غریبی کی جان کس میں ہے

آج ہمارا من ایک مرتبہ پھر کچھ فلسفہ بگھارنے کو چاہ رہا ہے ۔ در اصل یہ جو آج کل اخبارات کے کالموں اور ٹی وی اینکروں اور ٹاکروں نے ہر چیز میں فلسفہ دیکھنے یا بگھارنے یا ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس سے ہمارے ’’ خربوزے ‘‘ نے بھی رنگ پکڑنا شروع کیا ہے بلکہ اب تو پورے کا پورا خربوزہ پیلا پڑ چکا ہے کیونکہ جب سے جناب عمران خان نے بمقام ’’ بنیر ‘‘ یہ مژدہ سنایا ہے کہ صوبہ کے پی کے عرف خیر پہ خیر میں آدھی غربت ختم ہو چکی ہے تب سے ہمیں بھی اپنی اس جنم جنم کی ساتھی غربت کا خیال آنے لگا ہے بالفرض اگر جناب خان صاحب کی بات سچ ہوگئی اور سچ نہ ہونے کا تو سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کہ نہ تو خان صاحب نے کبھی جھوٹ بولا ہے اور نہ ہی ان کی پارٹی کے وزیر وغیرہ سچ کے سوا اور کچھ نہیں بولتے، تب سے ہمارا دل بری طرح نہ سہی اچھی طرح دھڑکنا تو شروع ہو چکا ہے کہ اگر دوسرے ’’ پلے ‘‘ میں باقی کی رہی سہی غربت بھی ختم ہو گئی تو ہم تو بالکل اکیلے پڑ جائیں گے کیونکہ اتنے عرصے سے ہمیں غربت کی جو مستقل صحبت نصیب ہے وہ تو ختم ہو جائے گی تو پھر آخر ہم اپنی تنہائی کس کے ساتھ شیئر کریں گے کیونکہ اس کی وہ دوسری والی بہن یعنی امیری تو بڑی نک چڑھی قسم کی ہے ،کسی کے ساتھ سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی بلکہ پوری کی پوری ’’ رادھا‘‘ ہے ’’نومن تیل‘‘ کے بغیر تو اپنی پائل تک نہیں چھنکاتی بلکہ ہم نے اپنی غریبی کی آنکھوں میں ایک طرح سے وہ کیفیت بھی بھانپ لی ہے جوحکیم مومن خان مومن کی آنکھوں میں اس وقت نظر آئی تھی جب وہ شب ہجراں کی ممکنہ جدائی پر دکھی ہو رہے تھے ۔

تو کہاں جائے گی کچھ ا پنا ٹھکانہ کرلے
ہم تو کل خواب عدم میں ’’ شب ہجراں ‘‘ ہوں گے

ویسے یہ بات بھی ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے بلکہ ’’فلسفے کی کڑھائی ‘‘ میں تو بالکل بھی نہیں سمارہی ہے کہ خان صاحب آدھی غربت کیسے دور کر چکے ہیں اور باقی کی آدھی کیسے ختم کریں گے کیونکہ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے تو غربت پرانے زمانے کے دیؤوں اور جادوگروں کی طرح ہے جن کی جان کسی اور طوطے وغیرہ میں ہوتی تھی اور غربت کے بارے میں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی جان بھی اس کی جڑواں لیکن نک چڑھی اور پہلوان بہن ’’امیری ‘‘ میں ہے اور جب تک امیری کی جان نہیں نکالی جائے گی تب تک غریبی کی جان نکالنا یا ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔اور اس کے لیے ہمارے پاس بڑے مضبوط دلائل بھی ہیں مثلاً اسلام میں غربت دور کرنے کا یہی نسخہ لکھا ہے کہ امیری کو ختم کرو غربت خود بخود ختم ہو جائے گی اور امیری ختم کرنے کا تیر بہدف نسخہ زکوٰۃ کے نام سے معروف ہے جس میں غریبی پر براہ راست وار نہیں کیا جاتا بلکہ ایک خاص حد سے بڑھنے کے بعد امیری کو کم کیا جاتا ہے۔

یوں جب مسلسل امیری کو کم سے کم کیا جاتا ہے تو غریبی خود بخود ختم ہوتی جاتی ہے۔بلکہ ایک خاص حد سے بڑھنے کے بعد امیری کو کم کیا جاتا ہے بلکہ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو غربت امیری کی جڑواں بہن بھی نہیں بلکہ اس کا سایہ ہوتا ہے جتناجتنا اصل قد گھٹے گا اتنا ہی سایہ بھی گھٹے گا اور جتنا جتنا اصل قد بڑھے گا ساتھ ہی سایہ بھی بڑھتاچلا جاتا ہے۔

ترازو کے پلڑے بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک کے اوپر جانے پر دوسرا نیچے آتا ہے اور دوسرے کے نیچے جانے پر دوسرا اوپر جاتاہے لیکن اس مقام پر پہنچ کر اچانک ہمارے فلسفے کی بگھار میں تھوڑی سی گڑ بڑ ہو جاتی ہے کیونکہ ہم ابھی ’’ ترازو‘‘ کو پرانی شکل میں سمجھے ہوئے ہیں جن کے دوپلڑے ہوتے تھے جب کہ زمانہ بہت آگے نکل کر بے شمار قسم کے ’’ترازو‘‘ایجاد کرچکا ہے جس میں پلڑ نے نہیں بلکہ ہند سے ہوتے ہیں بلکہ اب تو ڈیجیٹل ترازو بھی آرہے ہیں ایسے میں ہمارا فلسفہ بھی چیں بول جاتا ہے، شاید خان صاحب یا موجودہ وقت کے سارے تاجر و لیڈر و دکاندار بھی نئے قسم کے ترازو استعمال کر رہے ہوں ۔

جن میں زکوٰۃ یعنی امیری کو گھٹانے کے لیے زکوٰۃ کسی اسپتال یا کسی اور ادارے کو دی جاتی ہے اورغربت کسی ڈیجیٹل طریقے پر ختم ہوتی چلی جاتی ہو ۔ اس کا ایک ہلکا سا نمونہ ہم کئی بار دیکھ بھی چکے ہیں کہ جناب عمران خان آدھی غربت دور کرنے کے بعد اب ہیلی کاپٹر میں پھرتے ہیں یعنی اس کا پلڑا یا امیری کا پلڑا بہت ہلکا ہو کر بہت اونچا ہو گیا ہے اور اس کی وجہ ’’ آدھی غربت ‘‘ کا خاتمہ ہی ہو سکتا ہے۔

سیدھی سی بات ہے، غریبی کے پلڑے میں کچھ اور زیادہ باٹ پڑتے تو دوسرا پلڑا ہیلی کاپٹر بن گیا یا امیری کے پلڑے سے آدھے باٹ گرائے گئے تب ہی غربت کا پلڑا زمین سے جالگا۔اس پر ہمیں بچپن کا وہ مداری یاد آتا ہے جس کے ہاتھ میں دو ڈنڈے کا دھاگہ کھینچتا تھا تو دوسرے ڈنڈے کا دھاگہ خود بخود اندر چلا جاتا تھا، ساتھ ہی وہ منہ سے کہتا بھی جاتا کہ یہ کھینچو تووہ آئے وہ کھینچو تو یہ آئے ۔ تو بڑی مدت کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ڈنڈے کھوکھلے ہوتے تھے اور اندر کی طرف وہ ایک سیسے کے گولے سے منسلک ہوتے تھے اور دھاگے کھینچنے سے آتے جاتے نہیں تھے بلکہ ڈنڈے کے سیدھا ٹیڑھا کرنے سے آتے جاتے تھے ۔

گویا اگر زکوٰۃ اسپتال کو دی جائے تو غربت خود شرم کے مارے گھٹ جائے گی یا زکوٰۃ اگر ’’ الفلاں‘‘ والے لے جائیں تو ال دھکان والے خود بخود امیر بن جائیں گے اور یہی فلسفہ ہمارے نصاب سے باہر کا ہے جسے ہم اگر بگھارنا چاہیں تو نہیں بگھار سکتے کیونکہ ہم نے کبھی گھر میں کھوئے ہوئے سکے کو بازار کی روشنی میں نہ تلاش کیا ہے نہ پایا ہے ۔ بے شک بازار میں پول لیمپ یا اسٹریٹ لائٹ کی روشنی کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو جائے وہ گھر میں کھویا ہوا سکہ بازار تک تو کھینچ کر نہیں لا سکتا ہے ؟
یا ہو سکتا ہے ہم ہی پرانے زمانے کے ہوں اور نئے فلسفے کے مطابق اسپتال یا الفلاں کو دیا ہوا سکہ کسی غریب مستحق کی جیب میں جا سکتا ہو یا غریبی کی جان امیری میں نہ ہو بلکہ اسی خدا مارے غریب کے اندر جا چھپی ہو؟۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے