سائنس اور ٹیکنالوجی

اس ملک خداداد پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی حکمرانوں کی نگاہ میں ایک غیر اہم چیز ہے۔ مجھے یورپ سے آئے ہوئے 41برس ہوگئےاس دوران میںنے صرف بھٹو صاحب، غلام اسحٰق خان صاحب کو ایسی شخصیات پایا جن کو سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت کا احساس تھا۔ جب میں نے بھٹو صاحب کو یورینیم کی افزودگی کا پروگرام شروع کرنے کا مشورہ دیا تو انھوں نے نہ ہی’عقل کل‘ بلائے اور نا ہی ان سے مشورہ کیا خود ہی اسکی افادیت کا احساس کرلیا اور کام شروع کرادیا۔ اسی طرح جب اَٹھاسی کے اواخر میں، میں نے غلام اسحٰق خان کو ایک اعلیٰ انجینئرنگ وٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کا مشورہ دیا تو انھوں نے اس مشورے کو اس طرح قبول کیا جس طرح ایک بچہ خوشنما کھلونے پر جھپٹتا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ موجودہ حکمراں چونکہ سائنس و ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں اُنھیں یہ الفاظ برے لگتے ہیں۔ انھیں روزمرہ کی آسائشیں استعمال کرتے وقت کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سب کچھ سائنس و ٹیکنالوجی کے کرشمے ہیں۔

29 اکتوبر کے روزنامہ نیوز میں دو مضامین جناب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر داخلہ جناب احسن اقبال صاحب کے پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔ ایسے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہو کر اس قسم کی عقل و فہم کا مظاہرہ قوم اور ملک کی بد نصیبی ہے۔ دونوں نے ٹیکنوکریٹس کو بُرے الفاظ میں پیش کیا ہے۔ میں ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نہ کسی ترقی یافتہ ملک میں اور نہ ہی اس مملکت خداداد پاکستان میں سائنسدان، ٹیکنالوجسٹ حکمرانی چاہتے ہیں۔ آپ کسی سے بھی دریافت کرلیں مجھے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کی پیشکش کی گئی تھی اور اصرار کیا گیا تھا مگر میں نے شکریہ کے ساتھ انکار کردیا تھا اور عزیز دوست پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن کا نام تجویز کردیاتھا۔

میں یہ بتانا بلکہ جتانا چاہتا ہوں کہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں بہت کم ہی سیاست داں ٹینکوکریٹ ہوتے ہیں لیکن وہ عقلمند اور سمجھدار ہوتے ہیں اور وہ اہم فنّی پروجیکٹس کے لئے فنڈز اور سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور سائنسدانوں اور ٹیکنوکریٹس اپنی صلاحیت دکھاتے ہیں اور ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ میری حکمرانوں سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ سائنسدانوں اور ٹیکنوکریٹس کو ملک کی ترقی کی اسکیموں میں شامل کریں اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کریں یہ آپ کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ آپ اچھے اور برے لوگوں میں تفریق کریں۔ وزیر اعظم ایک اچھی ایئرلائن چلا رہے ہیں اور ان کو یقیناً اچھی سمجھ بوجھ ہے ان کو چاہئے کہ سول سروس اسٹرکچر کو تبدیل کریں جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ میں اس میں ان کی مدد کرسکتا ہوںاور صنعتوں کے قیام پر توجہ دیں کہ ملازمتیں پیدا ہوں اور بیروزگاری ختم ہو۔ اس میں بھی میں مدد کرسکتا ہوں۔اعلیٰ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے قیام میں بھی رہنمائی کرسکتا ہوں۔ میں نے غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ بنایا تھا وہ جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ آج سے تقریباً 48 سال پہلے میں نے اعلیٰ فنّی تعلیم پر انگلستان کے ایک مشہور فنّی جرنل میں ایک تفصیلی آرٹیکل لکھا تھا جس کو بہت سراہا گیا تھا۔ اپنے 15 سالہ قیام یورپ میں میری توجہ وہاں کے نظام تعلیم اور اچھے نظام مملکت پر تھی اور KRL میں جو نظام رائج تھا وہ آج بھی مثالی مانا جاتا ہے۔

دیکھئے تمہید میں ہی بات کہاں سے کہاں جاپہنچی۔ کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ ہمارا ملک اس وقت بہت ہی نازک دور سے گزر رہا ہے اور بدقسمتی سے حکمراں طبقہ کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ،یہ وہی ضرب المثل والی بات ہے کہ روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔ مگر حکمرانوں کواپنا اقتدار ملک و قوم کے فوائد سے زیادہ عزیز ہے۔ میری بات یا مشورہ مان لینگے تو تباہ و برباد ہوجائینگے۔

مغربی اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی چیز مشترک ہے، ایمانداری، محنت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت۔ یہ وہی اصول ہیں جن کی تعلیم اسلام ہمیں دیتا ہے۔ کلام مجید میں سورۃ طہٰ آیت 114 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’د’عا کرو کہ اے میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے‘‘۔ اگرچہ یہ بہت ہی مختصر پیغام ہے مگر اس کی وسعت ہمارے قیاس سے کہیں زیادہ ہے اور قرآن کی علم و تعلیم پر احاطہ کی وسعت ظاہر کرتا ہے اور ہمارے پیارے نبیؐ نے خود فرمایا ہے کہ اے رب العزّت مجھے تمام چیزوں کا مکمل علم عطا فرما۔ یہاں علم کا مطلب صرف معلومات نہیں ہے بلکہ دنیا کی مادی حیثیت کی حقیقت و سچائی کو بھی جاننا ہے۔ دنیا میں اس وقت جس قدر معلومات ہیں ان کے پیچھے ہزاروں لوگوں کی محنت و مشقت، جستجو ہے۔ لاتعداد سائنسدان، انجینئر (حقیقی معنوں میں) گمنام رہ کر خالق حقیقی سے جاملے۔ عصر جدید میں آپ کو انسان کی سخت جستجو، محنت نظر آتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ ’’تمام بنی نوع انسان کی قدرتی فطرت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرے‘‘۔ اور ہمارے پیارے نبی ؐ نے فرمایا کہ’’ تم کو اگر علم حاصل کرنے کے لئے چین (یعنی دور دراز ملک) بھی جانا پڑے تو جائو‘‘۔ اس پیغام میں رسول اللہ ؐنے یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ تعلیم و علم کے حصول میں نہ تو لِسّانی اور نہ ہی مذہبی اور نہ ہی ثقافتی رکاوٹوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ علم و تعلیم اور چیزوں کو جاننے اور سمجھنے کا علم اسلام کا اہم اور ناقابل علیحدگی جز ہے۔
جب مسلمان اپنے عروج پر تھے اس وقت بھی انھوں نے بیت الحکمہ جات اور نعیمیاز قائم کئے تھے اور یہاں پر اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔ اس وقت ستارے اور فلک بینی تجربہ گاہیں قائم کیں اور اعلیٰ ریسرچ اسکالرز جمع کئے تھے ان میں فلسفی، سائنٹسٹ، اور انجینئرز وغیرہ پوری دنیا سے جمع کئے گئے تھے۔ اس زمانہ کے چند معروف نام آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ الفارابی، ابن سینا، ابن رُشد، خوارزمی، راضی، مسعودی، وفا، البیرونی، طوسی، نصیرالدین، ابن نفیس، ابن باجہ، ابن طفیل، الکندی وغیرہ نے تاریخ میں اپنے نام اور شاندار کام چھوڑے ہیں ۔ اس وقت پورے یورپ میں ان کی دھوم تھی اور ان کے کاموں کی تقلید کی جاتی تھی اور آج بھی ان کے کاموں کا ریکارڈ موجود ہے۔ مسلمان ساتویں صدی عیسوی سے گیارویں صدی عیسوی تک عروج پر تھے اس کے بعد ان کی تمام توجہ محلات اورباغات پر مبذول ہوگئی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آہستہ آہستہ ہم نے اسپین، مشرق وسطیٰ، سینٹرل ایشیا، مشرق بعید، افریقہ سب حکومتیں کھو دیں۔ اسپین میں الحمرا محل آج بھی عجوبہ ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد کا مرکز ہے۔ عجوبہ تو قائم ہے مگر عجوبہ پیدا کرنے والے ذلیل و خوار اور شکست خوردہ ہو کر گمنام ہوگئے۔ سورۃ جاثیہ، آیت 13 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’(اے محمدؐ!) مومنوں سے کہدو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمھارے کام میں لگا دیا ہے جو لوگ غور و خوض کرتے ہیں ان کے لئے اس میں قدرت کی نشانیاں ہیں‘‘۔

اتنے اعلیٰ ماضی اور ورثے کے وارث ہونے کے باوجود مسلمان آجکل انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہم ہر ٹیکنالوجی، سائنس، علم کے لئے مغرب، جاپان، چین کے محتاج ہیں۔ ہم روزمرّہ کی معمولی سے معمولی چیز نہیں بنا سکتے۔ ہم ذرا اپنی حالت زار پر غور کریں۔ ہم ایٹمی اور میزائل قوت ہیں مگر قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ہماری درآمدات ہماری برآمدات کے 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ ایک زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک درآمد کررہے ہیں۔ یہ ہمارے لئے (بلکہ ہمارے حکمرانوں کے لئے بھی) قابل مذمت اور قابل شرم مقام ہے۔

آج کل مغرب، جاپان اور چین ترقی کی رفتار اور سمت طے کررہے ہیں اور ہم یعنی ہمارے حکمراں ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ کونسی اشیاء ہیں جن کی خریداری میں آمدنی کے امکانات زیادہ ہیں۔ خاص طور پر ہتھیاروں کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں گویا یہ حالت جنگ میں ہیں اور چند سال بعد وہ ہتھیار فرسودہ ہوجاتے ہیں تو نئے خریدنے میں مہارت قابل دید ہے۔میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ ہم اتنے نااہل ہیں کہ زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک منگواتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی برائی جس سے عوام واقف نہیں ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اربوں روپیہ کی دالیں درآمد کرتے ہیں۔آپ زرا ان نااہل اور حکمرانوں کو دیکھئے کہ صبح سے شام تک ڈینگیں مارتے ہیں کہ جیسے اس پسماندہ ملک کو ٹاپ ٹین میں لاکھڑا کیاہے۔ قرض لے لے کر قوم کو تباہ کردیا ہے اور ملک کو بیچ دیا ہے۔ آج سے 40سال پیشتر چین ہمارے مقالے میں بے حد غریب تھا آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے وجہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی میں ترقی، ایمانداری، سخت محنت، رشوت خوری اور جرائم کا خاتمہ ہے۔ ہمارے یہاں بدعنوانوں کی بھرمار ہے۔ ان خراب حالات کے ہم خود ذمّہ دار ہیں دوسروں کو الزام دینا غلط ہے۔ (جاری ہے)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے