی نے کہا کہ ہم سعودی عرب کو اپنے نئے شریک کے طور پر خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں۔ فریقین نے اس حوالے سے مفامتی یادداشت پر دستخط کردیئے۔



[pullquote]”نیوم”کیلئے تبوک میں شمسی توانائی سے بجلی تیار کرنے والا منصوبہ[/pullquote]

ریاض۔۔500ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے منفرد عالمی شہر "نیوم”کیلئے شمسی توانائی سے بجلی تیار کرنے والا منصوبہ تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ یہ دنیا کے بڑے بجلی گھروں میں سے ایک ہو گا۔ اسے "ضباء الخضراء” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دنیا کا عظیم الشان اور نادر روزگار ماحول دوست بجلی منصوبہ ہوگا۔ اس کے تمام یونٹ شمسی توانائی پر منحصر ہوں گے۔ 605میگا واٹ سے زیادہ بجلی تیار کرے گا۔ اس کی بدولت تبوک دنیابھر کو بجلی توانائی برآمد کرنے والا علاقہ بن جائے گا۔ پروگرام کے مطابق تبوک اور مدینہ منورہ کے درمیانی علاقے میں بجلی کی ترسیل کا نظام مضبوط ہوگا۔ مدینہ منورہ کو تبوک وغیرہ سے 1270کلومیٹر طویل لائن کے ذریعے 3000میگا واٹ بجلی مہیا کی جائے گی۔ اس کی لاگت 4.5ارب ریال ہوگی۔

یہ منصوبہ اسپین کی اینیٹک انرجیSA اور سعودی کمپنی برائے برقی خدمات نافذ کر رہی ہیں۔ یہ منصوبہ 100سعودی انجینیئرز چلائیں گے۔ انہیں تربیت حاصل کرنے کیلئے سرکاری اسکالرشپ پر باہر بھیجا گیا۔ دوسری جانب روسی انوسٹمنٹ فنڈ کے چیئرمین کیرل ڈمیٹریف نے بتایا کہ روس نیوم منصوبے میں شریک ہو گا۔ انہوں نے ریاض میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرمایہ کاری کے مستقبل فورم میں شرکت کر کے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ نیوم منصوبہ متعدد شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا سنگم بنے گا۔ روسی انوسٹمنٹ فنڈ بین الاقوامی اداروں کے پہلو بہ پہلو اس میں شریک ہوگا۔ شمسی توانائی ،مصنوعی ذہانت، بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے، صحت نگہداشت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں سرمایہ لگائے گا۔

دریں اثناء اردن میں العقبہ اکنامک ریجن کے سربراہ ناصر الشریدہ نے واضح کیا کہ نیوم بڑا اور مکمل اقتصادی منصوبہ ہے۔ اس کی تیاری میں اردن کی مشاوت شامل رہی ہے۔ دونوں ملک جلد ہی ملاقاتیں کر کے مفصل تصور تیار کریں گے۔ العقبہ کا علاقہ نیوم منصوبے کا حصہ ہو گا۔ نیوم کے سربراہ ڈاکٹر کلاؤس کلنفیلڈ نے بتایا کہ ان کا عارضی دفتر ریاض میں ہو گا۔ کام مخصوص درجے تک پہنچنے کے بعد وہ ریاض سے مملکت کے شمال مغرب میں منتقل ہو جائیں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ نیوم منصوبہ منفرد نوعیت کا ہے۔ یہ عظیم اقتصادی افق اور اعلیٰ معیار معیشت کا حسین سنگم ہے۔ اس کی سربراہی میرے لئے باعث سرفراز ہے۔

[pullquote]نیوم میں شراب نوشی پر پابندی ہوگی ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان[/pullquote]

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا ہے کہ نیوم میں نشہ آور مشروبات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اس حوالے سے نیوم میں سعودی قوانین و ضوابط ہی نافذ کئے جائیں گے ۔ انہوں نے امریکی خبررساں ادارے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ نیوم میں مختلف قوانین نافذ کئے جائیں گے

98فیصد قوانین ایسے ہوں گے جو نیوم جیسے عالمی شہروں میں رائج ہیںالبتہ باقی 2فیصد قوانین سعودی ہوں گے۔ مثال کے طور پر مملکت والے علاقے میں شراب نوشی کی اجازت نہیں ہو گی۔اگر کوئی غیر ملکی شراب پینا چاہے گا تو وہ مصر یا اردن والے علاقے میں جاکر یہ شوق پورا کر سکے گا ۔نیوم میں مصر ، اردن اور سعودی عرب تینوں ملکوں کے علاقے شامل ہوں گے ۔

غیر ملکی کو اپنا شوق پورا کرنے کیلئے جزیرہ تیران سے مصر والے علاقے میں جانے کیلئے 3.5کلو میٹر کا سفرطے کرنا ہو گا۔ اس کیلئے گاڑی سے 2منٹ لگیں گے ،جبکہ جزیرہ تیران راس الشیخ حمید سے 15کلو میٹر دور ہے ۔ اگر آپ شہر سے دو ر ہوں تو گاڑی سے 20منٹ میں سفر کیا جا سکے گا ۔ نیوم منصوبہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کی جملہ ضرورتوں کو تمام قوانین کی پاسداری کے ساتھ پورا کر سکے گا ۔

[pullquote] ” نیوم“ سے سعودی معیشت کو کیاملے گا؟[/pullquote]

جدہ…. ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مستقبل کے جس تاریخی منصوبے نیوم کا اعلان کیا ہے وہ مملکت کے شمال مغرب میں روبعمل لایا جائیگا۔ اسکی بدولت اقتصادی فروغ کے 6اہم مواقع حاصل ہونگے۔ سعودی عرب کو 70ارب ڈالر تک کی آمدنی ہوگی۔سعودی سرمایہ کاروں کو ایسے شعبوں میں سرمایہ لگانے کے مواقع میسر ہونگے جو اب تک نہیں تھے اورانکے لئے انہیں سعودی عرب سے باہر نکلنا پڑتا تھا۔ سعودی شہری غیر ممالک کی سیاحت سے بے نیاز ہوجائیں گے اور سیاحت کیلئے نیوم جانا پسند کرینگے۔

آئندہ برسوں کے دوران نیوم میں 500ارب ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ لگایا جائیگا۔ اسکے غیر معمولی فوائد نمودار ہونگے۔ نیوم سے مملکت کی مجموعی قومی پیداوار 2030ءتک سالانہ 100ارب ڈالر ہوگی۔ ممکن ہے اس سے بھی زیادہ ہو۔ نیوم میں فی کس آمدنی کی شرح دنیا کے ہر ملک سے بڑھ کر ہوگی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے