چینی معاف نہیں کرتے

پہلی بار چین گیا تو میرے مشاہدے میں آیا کہ اس ملک کی ہزاروں سال پرانی روایات‘ عادات‘ کھانے پینے کا کلچر ‘ملبوسات‘ نجانے کیا کچھ ہم سے مختلف ہے؛ حالانکہ برصغیر کا نقشہ دیکھا جائے تو چین کی سرحدیں بھارت سے ملتی ہیں۔ سرحدوں کے ساتھ ہونے کے باوجود‘ ان دو نیم براعظموں میں رہن سہن اور عادات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں نے سارا چین تو نہیں دیکھا۔اس ملک کے وسیع و عریض رقبے میں‘ بے شمار ملک نکل سکتے ہیں۔ چینیوں کی موسیقی بڑے کمال کی ہے۔ پہلی بار سنیں تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ لیکن بار بارسننے کے بعد‘ کان اور دماغ لطف اندوز ہونے لگتے ہیں اور کیوں نہ ہوں‘ ہے تو مشرقی موسیقی۔سب سے منفرد چیز چینیوں کے‘ نئے اور پرانے گیت ہیں۔ جب چینی فن کار بیجنگ کے تھیٹر یا بطور مہمان‘ ہمارے سٹیج پر آکر اپنے گیت اور موسیقی ‘حاضرین کے سامنے پیش کرتے ہیں تو جلد ہی ہماری مشرقی موسیقی‘ ان کی آوازوں اور آکسٹرا میں‘ عظیم تروسعتوں کے ساتھ ہمیں لطف اندو ز کرتی ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے ریشم کے گدے پر تیرتے پھر رہے ہوں۔یہی معاملہ چینیوں کے ساتھ ہے۔ وہ جب پاکستان آکر ہماری موسیقی سنتے ہیں‘ تو اس پر جھومنا نہیں بھولتے۔
انسانی رویوں میں پاکستانی اور چینی اقوام کی بہت سی عادات مشترک ہیں۔مثلاً ان دونوں قوموں میں محبت اور نفرت اور کھانے پینے کا کلچر ‘اس قدر تہہ در تہہ ہیں کہ دونوں کی گہرائی کو جاننا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ہمارے لاہور ‘کشمیر اور چین میں چرندوںو پرندوں کا گوشت ‘اتنے اَن گنت ذائقوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے کہ دستر خوان سے ایک ہی نشست پر سجائے گئے تمام کھانوں کو چکھ لینا‘ ہر مہمان کے بس میں نہیں ہوتا۔صرف خوراک کا کچھ فرق ہے۔ مثلاً چینی کتے‘ بلیاں‘ چوہے‘ مینڈک اور اسی طرح کی بے شمار دوسری مخلوقات کے ساتھ‘ شکم سیری کی وسعتیں ہماری تنگ دامنی کے اندر جھانک کر نہیں دیکھ سکتیں۔چین میں غربت کا خاتمہ ہونے کے بعد‘ اب خوش حال چینی باشندے ماضی کی پسندیدہ غذائوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔اس ذائقے سے صرف چینی لوگ‘دیہات یا شہروں کے پسماندہ حصوں میں لطف اندوزہو سکتے ہیں۔اگر چینیوں کی اسی نئی خوراک سے آپ کوپرانی حالت میں لطف اندوز ہونا ہو‘ تو آپ ہانگ کانگ کا رخ کر سکتے ہیں۔ وہاں شہر کے پُررونق بازاروں میں آپ کو چینیوں کی ہر خوراک فراوانی سے دستیاب ہو سکتی ہے۔ بعض غذائیں زندہ سلامت لہراتی پھرتی ہیں جیسے مینڈک‘ سانپ اور اسی نوعیت کے دوسرے جانداروں کے ”گوشت‘‘ سے آج بھی بھرے بازاروں میں‘ فٹ پاتھ یا ڈائننگ روم میں بے فکری اور مزے سے‘ اپنی مرغوب غذا کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔
بھارتی یوں تو بڑی صاف ستھری غذائیں کھاتے ہیں مثلاً وہ گائے کا گوشت نہ خود کھاتے ہیں اور نہ کسی کو کھانے دیتے ہیں۔ان کے ہاں گائے پر چھری نہیں چلائی جا سکتی لیکن گائے کو لے کر جانے والے دوچارآدمیوں کو‘ سڑک پر ہی چھریوںسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں۔جب سے بھارت میں مودی حکومت آئی ہے‘ وہاں گائے لے کر جاتے ہوئے مسلمانوں کو دیکھ لیں تو گردونواح کے ہندو ‘چھریاں لہراتے ہوئے لپک کر آتے ہیں۔ گائے کو ایک طرف کرتے ہیں اور لے جانے والے سارے ہجوم میں سے ‘جو بندہ بھی ان کے ہاتھ لگے‘ اس کی بوٹی بوٹی کر دیتے ہیں۔ ”بے رحمی‘‘ تو ہندو کے قریب سے نہیں گزری۔ شاید ان کا دھرم ہے کہ کسی جاندار کو پیر تلے کچل دیں یا چھریوں سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں۔ اس سے انہیںروحانی تسکین ملتی ہے۔
معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے‘ چینیوں کے بے شمار طریقے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے وہ نئی تہذیب اختیار کر رہے ہیں‘ اپنے گناہوں کو معاف کرانے کے لئے‘ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کو تیز رفتاری سے جرائم سے پاک صاف کرنے میں لگے ہیں۔ جہاں بھی انہیں خبر مل جائے کہ کسی جرائم پیشہ فرد یا گروہ نے کوئی معاشرتی جرم کیا ہے تو پھر سزا اس کے وجود سے دور نہیں رہتی۔ پنجاب حکومت نے غریب لوگوں کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لئے میٹرو چلانے کا ایک منصوبہ بنایا۔ ہمارے ہاں آج بھی گھوڑوں‘ گدھا گاڑیوں اور بیل گاڑیوں پر بیٹھ کر شہری بیوی بچوں سمیت آرام دہ سفر کرتے ہیں۔ فی الحال شہری زندگی کو بدصورت بنانے والے مجرموں کو زیادہ سے زیاہ جرمانہ کیا جاتا ہے لیکن اگر میٹرو کو چینی انتظامیہ چلائے تو گناہ گار کو معافی نہیں دی جا ئے گی۔ دو چار اہلکار اکٹھے وہیں میٹرو کے اندر بیٹھے مسافروں کو‘ ڈبے کے اندر لٹا کر چھاتی پر بیٹھ جائیں گے اور مسافروں کو دکھا دکھا کر گناہ گار کی چیڑ پھاڑ کر دیں گے۔
اپنے ملک میں چینی انتظامیہ ‘گناہ گاروں کو سزا دینے کے لئے‘ بڑے ہی شائستہ انداز میں فرائض انجام دیتی ہے۔چند روز پہلے میں نے چین کے ایک نیٹ ورک پر ایک مجرم خاتون کو سزا ملتے ہوئے دیکھی۔ وہ ایک وسیع و عریض عمارت کے دروازے سے‘ ایک بندھی بندھائی خوبصورت خاتون کو‘ دھکے دیتے ہوئے دروازے سے باہر لاتے ہیں۔ د ونوں طرف کے سپاہیوں نے اس کے ہاتھ پکڑ رکھے ہیں جو کہ پشت کی طرف کر کے باندھے گئے ہیں۔ اسی طرح رسی ڈھیلی چھوڑ کے‘ اس کے پائوں باندھے گئے ہیں تاکہ اسے زبردستی گھسیٹا جاسکے لیکن کون بدنصیب ایسا ہوسکتا ہے جو بندھے ہوئے ٹخنوں کے ساتھ لمبے لمبے قدم اٹھا سکے چنانچہ اسے گھسیٹنا پڑتا ہے۔ آخر میں جہاں برآمدہ ختم ہوتا ہے‘اس کے سامنے ایک چھوٹے صحن میں لا کر اسے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ایک مرد اس کے عقب سے نکلتا ہے اور جہاں جہاں سے اس کا جسم باندھا گیا تھا‘ اسے کھول دیا جاتا ہے۔ ہاتھ اور پائوں پکڑ کے‘ اسے بٹھا دیا جاتا ہے۔اس کے سر کے عقب میں کھوپڑی کے اوپر ‘پستول کی نالی رکھ کے گولی چلا دی جاتی ہے۔ یہ بد قسمت خاتون جس کی عمر زیادہ نہیں‘اسے سزائے موت اتنی نفاست سے دی جاتی ہے کہ اس کے گرد لپٹی ہوئی ‘چادر کے اندر سے‘ خون کا ایک قطرہ تک نہیں گرتا۔ کیا نفاست ہے؟حکام اسے فرش پر بے یارو مددگار تڑپنے اور جان دینے کے لئے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ بعد میں ظاہر ہے کوئی دوسری فورس ہو گی جو اس خاتون کی لاش کوٹھکانے لگا دیتی ہو۔ جب سے یہ سب کچھ دیکھاہے۔ میں یہ سوچ کے لرز جاتا ہوں کہ ہمارے ملک کے جو حکا م ‘ ٹھیکیدار‘ یا بیوپاری‘ چینیوں کے ساتھ کوئی بے ایمانی کرتے ہیں تو انہیں سزا کیسے دی جا تی ہو گی؟یاد رہے جس چینی خاتون کو کیمرے کے سامنے سزائے موت دی گئی ‘ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ چھوٹے بچوں کو اٹھا کر فروخت کرتی تھی۔میرے اہل وطن‘ کسی چینی کے ساتھ حصہ پتی کر کے‘ رشوت کھاکر پکڑے جائیںتو چینی معاف نہیں کرتے۔پھر عرض ہے کہ چینی معاف نہیں کرتے۔ان دنوں بھی چین کے بعض علاقوں میں ‘شیر کا گوشت خوبصورتی سے پیک کر کے‘ کھانے کے لئے فروخت کیا جاتا ہے۔ شیر کا مہنگا گوشت ‘ صرف سرمایہ دار ہی تناول کر تے ہیں اور”شیر کی ہڈیاں‘‘ دوائیں بنانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے