سر رہ گزر مہنگائی رُک نہ سکی چولہا بھی بجھایا میں نے

مہنگائی، وی وی آئی پی موضوع ہے، کیونکہ پیٹ نہ پڑی روٹی تو ساری باتیں کھوٹی، جتنی عمر ماشاء اللہ پاکستان کی ہے اتنی ہی مہنگائی، یہ کیوں ہے کہاں سے آئی ہے؟ یہ ہے وہ سوال جسکا جواب عام نہیں تو خاص آدمی کو معلوم ہے، مگر طبقۂ خواص اشرافیہ ہو یا دانشورانِ ملت سب کچھ بالجبر بڑے ہی سنجیدہ لہجے میں بار بار بیان کرتے ہیں مگر اس نگوڑی مہنگائی پر کسی نے آج تک پی ایچ ڈی نہیں کی حالانکہ اسکی معلومات ہر دور کے غریب عوام کو دیکھ کر ہی مل جاتی ہیں، کتابیات کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، مہنگائی کی والدہ تیل ہے، بشرطیکہ اسے بار بار مہنگا کیا جائے تب اسے یہ رتبہ بلند ملتا ہے، اب دیکھیں ناں کہ قیمتوں میں اضافے کی ہیٹرک بھی تیل ماں نے کی ہے، یا اسکے ’’کمائو پُتروں‘‘ نے اسے کرا دی ہے، پٹرول اب 2.49، ڈیزل5.19، مٹی کا تیل 5روپے فی لٹر مہنگا ملے گا، مٹی کے تیل کو پٹرول کے برابر لایا جا رہا ہے کاش اسی اسپیڈ سے مفلس کو خوشحال کے برابر بھی لایا جاتا، پر کتھوں، یہ غریب ہو گئے امیر، یہ تو ڈال دیں گے ’’وَخَت‘‘، پاکستان میں منفی رجحانات کی رفتار تیز کر دی گئی ہے کیونکہ اب اس کے سوا غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اب جو ریڑھی بھی لگاتا ہے وہ ایک 22ویں گریڈ کے ایماندار افسر سے زیادہ بڑا افسر ہو جائے گا، کیونکہ وہ اپنی پراڈکٹ کی قیمت از خود بڑھا دے گا جواز حکومت نے اسے فراہم کر دیا ہے، مگر ایک ملازم اپنی تنخواہ میں اضافہ نہیں کر سکتا، اسے پیٹ پر حسب توفیق پتھر باندھنا ہوں گے، اب گدا گری اور دہشت گردی میں محرومی کے باعث بھی اضافہ ہو گا، لوگ دہشت گردی کو نہ جانے کہاں کہاں سے جوڑتے ہیں، مگر اصل حقیقت تو جہانوںکیلئے باعث رحمت ﷺ نے بیان فرما دی ہے ’’مجھے ڈر ہے کہیں محرومی و افلاس کفر سے نہ جا ملے‘‘ وما علینا الا البلاغ
٭٭٭٭
اب مشاعرے کیوں نہیں ہوتے؟
فارسی کا ایک بہت ضرب المثل شعر ہے؎
چنیں قحط افتاد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کردند عشق
کہا گیا ہے کہ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ یار لوگوں کو عشق بھول گیا، اور جب عشق ہی پر اولے پڑ جائیں تو غزل کیسے جنم لے، شعری جذبہ کس طرح پروان چڑھے، شاعر اکثر غریب تو ہوتے ہیں مگر پھر بھی انہیں روٹی مل جایا کرتی تھی، اس لئے وہ گرتے پڑتے مشاعروں میں شرکت کرنے چلے جاتے، مگر اب مہنگائی نے نہ صرف مفلس کی کمر کے مہرے توڑ دیئے ہیں، شاعر کے دل جگر کو بھی ایک کر دیا ہے۔ وہ شعر کہے بھی تو کیسے کہ غمِ روز گار نے اس کی تمام تر شعری حسیات کے تار و پود بکھیر دیئے ہیں؎
فکرِ معاش، ذکر بتاں یادِ رفتگاں
’’اس سپر سانِک مہنگائی‘‘ میں بھلا کیا کرے کوئی
یہ نہیں کہ شاعروں نے شعر کہنا ترک کر دیا بس لکھ لکھ کر رکھ چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کے بعد کبھی خوشحالی آئے گی تو دیوان بھی کوئی چھاپ دے گا۔ اب کوئی تمبو کا اہتمام کرے، شاعروں کو بلاوا دے، ان کی آئو بھگت کرے، ساغر کی جگہ پان چلائے، روشنیاں کرے، یا کوئی ہال بُک کرائے تو کیوں نہ اپنے بزرگ ہوتے بیٹے کی شادی رچا ڈالے، پاپ اور پاپی پیٹ کے غیر مطمئن ہونے کو دراصل انہی محرومیوں نے چیدا کیا اور محرومیاں ہی ہر پاپ کو وجود عطا کرتی ہیں، شاید کسی کو دو میر صاحبان و شاعران کا واقعہ یاد ہو جب اصلی والے میر نے دو نمبر میر سے کہا تھا آپ بھی میر صاحب ہیں؟ بہرحال ؎
ہم ہوئے کہ تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب ’’زلف مہنگائی‘‘ کے اسیر ہوئے
٭٭٭٭
منفی ذہانت
جب عام انسان اپنی آمدن میں سے اخراجات کی رقم منفی کرتا ہے، توجو ایک عجب قسم کا کرب پیدا ہوتا ہے، وہ ’’کرو بیاں‘‘ (فرشتے یعنی اشرافیہ) کے تو قریب بھی نہیں پھٹک سکتا، منفی ذہنیت یہیں سے پیدا ہوتی ہے، انتہا پسندی کا روپ دھارتی ہے اور ترقی کرتے روٹی کو ترسنے والے منگولوں کو ہلاکو و چنگیز بنا دیتی ہے، آج کے اخبارات ہوں یا کل کے سب امراء کے احوال ان کی ایک ایک ادا سے لبریز ہوتے ہیں اور ہم ان پر لکھ کر انہیں اور بڑھا دیتے ہیں، بھلا یہ بھی کوئی کام ہے کرنے کا، یہ تو غلامی کی ایک ایسی قسم ہے جو آقائیت میں برکت اور غربت و چاکری میں اضافہ کرتی ہے، میڈیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ لٹیروں، مجرموں، رسہ گیر سیاستدانوں، اور حکمرانوں کے کردار کو بے نقاب کر کے شاید معاشرے کی بڑی خدمت کر رہا ہے، حالانکہ اس کی لے جتنی تیز ہوتی ہے اوپر مذکور تمام کرداروں کا ووٹ بینک بڑھتا ہے، ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ آج میڈیا خاموش ہو جائے، کسی کا ذکر تک نہ کرے، بوتھے دکھانا بند کر دے، بخدا ’’ان‘‘ کو کرسی نصیب نہ ہو گی وہ تو خوش ہوتے ہیں کہ کوئی کسی پروگرام میں اسے گالیاں ہی پڑوائے مگر پڑوائے تو سہی کیونکہ ان کا یہ نہایت درست عقیدہ ہے کہ ؎
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے شکرے
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
براہِ کرم یہ تندی باد مخالف یعنی میڈیا اگر تھم جائے تو قسم سے طالع آزمائوں کی رگوں میں خون جم جائے، مگر ہماری کون سنتا ہے، کون مانتا ہے۔
٭٭٭٭
قوم بے مزا نہ ہوئی!
….Oیہ تحفظات، یہ فیصلہ محفوظ کر لینا، یہ حکومت کا شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا کیا ہوتا ہے؟
یہ سب عدم تحفظ ہوتا ہے۔
….Oمیئر لاہور نے ٹائون ہال میں مصروف دن گزارا۔
اور قوم یعنی عوام نے نہایت فارغ دن گزارا، کیونکہ وہ نہایت فارغ البال ہیں۔
….Oمولانا اشرفی:قوم منصفانہ احتساب دیکھنا چاہتی ہے۔
قوم اب ڈٹھے کھوہ میں جانا چاہتی ہے، ہے کوئی مہرباں دھکا دینے والا۔
….Oمیاں مقصود احمد (جماعت اسلامی) پٹرول مہنگا کرنے کی سمری قابل مذمت۔
قابل مذمت تو وہ ہیں جو یہ سمریاں لکھوانے والے لاتے جاتے ہیں۔
….Oصوبائی وزیر تعلیم پنجاب وفد لیکر چین پہنچ گئے۔
یہ اس حدیث پر عمل کرنے جا رہے ہیں کہ ’’علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے‘‘
….Oیہ پروٹوکول کیا ہوتا ہے؟
یہ نالائقی کا انعام ہوتا ہے اور نصیب سے ملتا ہے۔
….Oانسانی حقوق کی تنظیمیں کیا کرتی ہیں؟
یہ حقوق تلف کرنے کے طریقے بتاتی ہیں۔ اسی لئے کشمیریوں کی آنکھوں اور منہ میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔
٭٭٭٭

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے