یکجہتی کی طرف

اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پہلی لہر کی جھلکیاں‘ کراچی سے دکھائی دے رہی ہیں۔یہ لہر ایم کیو ایم کے دو دھڑوں کے ٹکرائو سے پیدا ہورہی ہے۔ ایک کی سربراہی مصطفی کمال بھائی کر رہے ہیں‘ دوسرے کی فاروق ستار بھائی۔قریباً ڈیڑھ سال ہوا مصطفی کمال‘ کراچی کے سیاسی منظر پر دوبارہ نمودار ہوئے۔ انہوں نے دبئی کے طویل قیام کے دوران‘ خطے میں اپنے سیاسی رابطے استوار کئے۔ انہیں جو سیاسی تیاریاں مطلوب تھیں‘ ان کا بندوبست بھی ہو گیا۔جب کراچی پہنچے تو بظاہر وہ ایک مختلف گروپ کی نمائندگی کر رہے تھے۔جبکہ اپنا گروپ جو کہ درحقیقت الطاف حسین کا گروپ تھا‘ وقت کے انتظار میںتھا۔گزشتہ دو دن کے دوران‘ عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے۔ فاروق ستار بھائی اور مصطفی کمال بھائی نے ‘ چند روز میں تابڑ توڑ پریس کانفرنسیں کیں۔ابتدائی پریس کانفرنس میں دونوں فریقوں نے باہمی تعاون اور اتحاد کی جھلک دکھائی۔دونوں طرف سے بے حد باہمی پیار کا مظاہرہ کیا گیا۔دوسرے دن پہلی پریس کانفرنس مصطفی کمال نے کی۔ وہ کافی جوش و خروش میں تھے۔ اگلے دن دوپہر کوفاروق ستار بھائی نے‘ ایک سیاسی تصادم سے بھری پریس کانفرنس کی‘ اس میں وہ سارا اشتعال اور غصہ موجود تھا‘جس کی دعوت مصطفی کمال نے اپنی تقریر میں دی۔ایک ہی شب وروز میںاگر آپ ان دونوں کی تقریروں اور پریس کانفرنسوں کا تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیں‘ توسیاست کے طالب علموں اور کھلاڑیوں ‘دونوں کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ ان کا ہدف کون ہے؟ اور کہاں ہے؟

مصطفی کمال بھائی اورفاروق ستار بھائی ‘بیک وقت محاذ آرائی کا منظر جما رہے تھے اور مفاہمت کی جھلکیاں بھی دکھا رہے تھے۔میں دوسرے دن کی ساری جھڑپیں دیکھنے کے بعد‘ جو کچھ سمجھ پایا‘ وہ یہی تھا کہ ابھی دونوں کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ دونوں امکانات کے لئے نشستیں بچھا رہے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر دونوں طرف کی نشستوں پرانتہا پسندی اور مفاہمت کی صفیں احتیاط سے بچھائی گئیں۔اسی دوران لاہور سے ایک سیاسی اہلکار‘ اپنی جماعت کا پروگرام پیش کرنے کے لئے‘ تازہ ترین پیغام لے کر میدان میں اترا اورسمجھانے لگا کہ آپ لوگوں کو لڑنا نہیں چاہئے ۔ در پردہ پیغام یہ تھا کہ آپ ذرا لڑائی کی تیاری کر لیں۔ اس کے بعد یکجا ہو کر ہمارے کیمپ میں حاضر ہو جائیں۔اِسی معرکہ آرائی میں ایک نیا کھلاڑی ‘اپنی بچھائی ہوئی شطرنج کی بساط پر‘ پرانے مہروں کونئی نئی پوزیشنوں پر قدم جمانے کے نقشے پر لانے لگا۔صورت حال بڑی دلچسپ ہے۔ شطرنج کے یہ کھلاڑی‘ برتری حاصل کرنے کے لئے اپنا اپنا زور لگا رہے ہیں۔ ایک کا جھکائو گاما پہلوان کی طرف ہے اور دوسرا‘الطاف بھائی کے اکھاڑے میںاپنے دائو آزمانے کی راہوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔

ایک ہاتھی جو پڑوس میں بیٹھا بظاہر اونگھ رہا ہے۔ اس کی ادھ کھلی آنکھیں شاطر کھلاڑی کی طرح سارے منظر کا نظارہ کر رہی ہیں۔ اس کا نشانہ ہر کھلاڑی کی طرف بندھا ہوا ہے‘ جو آپس میںگتھم گتھا ہیں۔ وہ ان سب کی باہمی لڑائی میں ایک دوسرے سے بر سر پیکار جنگجوئوں کا ترچھی آنکھ سے مشاہدہ کر رہا ہے کہ کس کا پلڑا بھاری ہے؟ اور کون ہانپتا گرتا‘ سنبھلنے کی کوشش میں ہے؟یہ ہاتھی پاکستان میں ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے ‘ لندن کے استاد کی آنکھوں کے اشارے کی طرف دیکھ رہا ہے۔درحقیقت وہ دونوں اپنی اپنی فہم کے مطابق‘ ہاتھی استاد کے فیصلہ کن اشارے کے منتظر ہیں۔ادھر بدمست بیل ‘ نسوار کھلانے والے ہاتھوں پر‘ پوری زبان پھیر رہا ہے۔اس وقت نقشے کا منظر کسی ایک کے حق میں نہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے مہرے‘ کوئی اچھی سی چال بنا کر ہاتھی کو شہ دیں گے۔

میں نے پاکستان خصوصاً کراچی کے موجودہ سیاسی نقشے کی روشنی میں امکانات اور اندیشوں کا ذکر کیا ہے۔ لیکن خدا کے فضل و کرم سے اس وقت ہمارے خطے کا جو اصل نقشہ موجود ہے‘ وہ صرف بھارت اور پاکستان تک محدود نہیں۔اس نقشے میں طاقت ‘ جغرافیہ اور آبادی کے اعتبار سے چین سرفہرست ہے۔ بھارت کے ساتھ ‘ چین کا جغرافیائی تنازع آج بھی چینیوںکے حق میں ہے۔بھارت نے بہت زورآزمائی کر کے دیکھ لی لیکن ایک سے زیادہ جنگوں کے بعد بھی‘ نقشے کی پوزیشن وہی ہے اور بھارت اپنے مذموم عزائم کبھی پورے نہیں کر پائے گا ۔قراقرم ہائی وے پر چین اور پاکستان کے مفادات ایک ہو چکے ہیں۔قراقرم روڈ کی بنیا دپر ‘دونوں ملکوں کے نقشوں میں ردوبدل کرنا‘اب کسی کے اختیار میں نہیں۔اگلے چند برسوں میں‘ چین کے علاوہ روس کے مفادات بھی ہم سے منسلک ہو جائیں گے۔ ہمارے درپردہ دشمن‘ پاکستان کے اندرونی تنازعات خصوصاً کراچی کی آڑ لے کر‘ ابھارنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اگر کراچی کے سیاسی بحران پر ہم نے کامیابی سے قابو پا لیا تو آنے والے برسوں میں‘ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے تمام جغرافیائی یونٹوں کا استحکام ‘نا قابل تسخیر ہو جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے