جبری گمشدگی، اغوا اور بے حسی

مسائل کے حل کا تعلق دِل و دماغ سے ہے، اس کام کے لئے صاف دِل اور شفاف دماغ چاہیے۔جو دِل احساس کی دولت سے عاری ہو وہ انسانی مسائل کو حل نہیں کرتا بلکہ بڑھا دیتا ہے۔

۲۰۰۵ میں پاکستان میں دنیا کی تاریخ کا چوتھا بڑا زلزلہ آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئیں، جن کی تعداد 74,698 ہے۔ یہ اموات 1935 کوئٹہ میں ہونے والے بدترین زلزلے سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔

اس زلزلے کے دوران ایک سکول کے ملبے کےنیچے تقریبا دو سو بچے دب گئے۔ سکول کے ہمسائے میں رہنے والے ایک شخص سے یہ منظر دیکھا نہ گیا، وہ جان پر کھیل کر ملبے کو پیچھے ہٹاتا ہوا خود بھی ملبے میں دفن ہوتا چلا گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنے آپ کو دبے ہوئے بچوں کے درمیان پایا۔ اُن میں اس کی اپنی بھی ایک بیٹی اور بیٹا تھا۔ وہ دونوں کو دیوانہ وار پکار رہا تھا، اتنے میں اس کے بیٹے نے پکارا ابّو ۔۔۔ابّو۔۔۔

باپ نے حسرت سے اپنے بچے کو دیکھا اور پھر اس کے ارد گرد دوسرے سسکتے ہوئےبچوں پر نظر پڑی، اتنے میں اس نے سوچا کہ یہ بھی تو کسی کے جگر کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں، اس نے اپنے بچے کو چھوڑ کر دوسروں کے بچوں کو نکالنا شروع کر دیا۔ جب اپنے بچے اور بچی کے پاس پہنچا تو وہ دونوں مر چکے تھے۔

یہ کوئی ناول یا افسانہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا ایک سچا واقعہ ہے۔، ایسے ہی لوگ انسانی تہذیب کی میراث ، انسانی اقدار کا سرمایہ اور انسانی سماج کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔

جبکہ اس زلزلے میں ایسا بھی ہوا کہ زخمیوں کے ہاتھ کاٹ کر انگوٹھیاں اتار لی گئیں، امدادی ٹرکوں کو اسلحے کی نوک پر گوداموں میں ذخیرہ کیا گیا، اور ایک صاحب کے مطابق جب وہ کمرتک ملبے میں دب چکے تھے تو ایسے میں انہوں نے ایک شخص کو گزرتے دیکھا اور اسے آواز دی کہ خدارا مجھے یہاں سے نکالو۔ وہ قریب آیا اور پھنسے ہوئے شخص کی جیب کی تلاشی لی، سائیڈ والی جیب کے گرد سے پتھر ہٹائے، رقم نکالی اور زخمی کو وہیں ، اسی حالت میں پھنسا ہواچھوڑ کر چلا گیا۔

افسوس کہ اس طرح کے بے حس لوگ بھی اسی سرزمین پر جیتے ہیں اور انسان کہلواتے ہیں۔

آج جب کوئی خاتون یہ فریاد کرتی ہے کہ کتنے سالوں سے میرا شوہر لاپتہ ہے، جب کوئی بچی واویلا کرتی ہے کہ میرا باپ اغوا ہو گیا ہے اور جب کوئی نونہال خون کے آنسو روتا ہے کہ ہمارے گھر کا چولہا بجھ گیا لیکن اُن کی چیخ و پکار سےسرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی، کہیں مقدمہ نہیں چلتا، کہیں از خود نوٹس نہیں لیا جاتا، کہیں اس پالیسی کو تبدیل کرنے کی بات نہیں ہوتی تو میں ۲۰۰۵ کے زلزلے کے مناظر میں کھوجاتا ہوں جہاں ایک طرف انسانیت ، ہمدردی اور ایثار کی تاریخ رقم ہو رہی تھی جبکہ دوسری طرف بے حسی، مفاد پرستی اور لوٹ مار کے ریکارڈ توڑے جا رہے تھے۔

اس وقت ہمارے ملک کو چاروں طرف سے مسائل و مشکلات نے گھیر رکھا ہے، عالمی تناظر میں ہونے والی تبدیلیاں ایک طرف تو دوسری طرف داخلی طور پر دہشت گردی، نظام تعلیم، صحت عامہ،ملکی دفاع، اداروں کے اندر کرپشن ۔۔۔ اور نجانے ان گنت مسائل ۔۔۔ ، چاہیے تو یہ کہ ہمارے ملکی ادارے بتدریج ان مسائل کو حل کریں لیکن بے حسی کا یہ عالم ہے کہ مسائل کو بتدریج حل کرنے کے بجائے بگاڑا جا رہا ہے۔

دانشوروں اور اربابِ دانش کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کے بجائے سروں کی فصل کاٹی جارہی ہے اور لوگ مسلسل لاپتہ اور گُم ہو رہے ہیں۔ پانچ دن پہلے دی نیوز اور جنگ کے انوسٹی گیٹو رپورٹر احمد نورانی پر حملہ کیا جاتا ہے اور تین دن پہلے ایڈوکیٹ ناصر شیرازی کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ایک صحافی ہے اور دوسرا وکیل، صحافی کا قصور شفاف رپورٹنگ تھا اور وکیل کا جرم مسنگ پرسنز کے لئے آواز اٹھانا اور وزیرِ قانون کو آئینہ دکھانا تھا۔

ہمارے ہاں اب کس میں جرات ہے کہ وہ اپنے متعلقہ پیشے کا حق ادا کرنے کی سوچے۔اب کوئی صحافی ہو یا وکیل اگر اپنے پیشہ وارانہ اصولوں پر چلے گا تو اسے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اس وقت پاکستانی قوم بے بسی اور بے حسی کے زلزلے میں دبی ہوئی ہے۔ہر روز سرکاری دفاتر میں کچھ بے حس لوگ آتے ہیں، عوام کی جیبیں صاف کرتے ہیں اور پھر انہیں وہیں مسائل میں چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ افسوس کہ اس طرح کے بے حس لوگ بھی اسی سرزمین پر جیتے ہیں اور انسان کہلواتے ہیں۔

اب ہم سب کو اپنی زبان و بیان سے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں ہم نے انسانیت، ایثار، محبت اور احساس کی شمعیں جلانی ہیں یا پھر بے حسی اور مفاد پرستی کی تاریخ رقم کرنی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے