شرک

مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیحِ محبت ہے
جو آے تیسرا دانہ یہ ڈوری توٹ جاتی ہے

محبت دل کا سجدہ ہے جو ہے توحید پر قائم
نظر کے شرک والوں سے محبت روٹھ جاتی ہے

شرک کا لفظی مطلب ہے شریک ٹھہرانا، شراکت دار بنانا۔ شرک کی دو اقسام ہیں شرک اکبر اور شرک اصغر۔ شرک اکبر سے مراد ہے بڑا شرک یعنی محبوب کے جیسا کوئ محبوب بنا کر اسے محبوب کہنا اور شرک اصغر ہے چھوٹاشرک یعنی ریا ء ۔ ریا ء سے مراد محبوب کے سامنے ہوتے ہوئے دل میں کسی اور کی تصویر سجا کر رکھنا یہ منافقت کے زمرے میں آئے گا۔

شرک اپنی زات میں ایک گہرا سمندر ہے جو عام فہم لوگوں کی پہنچ سے دور ہے سطحی نظر سے دیکھیں تو سمندر خوفناک منظر پیش کرتا ہے اس کی خوفناکی نظر آتی ہے مگر اس کے اندر چھپے ہوے خزانے اور راز نظروں سے اُوجھل ہیں اسی طرح شرک کے سطحی معنی بہت خوفناک اور ہنگامہ خیز لگتے ہیں مگر گہرائ تک پہنچنامشکل ہے شرک اور محبت میں فرق ہے اگر فرق نہ ہوتا تو کبھی بھی ایک عاشق اپنے معشوق کے لیئے نہ کہتا.
"جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی”
اور کبھی بھی وہ معشوق یہ نہ کہتا
"جو حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت رکھے کا میں اس سے محبت رکھوں گا”

محبت کی ابتدا آدب ہے اور انتہا عقیدت۔ عقیدت شرک نہیں ہو سکتی۔ عقیدت میں انسان بے بس ہوتا ہے لیکن یہ بے بسی منفی نہیں مثبت ہوتی ہے اس بے بسی میں مرضیاں نہیں چلتی خود کو محبوب کے حوالے کر دیا جاتا ہے اس میں سپردگی ہوتی ہے سپردگی میں والہانہ پن آجائے تو زندگی کا مزہ بھی آجاتا ہے اور بندگی کا بھی۔ اس وارفتگی میں اگر سوزوگداز شامل ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے

یہ دنیا ایک اندھرا راستہ ہے اور منزل تک پہنچنے کے لے روشنی کی ضرورت پڑتی ہے یہ جو محبوب ہوتے ہیں نہ وہ روشن چراغ ہوتے ہیں اس راستے کے۔ چراغوں میں جیتنا ایندھن ڈالیں گے اتنی اس کی لو اونچی سے اونچی اور روشن سے روشن تر ہوتی جائے گی راستہ اتنا ہی صاف اور سیدھا نظر آئے گا عقیدت ہی وہ ایندھن ہے جو روشنی بڑھائے گا۔ انسان کے راستے کا روشن چراغ مختلف ہو سکتا ہے لیکن منزل سب کی ایک ہے راستہ مختلف ہو سکتا ہے لیکن اصل سب کی ایک ہی ہے۔

عقیدت کبھی شرک نہیں ہو سکتی جس طرح ایک انسان ہاتھوں ، پاؤں، انگلیوں، ٹانگوں، بازوؤں، آنکھوں، ہونٹوں، دل، دماغ، حواس خمسہ وغیرہ اور سب سے بڑھ کر روح سے مل کر بنتا ہے ان میں سے ایک بھی چیز کام نہ کر رہی ہو تو انسان نامکمل کہلاتا ہے ہر ایک جزو کا کام دوسرے سے مختلف ہے لیکن ہر جزو اپنی ڈیوٹی نبھا رہا ہے جیسے پورا جہان رقص میں ہے ایسے ہی تمام اجزاء بھی اپنی ڈیوٹی پر معمور ہیں اور محورقص ہیں تاخیر یا خلل پیدا ہو ہاں ڈیوٹی کے لحاظ سے اجزاء کی اہمیت بھی مختلف ہے انگلی دل کے برابر نہیں ہو سکتی البتہ انگلی کے بغیر ہاتھ نامکمل ہے۔

اسی طرح سے رستے کے تمام روشن چراغ منزل تک لے جانے کا زریعہ ہیں لیکن ان چراغوں سے عقیدت و انسیت کو مقدم رکھا جائے گا کیونکہ اگر یہ چراغ نہ ہوتے تو کیا منزل تک پہنچا جا سکتا تھا؟ کیا روشنی کے بغیر راستہ نظر آ سکتا ہے؟ تو چراغوں کے ساتھ عقیدت نہ رکھنا احسان فراموشی اور نمک حرامی نہیں ہو گی؟ یہ عقیدت، یہ احسان مندی یہ انسیت شرک ہو سکتی ہے کیا؟ طریقت میں عقیدت عشق کے زمرے میں آتی ہے اور طریقت شریعت سے باہر نہیں ہو سکتی البتہ شریعت کے معنی عام نفوس( افراد) کے لیے عام، خاص لوگوں کے لیے عام سے بڑھ کر خاص اور گہرے ہوتے ہیں خاص لوگوں کا تعین اوپر بیٹھی زات خود کرتی ہے لمحہ بہ لمحہ ہر ساعت تقدیر کے فیصلے بدلتے ہیں۔ تقدیر دو طرح کی ہوتی ہے ایک مبّرم تقدیر اور دوسری معلق تقدیر۔ معلق تقدیر کبھی بھی بدل سکتی ہے کبھی دُُعاوں سے کبھی آنسوؤں سے، کبھی گریہ و زاری سے، کبھی محبت سے اور کبھی انعام کے طور پر بھی وہ سب کچھ عطا کر دیا جاتا ہے جس کی خواہش بھی نہیں کی ہوتی۔ کبھی بن مانگے سب کچھ ملتا ہے اور کبھی مانگے سے بھیک بھی نہیں ملتی یہی ہے مبّرم تقدیر۔ ایڑیاں بھی رگڑ لیں تب بھی ہاتھ خالی ہی رہتے ہیں یہ ہے مبّرم تقریر اس تقدیر سے تو اللہ پاک نے خود بھی پناہ مانگی ہے۔ پل میں شاہ سے گدا اور گدا سے شاہ بنا دیا جاتا ہے ایک لمحے منزل صاف نظر آ رہی ہوتی ہے اور دوسرے ہی لمحے راستے میں ہی بھٹکا دیا جاتا ہے۔ پھر جیسے جیسے عقیدت کا رنگ چڑھتا جاتا ہے روشن چراغ اور قریب ہوتا جاتا ہے کیونکہ منزل زیادہ قریب نظر آتی جاتی ہے۔

جیسے بچے کو ٹافی چاہیے ہوتی ہے اور جب استاد بچے کو ٹافی دیتا ہے اور اکثر دیتا جاتا ہے یا کلاس میں کام کرنے پر سٹار ملتا ہے بچہ اور لگن سے امتحان میں کامیابی کی کوشش کرتا ہے دلجمعی سے تعلیم کی مشکلات کو عبور کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے منزل حاصل کرنے کی کوشش جاری و ساری رہتی ہے لیکن استاد سے محبت اور عقیدت اسے ایسی سرشاری عطا کرتی ہے کہ منزل اور راستہ اس کے لیے روشن و عیاں ہو جاتا ہے پھر یہ عقیدت کبھی کبھی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ماں، باپ، بہن بھائ، دنیا تک بھول جاتی ہے یکن یہ عقیدت منزل سے ہٹاتی یا بھٹکا تی نہیں ہے بلکہ خون کی طرح جسم میں گردش کرتی ہے۔

تو کیا یہ کہنا بجا ہو گا کہ یہ تو شرک ہے؟
عقیدت اور عشق کاگداز شرک ہوتا تو نظام الدین اولیا کبھی نہ فرماتے
” کہ قیامت کے دن جب اللہ پاک مجھ سے پوچھیں گے کہ نظام دنیا سے کیا لائے ہو تو میں کہوں گا امیر خسرو کا عشق لایا ہوں”

وہ امیر خسرو جس نے لاکھوں تنکہ( سکے) دے کر اپنے پیرومرشد نظام الدین اولیا کے بوسیدہ نعلین ( جوتے) مبارک خریدے تھے اور ان کو اپنی پگڑی میں سجا کر لائے تھے۔ پھر عشق کا جواب بھی اتنی ہی شدت سے دیا گیا حضرت نظام الدین اولیاء نے فرمایا تھا
” جو میرے دربار پاک میں حاضر ہونا چاہتا ہے اسے پہلے میرے عاشق کی تربت پر حاضری دینی ہو گی”

اور سات سو برس گزرنے کے بعد بھی یہ رسم چلی آ رہی ہے امیر خسرو سے پہلے حضرت نظام الدین اولیاء کے دربار میں حاضری قبول نہیں ہوتی یہ ہے عشق اور عشق کی انتہا۔ اسی پر اقبال فرماتے ہیں

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

شرک اتنا عام اور معمولی نہیں جس پر کفر کا فتویٰ صادر ہو۔ شرک اور عشق میں اتنا ہی فرق ہے جیتنا زمین اور آ آسمان کا۔
اللہ تعالی ہمیں عشق کا سوز اور گداز عطا فرمائیں اور اس پر ثابت قدم بھی رکھیں۔آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے