ڈی آئی خان: لڑکی پر تشدد کے الزام میں 7 افراد گرفتار

ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں گرہ مٹ میں نوجوان لڑکی کو محصور کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے والے 9 مبینہ ملزمان میں سے 7 کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

واضح رہے کہ لڑکی کے اہل خانہ نے 27 اکتوبر کو پولیس کو بتایا تھا کہ ملزمان نے لڑکی کو زبردستی برہنہ کرکے پورے گاؤں میں گھمایا تھا۔

بعد ازاں وہ اپنے بیان سے مکر گئے اور ان کا کہنا تھا کہ 9 افراد لڑکی کو ثناءاللہ کے گھر لے گئے تھے جہاں انہوں نے اسے مارا اور کپڑے پھاڑ دیے اور غیر قانونی طور پر محصور رکھا۔

لڑکی کا کہنا تھا کہ ملزمان اسے گھسیٹتے ہوئے گھر میں لے گئے جس کی وجہ سے اسے ہاتھ اور پیر پر شدید چوٹیں آئیں۔

خیال رہے کہ پولیس نے 27 اکتوبر کو واقعے کی دو ایف آئی آر درج کی تھیں جن میں سے پہلی ملزمان کے گھر کی ایک خاتون کی شکایت پر اور دوسری تشدد کا شکار لڑکی کے دیئے گئے بیان پر درج کی گئی۔

مقامی پولیس افسر سید فدا حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر 7 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں شاہ جہاں، گلستان، رمضان، اکرام، ثناءاللہ، ناصر اور اسلم شامل ہیں جبکہ دو افراد سجاول اور سیدو لاپتہ ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کیس کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے اسپیشل ٹیم بھی تیار کی ہے۔

تاہم لڑکی کے اہل خانہ نے شکایت کی ہے کہ پولیس تھانے کے ایس ایچ او ملزمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ہمارے ہی خلاف کیس دائر کردیا گیا ہے تاکہ سانحہ پر پردہ ڈالا جاسکے۔

مبینہ تشدد کا شکار لڑکی کے بھائی نے صوبائی پولیس افسر سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے پر اعلیٰ سطح کی تفتیش ہونی چاہیے اور ایس ایچ او کے خلاف سخت سے سخت کارروائی بھی کی جائے۔

درخواست میں انھوں نے الزام لگایا کہ 27 اکتوبر کی صبح ان کی بہن اپنی تین سہیلیوں کے ساتھ پانی لینے کے لیے قریبی تالاب تک گئی تھیں کہ سجاول اور دیگر ملزمان نے ان کی بہن کو گھیر کر ان کے کپڑے پھاڑے اور انہیں برہنہ بھاگنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بہن نے قریبی ایک گھر پر پناہ حاصل کی جہاں سے ان ملزمان نے انہیں نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر غیر قانونی طور پر قید میں رکھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی تھانے کے ایس ایچ او نے ان کی شکایت کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی اور پھر بعد میں ہمارے ہی اہل خانہ پر ملزمان کے گھر کی خاتون کی جانب سے شکایت پر ایف آئی آر درج کرلی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے