میڈیا اور انسانی تجارت

ملکی ہنگاموں سے دور گزشتہ ہفتہ آذر بائیجان کے دارلحکومت اور دنیا کے دس خوبصورت شہروں میں شامل باکو میں گزارنے کا موقع ملا لیکن انٹرنیٹ کی جادوئی دنیا کی بدولت فاصلے اب اتنے سمٹ چکے ہیں کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی وطن عزیز کے حالات کے بارے میں باخبر رہنا معمول کی بات ہے۔ تربیتی دورہ اگرچہ صرف تین دن پرمحیط تھا لیکن مشرق اور مغرب کے ملاپ کی عکاسی کرتے باکو کے حسین نظاروں نے ذاتی جیب سے پیسے خرچ کر کے واپسی کے ٹکٹ میں توسیع کرانے پر مجبورکردیا اور یوں بحیرہ کیسپیئن کی ساحلی پٹی اور ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع صرف 26 سال پہلے سویت یونین سے آزادی پا کر بے مثال ترقی کرنیوالے ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے مسلمان ملک کو بہت قریب سے جاننے کا سنہری موقع ملا۔ میڈیا کے نمائندوں کیلئے یہ تربیتی دورہ انٹرنیشل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ ( آئی سی ایم پی ڈی) نے یورپی یونین کے اشتراک سے انسانی اسمگلنگ جیسے انتہائی اہم اور حساس معاملے پر ترتیب دیا تھا۔ بطور صحافی یہ دورہ اس نوعیت سے بھی بہت زیادہ مفید تھا کہ اس کا موضوع ’’انسانی تجارت کے بارے میں عوام میں آگاہی اور میڈیا کے کردار‘‘ کو زیر بحث لانا تھا۔ تربیت دینے والوں میں گزشتہ تین دہائیوں سے انسانی تجارت کیخلاف جنگ کرنیوالے صحافی اور ڈائریکٹر ٹیم ڈی لیور، کرمنالوجی میں ڈاکٹریٹ کرنے والی صحافی ایلینا اور انسانی تجارتپر بطور تحقیقاتی صحافی کام کرنے والی اولگا جیسے ماہرین شامل تھے جنہوں نے باور کرایا کہ پاکستان انسانی تجارت کیلئے نہ صرف بطور روٹ استعمال ہوتا ہے بلکہ لوگوں کو پاکستان بھی بھیجا جاتا ہے چناچہ یہ حتمی منزل بھی ہے اور اسی طرح یہ ان ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہے جو انسانی تجارت کیلئے سورس کنٹری کہلاتے ہیں۔

یہ معلومات بھی یقیناً ہر پاکستانی کیلئے باعث ندامت ہے کہ وطن عزیز ان دس ممالک میں شامل ہے جو انسانی تجارت کے حوالے سے بد ترین گردانے جاتے ہیں اور اس سنگین جرم پرقابو پانے کیلئے قانون سازی سمیت جو اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ ناکافی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان بدستور واچ لسٹ میں دوسری درجہ بندی والے ممالک میں شامل ہے، وطن عزیز میں اتنی آگاہی بھی نہیں ہے کہ ملک کے اندر کسی بچے یا فرد کی ایک جگہ سے دوسری جگہ بانڈڈ لیبر کیلئے منتقلی یا گردوں کی خریدو فروخت بھی انسانی تجارت کے زمرے میں آتی ہے۔اچھی ملازمت کا جھانسہ دیکر لوگوں کو بیرون ممالک بھیجنا اور پھر انہیں بلیک میل کرنا بھی اسی کیٹیگری میں شمار ہوتا ہے۔ تربیتی ورکشاپ کے ذریعے یہ ادراک بھی ہوا کہ پاکستان میں بھی میڈیا انسانی اسمگلنگ اور انسانی تجارت میں فرق روا نہیں رکھتا، انسانی تجارت سے متعلق رپورٹنگ کرنے اور انہیں پیش کرنے میں بنیادی غلطیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ متاثرہ فرد کی شناخت کو چھپانے جیسی حساس اور بنیادی پابندی کا رتی برابر خیال نہیں رکھا جاتا ،طیبہ تشدد کی مثال سامنے ہے جس میں میڈیا نے اس کی شناخت سے لیکر اسکے اٹھنے بیٹھنے،کھیلنے تک ایک ایک تفصیل کو خبر کا حصہ بنایا۔

اسی طرح میڈیا میں خبر دینے اور انسانی تجارت کے پہلو کو اجاگر کرنے کی بجائے سنسنی پھیلانے پر فوکس کیا جاتا ہے۔ انسانی تجارت کے شکار ہونیوالے کی اذیت کی پرواہ کئے بغیر خبر کو تفریح کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔ یوایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے سنگین مسئلہ بانڈڈ لیبر ہے جس میں قرضے کے عوض لوگوں کو زبردستی ملازمت پرمجبور کیا جاتا ہے اور یہ قرضہ چکاتے اسکی کئی نسلیں گزر جاتی ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں بانڈڈ لیبر عام ہے تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی جبری مشقت لی جا رہی ہے۔ جبری مشقت کے شکار افراد سےزیادہ تر زراعت اور اینٹیں بنانیوالے بھٹوں پر کام لیا جاتا ہے تاہم انہیں مچھلیاں پکڑنے،کان کنی،کارپٹ بنانے اور دستکاری جیسے شعبوں میں بھی کھپایا جاتا ہے۔ دور جدید کی غلامی کی فہرست پرنظر ڈالی جائے توبھارت اور چین کے بعد پاکستان کا تیسرا نمبر ہے جہاں تقریباً 21 لاکھ افراد سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کو منظم گداگری کے مکروہ دھندے میں شامل کرنے کیلئے ان کی خرید و فروخت کی جاتی ہے،کرائے پر لیا جاتا اور انہیں اغوا بھی کیا جاتا ہے۔ گدا گر بنائے جانے والے بچوں کو اکثر معذور کر دیا جاتا ہے تاکہ انہیں قابل رحم بنا کر ان کے ذریعے زیادہ پیسے کمائے جا سکیں۔ بچوں کو گھروں،دکانوں ،ورکشاپوں،ہوٹلوں میں ملازمت کرنے اور غیر اخلاقی کاموں پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ خواتین،لڑکیوں اور بچوں کو ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پولیس رشوت لے کر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔خواتین اور لڑکیوں کو پیسوں کے عوض زبردستی شادی کرنے پربھی مجبور کیا جاتا ہے۔

لڑکیوں اور خواتین کو ونی اور سوارا جیسی رسومات کی بھینٹ بھی چڑھا دیا جاتا ہے،دہشت گرد غریب والدین کو خطیر رقم دیکر بچوں کو دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات انہیں اغوا کیا جاتا ہے یا انٹرنیٹ کے ذریعے برین واش کر کے اپنے نیٹ ورک میں شامل کیا جاتا ہے۔حال ہی میں کراچی سے ایم بی بی ایس کی طالبہ کی دہشت گرد گروہ میں شمولیت اور آئی ایس پی آر کی اس کی بازیابی کے بارے میں تفصیلات اس ضمن میں بہترین مثال ہے۔ اسی طرح بہتر مستقبل کیلئے خلیجی ممالک اور یورپ میں ملازمت کی تلاش میں جانے والے بھی اکثر اوقات انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ،غیر قانونی ایجنٹ سہانے سپنے دکھا کر غریب اور مجبور افراد سے بھاری پیسے ہتھیا کر انہیں غیر قانونی طور پر بیرون ممالک بھجواتے ہیں جہاں کچھ غیر قانونی سرحدیں پار کرتے ہوئے یا تو موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا حراست میں لے لئے جاتے ہیں۔ افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے مرد، خواتین اور بچے جبری مشقت کیلئے پاکستان لائے جاتے ہیں افغانستان،بنگلہ دیش،برما سے آنے والے پناہ گزین اور بعض اقلیتیں انسانی تجارت کیلئے آسان ہدف ہیں۔ انسانی تجارت جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے جہاں حکومت کو ؛ دی پریوینشن اینڈ کنٹرول آف ہیومن اسمگلنگ آرڈیننس 2002ء میں ترمیم کرنے اور نئی قانون سازی کی فوری ضرورت ہے وہیں میڈیا کو انسانی تجارت اور اس سے متاثرہ افراد کے بارے میں رپورٹنگ کے دوران حد درجہ احتیاط برتنی چاہئے۔ تربیتی ورکشاپ کے دوران زور دیا گیا کہ انسانی تجارت کی رپورٹنگ کے دوران کبھی بھی غیر مصدقہ اطلاعات کی تشہیر نہیں کی جانی چاہئے۔

ایف آئی اے جیسے ادارے اگر کسی مشکوک فراد کو حراست میں لیں تو ضرروی ہے کہ اس کے بارے میں خبر دیتے ہوئے مبینہ کا لفظ استعمال کیا جائے۔ متاثرہ فرد سے رابطہ کرتے یا اسکے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کو کسی طور نظر انداز نہ کیا جائے،متاثرہ فرد کی کسی بھی مرحلے پر شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ معاملے کے بارے میں مکمل آگاہی ضروری ہے جبکہ سنسنی خیزی ہرگز نہ پھیلائی جائے، معلومات دینے والے ابتدائی ذریعے پر ہی انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کے بعد خبر دی جائے،معلومات دینے والے کی شناخت کو بھی خفیہ رکھنا ضروری ہے جبکہ متاثرہ فریق کی نجی زندگی کا خصوصی خیال رکھا جائے، عدالتی فیصلے سے قبل مبینہ اسمگلروں کے بارے میں کوئی ایسا تاثر نہ دیا جائے جس میں ان پرالزامات ثابت ہونا ظاہر ہوتا ہو۔ میڈیا عوام میں انسانی تجارت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے نشریات میں خصوصی وقت مخصوص کرے جبکہ انسانی تجارت سے متعلق خبروں کی نمایاں تشہیر کی جائے۔ ان تمام عوامل کو مد نظر رکھ کر ہی میڈیا پاکستان کو انسانی تجارت جیسی سنگین برائی سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے پھر مجھ جیسے صحافی کسی ورکشاپ میں فخر سے بتا سکیں گے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں جہاں آزاد پیدا ہونیوالے انسان کو آج بھی غلام بنایا جاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے