کیاآپ اپنی بہن یاوالدہ کو ایسا کرنے دیں گے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہم نے گزشتہ چار دہائیوں سے تواتر کے ساتھ سنا ہے . جب ریڈیو اور ٹی وی سعودی عرب میں متعارف کروائے گئے تو بہت سے لوگ ان کے خلاف تھے – اگر ہم ان کے ساتھ بحث کرتے تو وہ پوچھتے تھے کہ "کیا آپ اپنی بہن یا ماں کو ایسا کرنے دیں گے؟” دوسرے الفاظ میں انکا کہنا یوں ہوتاکیا آپ انہیں ریڈیو سننے اور ٹی وی دیکھنے دیں گئے ؟ اور اب آج کا سوال یہ ہے کہ "کیا آپ ایک ایسی خاتون سے شادی کریں گے جو گاڑی چلاتی ہو اور فٹ بال میچ دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم میں جاتی ہو ؟”

ہو سکتا ہے جلد ہی یہ سوال بھی پوچھا جائے کہ "کیا آپ اس لڑکی سے شادی کریں گے جو سنیما میں جاتی ہے؟” یہ سب سوالات مرد کے اندر خواتین کے مشکوک رویے یا طرز عمل کی وجہ سے پائے جانے والے خوف کے ارد گرد گھومتے ہیں کہ اب خواتین کیا سوچ رہی ہیں – اسلام نے خواتین کو بہت سے حقوق عطا کیے ہیں لیکن روایات اور ثقافت ان حقائق کو دیکھنے اور تسلیم کرنے سے محروم ہیں –

آج بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو مردوں کی محفل میں عورت کا اس کے نام کے ساتھ ذکر کرنے کو ناپسندیدہ سمجھتے ہیں – اب بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو ایسے سوال پوچھتے ہیں "کیا تم اپنی بہن یا بیوی کو یہ کرنے کے لیئے کہو گے ؟” مگر خوش قسمتی سے ایسے افراد کی تعداد کم ہو رہی ہے کیونکہ سماجی تبدیلی شروع ہو چکی ہے جس کی حمایت حکومت وقت اور معاشرے کا ایک بڑا حصہ کرتے ہیں – جبکہ اس معاملے میں حکومت کی سپورٹ بہت زبردست ہے –

ثقافت اور اطلاعات کے سعودی وزیر نے حال ہی میں تمام سعودی ٹیلی ویژن چینلز کے انتظامیاں کو حکم دیا ہے کہ وہ سعودی خواتین کے ساتھ غیر ملکی ٹیلی ویژن براڈکاسٹرز کو ری پلیس کریں – یہ فیصلہ کچھ ماہ پہلے ناممکن تھا کیونکہ کام کرنے والے خواتین کے مخالفین نے وزیر کے اس فیصلے پر تنقید کی تھی اور اس کے فیصلے کے خلاف کھڑا ہونے کی دھمکی دی تھی –

آج ہمارے پاس ایسے قوانین ہیں جن میں کسی بھی شخص کو بدنام کرنے یا بہتان لگانے کے جرم میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے ، یہ قوانین لوگوں کو ایسا کرنے سے روکنے کے طور پر کام کرتے ہیں اور لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں احتساب اور سزا کا سامنا کرنا پڑے گا –

یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں سعودی خواتین اور مردوں کو کچھ حقوق سے محروم کردیا گیا ہے ، تاہم یہ جاننا اطمینان بخش ہے کہ ہم ان حقوق کو دوبارہ تین سال کے اندر حاصل کر لیں گے – آج ہم ایک آسان اور خوبصورت زندگی رہ سکتے ہیں جس میں دوسرے ملکوں کی طرح قانون کی حکمرانی ہو –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے