کراچی کی ایک کروڑ 40 لاکھ آبادی کو شمار ہی نہیں کیا، فاروق ستار

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستارنے کہا ہے کہ مردم شماری میں کراچی کی ایک کروڑ 40 لاکھ آبادی کو شمار ہی نہیں کیا گیا، جس شہرکی آبادی کو صحیح گنا نہ جائے وہاں معیشت کیا ہوگی، اگلی بار شہر کا کچرا اور لوگوں کے دماغ میں موجود کچرا صاف کریں گے۔

جامعہ کراچی میں 5ویں یوتھ کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو میں سربراہ ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی کی زمینوں پر قبضہ ہورہا ہے، شہری آبادی کو کم گن کر بنیادی حق مارا جا رہا ہے اداروں کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق بھی کراچی کی آبادی کم از کم ڈھائی کروڑ ہے لیکن الیکشن کمیشن نے کراچی کے ایک کروڑ 40 لاکھ کی فیملی پلاننگ کردی۔

انہوں نے کہا کہ کسی طبقے کو دیوار سے لگانے کا عمل ٹھیک نہیں ہوتا اور ہم عدم تصادم کے راستے پر چل رہے ہیں جب کہ 5 نومبر کو عوام کا سمندر دکھائیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کراچی سے 70 فیصد ٹیکس اسلام آباد جاتا ہے اور وہاں سے 5 فیصد واپس ملتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ قائد اعظم کے دور میں صرف پاکستان بنانے کا چیلنج تھا تاہم اس وقت پاکستان کو بچانے کے ساتھ بنانے کا چیلنج ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ آج بنگلہ دیش کا ٹکا امریکی ڈالر کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر رہا ہے اور ہمارا روپیہ خاموش ہے۔ اس ملک میں دو خاندانوں کا راج ہے اور 500 خاندانوں کی میراث بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی طبقے کو دیوار سے لگانے کا عمل ٹھیک نہیں ہوتا، ہم عدم تصادم کے راستے پر چل رہے ہیں، ہم نے ضد نہیں کی کہ مزار قائد پر ہی جلسہ کرنا ہے تاہم 5 نومبر کو عوام کا سمندر دکھائیں گے۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ میں جامعہ کراچی کے طلبا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جلسہ میں بھرپور شرکت کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے