سر رہ گزر قائداعظم کی آخری نشانی بھی نہ رہی

قائداعظم کی بیٹی دینا واڈیا 98برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کر گئیں۔ اللھم اغفرلھا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ قائد کی ایک آخری نشانی ہمارے پاس رہ گئی تھی سو وہ بھی نہ رہی اب تو بس ان کے نشان رہ گئے، جن پر قدم رکھ کر چلے تو وہ پاکستان قریب آسکتا ہے جس کا خواب قائد و اقبال نے مل کر دیکھا تھا ہم اگرچہ مرحومہ کے بارے میں زیادہ جانتے تو نہیں لیکن ایک عظیم باپ کی بیٹی ہونا بھی بہت کچھ جاننے سے بڑھ کر ہے۔ 98برس کی عمر میں بھی قائد کا بانکپن، دینا کے چہرے پر عیاں دیکھا جاسکتا ہے، قائداعظم کے کچھ عزیز و اقارب کراچی میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ ان کا خیال رکھے، کبھی کبھی ان کی ایک نحیف سی آواز اٹھتی ہے، مگر ہماری ہٹی کٹی سیاست ہو یا اقتدار کب توجہ دیتا ہے، موت بھی ایک آزمائش، آئے گی گزر جائے گی، اور اللہ جل جلالہٗ نے فرمایا ہے کہ وہ انسان کو باقی رکھے گا اگرچہ وہ قابل فنا ہے، میرؔ نے موت کو شاعری بنا دیا اور اس کا مہیب تصور قدرے ہلکا پھلکا ہوگیا؎
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے
ایک عرب کو اپنی بیٹی امیمہ سے بہت پیار تھا اور اسی فکر میں رہتا کہ وہ نہ رہا تو امیمہ کے بھائی، بھابھیاں خدا جانے اس کے ساتھ کیسا برتائو کریں؎
لو لا امیمۃ لم اجزع من العدم
ولم اقاس الدجی فی حندس الظلم
(اگر امیمہ نہ ہوتی تو مجھے مرنے کا کوئی ڈر نہ ہوتا، اور میں اس طرح گھٹا ٹوپ اندھیری راتوں میں اس کی خاطر تحفے تحائف اور کھانے پینے کی چیزیں لانے کیلئے سفر کی صعوبتیں نہ اٹھاتا۔
بہرصورت ہم قائد کی روح سے ہی ان کی بیٹی کی موت پر تعزیت کرتے ہیں، جیسے ہم پاکستان کے حالات پر ان سے اکثر کرتے رہتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
بس ہجوم یاس دل گھبرا گیا!
مریم صفدر نے کہا ہے:نوازشریف کی واپسی سے کچھ لوگوں کو مایوسی ہوئی، درحقیقت لوگوں نے ہجوم یاس سے گھبرا کر اب مایوس ہونا، پرامید ہونا چھوڑ کر بے نیاز ہونا اختیار کر لیا ہے، کیونکہ وہ 70برسوں سے یاس و امید کی بپتا سہتے آرہے ہیں، جب کسی کے ساتھ یہ حادثہ ہو کہ
ترا جانا دل کے ارمانوں کا لٹ جانا
تو وہ پھر اس کے آنے کیلئے بیقرار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتا، کچھ لوگ کیا سب لوگوں کو مایوسی ہوئی، کیونکہ وہ تو اپنے محبوب لیڈر کے جانے پر ہی راضی نہ تھے آخر یہ کیا ہوا کہ ان کے جانے، آنے سے اب دل کو کچھ نہیں ہوتا جبکہ پہلے کچھ کچھ ہوتا تھا، مریم صاحبہ چھوڑیں لوگوں کی باتیں، لوگ تو پھر لوگ ہیں کب چپ رہینگے، ہم نے کسی بیٹی کو سیاست کے طوفانوں میں بھی اپنے باپ سے اتنا پیار کرتے دیکھا نہ سنا، سچ پوچھیں تو نوازشریف گئے ہی کب تھے کہ واپس آتے، ان کا دل تو ان کے عوام کے پاس تھا، اب اگر کوئی سخن ناشناس دل کو ووٹ سمجھے تو اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوگی؟ بہرحال یہ کوچہ سیاست ہے قصر اقتدار ہے اور نہایت ناہنجار ہے اس لئے ان سے جی کا لگانا کیا، ہمیں یقین ہے کہ عوام ہی نوازشریف کی اصل قدر و قیمت جانتے ہیں، وہ مانتے ہیں یا نہیں یہ ہمیں معلوم نہیں اور اگر کچھ لوگ یعنی چند افراد کو ان کے آنے سے تکلیف ہے بھی تو ہونے دیں۔ آخر ان کو بھی کچھ تو ہو، فکر کی کیا بات ہے، پیسہ گھوڑی کو دوڑنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
٭٭٭٭٭
ہم سے ناراض نہ ہو!
ہم ان کالموں میں ثقاہت، بشکل فکاہت بیان کرتے ہیں، بس یوں سمجھئے کہ چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسدؔ کی لت غالب کے علاوہ ہمیں بھی پڑ چکی ہے مگر نیت بری نہیں ہوتی، سچ جانیں کہ آج تک ہمیں اپنی اس بات کا جواب نہیں ملا
ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں
کاش پوچھو کہ مدھا کیا ہے
تصوف میں ایک وادیٔ حیرت بھی ہوتی ہے اور اتفاق ہے کہ ان دنوں ہم بھی اس وادیٔ حیرت میں سرگرداں کہتے پھرتے ہیں؎
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزدہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
تو کوئی بھی یو ٹرن لیکر ہماری جانب متوجہ نہیں ہوتا، باتیں ہم پردۂ غیب سے نہیں اقلم عیب سے لاتے ہیں، اور قحط الافکار کا یہ عالم ہے کہ کسی کو ہماری ہیراپھیری کا پتہ ہی نہیں چلتا، فکر و دانش کی ضد بھی فکر و دانش ہوتی ہے، ہم سب ایک بہت مصروف شاہراہ پر تیز تیز چل رہے ہیں اس سفر میں اگر کسی سے کاندھا ٹکرا جائے تو منزل کی خاطر معاف کردے کہ ہمارا تو کچھ ارادہ نہ تھا، ہم جس حقیقت کی بار گاہ سے یہاں آئے کہ وہ ہمیں ہماری بے بسی نظر کے باعث اپنے خدوخال بصورت مجاز دکھائے، جانا ہم نے پھر اسی کے پاس ہے، کہ اس کے بغیر مجازی زندگی جی بھی تو نہیں سکتے، وہی چشمہ آب حیات ہے، اسی کی زلف کی چھائوں میں اپنا دن ہے اپنی رات ہے، اگر لفظوں کے پیچ و خم میں کسی کا پائے نازک آجائے تو وہ لڑکھڑا جائے تو معاف کردے، کہ یہاں کچھ بھی تو ہمارا ہے نہ ہمارا کیا دھرا ہے حافظؔ نے کہا؎
گناہ گرچہ بندہ اختیار ما حافظ
تو در طریق ادب کوش و گو گیاہ من است
(گناہ اگرچہ میرے اختیار میں نہ تھا لیکن تو ازراہ ادب کہہ کہ ہاں یہ میرا ہی گناہ ہے)
٭٭٭٭٭
ایکسیڈنٹ ہوگیا رفتہ رفتہ
٭…انجیلا مرکل مسلسل دوسرے سال بھی دنیا کی طاقتور ترین خاتون قرار پاگئیں،
جرمنی کی پروڈکٹس اکثر بہت مضبوط ہوتی ہیں۔
٭…خواجہ آصف:کئی فون کئے نواز زرداری رابطہ کرانے میں ناکام رہا،
کس نے آپ کو یہ ڈیوٹی دی تھی؟
٭…نوازشریف:ہم نے کوئی بے اصولی نہیں کی ہمارے ساتھ تصادم کیا گیا،
ایکسیڈنٹ ہوگیارفتہ رفتہ، یہ تو اب ٹریفک والے ہی تحقیق کر کے بتائیں گے کہ غلطی پر کون تھا، دراصل ان دنوں پاکستان میں رش ہی بہت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے