ایم ایم اے بحالی کی مخالفت کیوں ؟

ایم ایم اے بحالی کی مخالفت کیوں ؟ یہ وہ سوال ہے جو میری مختصر پوسٹوں کے جواب میں دوستوں نے مجھ سے پوچھا ، پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ میری مخالفت کی وجہ یہ نہیں کہ اس میں شیعہ ہیں ،بریلوی ہیں ،یا جماعت اسلامی والے ہیں _ میری مخالفت کی وجہ منافقت ہے، اگر اسلام کے لیے یہ اتحاد ہوتا تو میں دل و جان سے اس اتحاد کی حمایت کرتا،

احمد جاوید صاحب سے الحاد کے پھیلاؤ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا یہ الحاد علمی بنیادوں پر نہیں پھیل رہا بلکہ ردعمل کے طور پر پھیل رہا ہے، آج کے ملحد نوجوان کو الحاد کا معنی بھی معلوم نہیں ہو گا مگر وہ علماء کے تضادات اور مسلح تنظیموں کی کارروائیوں کے باعث اسلام کو الوداع کہہ چکا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس کرنے کے لیے باتیں تو ہیں مگر عمل نہیں،

شیعہ ہو یا سنی ، دیوبندی ہو یا بریلوی ، جماعت اسلامی ہو یا اہل حدیث ، یہ سب اسلام کا نام لیتے ہیں، یہ سب اللہ اور اسکے رسول کے نام لیوا ہیں ، یہ جب آپس میں لڑتے ہیں تو ایک دوسرے پر کافر ، مشرک ، بدعتی، گستاخ رسول اور یہودی کے فتوے لگاتے ہیں تو الحاد کا داعی نئے ذہنوں کو بتاتا ہے کہ اسلام یہ ہے _ اگر مولویوں کی ساری باتوں کو سچا مان لیا جائے تو پھر پیچھے مسلمان کون بچتا ہے ؟ اگر سب جہنمی ہیں تو پھر جنت میں کون جائے گا ؟ یہاں آ کر نوجوان سوچتا ہے کہ بات تو سچ ہے، یہ فرقے میرے لیے ہیں، بریلوی دیوبندی ، شیعہ سنی کی تقسیم میں سمجھتا ہوں ، اسلام کی دیوار کے اس پار بیٹھا شخص ہر داڑھی و پگڑی والے کو مسلمان سمجھتا ہے ،

جب ہم کہتے ہیں کہ لڑائی نہ کرو اس لڑائی کا نقصان اسلام کو ہوتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ہمارا ان حرکتوں کی وجہ سے الحاد پھیل رہا ہے ، الحاد کے پھیلاؤ کا سبب مولوی ہیں ، یہ اسلام کے وہ بیوقوف دوست ہیں جو اخلاص سے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں،

اب آپ کا سوال ہو گا کہ اتحاد سے کیسے نقصان پہنچتا ہے ؟ فرقہ واریت سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے اتحاد سے تو نہیں _

یقینا آپ کی بات ٹھیک ہے مگر بات اب بڑھ گئی ہے کہ ایک وقت تھا جب اختلاف کتابوں تک موجود تھا _ اختلاف کا صرف علماء کو معلوم ہوتا تھا اب گلی گلی ،محلے محلے میں نفرت کے بیج بوئے جائے چکے ہیں _ اب معاملہ عوام کے پاس چلا گیا ہے _ اب لوگ خود فتوے لگانے لگ گئے ہیں _ جب معاملہ عوام کے پاس چلا جائے تو پھر وہ سوچنے میں آزاد ہو جاتے ہیں _

دوسری بات کہ اب ٹیکنالوجی کا دور ہے اب آپ اپنے ماننے والوں پر پابندیاں نہیں لگا سکتے کہ فلاں سے ملنا ہے اور فلاں سے نہیں _ اب آپ جو بات سرچ کرنا چاہیں دو منٹ نہیں لگتے، اب آپ اپنی مرضی کسی بھی چیز کو پڑھ سکتے ہیں ،سن سکتے ہیں ، اپنا حلقہ بنا سکتے ہیں ، دوسرے کے حلقے میں جا سکتے ہیں _

اگر آج کا اتحاد اخلاص پر مبنی ہوتا تو سب سے پہلے بیٹھ کر ان متنازعہ عبارات کو نکالا جاتا یا ان کتابوں پر پابندی لگائی جاتی جن سے فتووں کا راستہ نکلا ہے، پھر ان فتووں سے برات کا اعلان کیا جاتا جن کی وجہ سے میرے نبی کے کلمہ پڑھنے والوں کو کافر ، مشرک ،مرتد ، یہودی ایجنٹ ، اور گمراہ کہا گیا ،

اب ہوا یہ

ادھر اتحاد ہوا اور ادھر احباب پھر فتاوی جات اور پرانی ویڈیو نکال لائے،
لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کافر مشرک مرتد والے فتوے کیا تھے ؟ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں نہ ہونے والی باتیں کہاں گئیں ؟

ستم تو یہ ہے کہ ایم ایم اے بحالی کے لیے کوشش کرنے والے مولانا فضل الرحمن اپنے باپ کا علمی ورثہ شائع کرواتے ہیں تو اس میں سے شیعہ کافر والا فتوی بھی نہیں نکالتے بلکہ اسے خود شائع کرواتے ہیں ، اور قائد اعظم کا جنازہ پڑھانے پر مفتی محمود کا جواب کہ شبیر احمد عثمانی قائد اعظم کا جنازہ پڑھانے کے ذمہ دار خود ہیں جیسی باتیں بھی باقی رکھتے ہیں اور اہل تشیع سے اتحاد بھی کرتے ہیں_

اپنی جماعت میں غوث ہزاروی صاحب کے جانشین بھی رکھے ہوئے ہیں جو آج بھی جماعت اسلامی کو سویہودی ایک مودودی کے لقب سے پکارتے ہیں_

یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے ؟ میری مخالفت کا سبب یہ منافقت ہے
معذرت کہ لغت میں کوئی ایسا مناسب لفظ نہیں جو استعال کروں لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اسلام کو کیوں استعمال کیا جا رہا ہے یہ اسلام کا استعمال نہیں تو اور کیا ہے ؟

ایم ایم اے میں شامل تمام جماعتیں ایک جگہ بیٹھ کر وہ عبارات و فتاوی جات نکال کر گندگی کو ختم کرتی ہیں تو میرا وعدہ ہے کہ میں ایم ایم اے کے قائدین کے جوتیاں بھی سیدھی کروں گا انکے حق میں لکھوں گا ،آپ بتائیں کیا میرا مطالبہ غلط ہے ؟ کیا اس کام سے باہر بیٹھے اسلام دشمن کو سوال کا موقع ملے گا ؟ یقینا یہ اخلاقی فتح ہو گی، آپ یہ کام کر کے دیکھیں تو سہی_

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے