صدر آزادکشمیر حسیناؤں کے جھرمٹ میں

صدر آزادریاست جموں و کشمیر سردار مسعود خان ان دنوں دورہ برطانیہ پر ہیں ،یہ ان کاآفیشل دورہ ہے یعنی دورے کے اخراجات آزادکشمیرکے سرکاری خزانہ سے ادا گئے ہیں اور یہ دورہ حسب سابق مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر برطانوی کمیونٹی کو آگاہ کرنے سے متعلق ہے ،بطور صدر ریاست آزادجموں و کشمیر سردار مسعود خان کا یہ پہلا دورہ برطانیہ نہیں بلکہ وہ تیسری مرتبہ برطانیہ گئے ہیں ،صدر ریاست برطانوی شہر لند ن میں مسئلہ کشمیر اجاگر کررہے ہیں یہ خبر گزشتہ روز ہر خاص و عام تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچی ۔

19نومبر کو مسعود خان NGO (Quest for Education)کی فنڈریزنگ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک تھے ،مذکورہ این جی او معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے آزاد کشمیر اور پاکستان میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے ،تقریب میں پیشہ ور نیم برہنہ لباس میں ملبو س بھارتی رقاصوں کا ڈانس اور گانے بجانے کا شو ہورہا ہے ، اس دوران ایک صحافی صدر ریاست کی اس محفل میں موجودگی کی تصویریں لیتے ہیں اور سوشل میڈیا فیس بک پر اس کیپشن کے ساتھ اپ لوڈ کرتے ہیں ،(صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان بھارتی حسیناؤں کے جھرمٹ میں) تصاویر اپ لوڈ ہوتے ہی وائرل ہوجاتی ہیں ہرطرف سے صدر ریاست پر تنقید کے تیر برسنا شروع ہوجاتے ہیں ۔

سوشل میڈیا پر یہ سوال کیا جارہا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں آج ہی بھارتی فورسز نے چھ جوانوں کو شہید کیا ہے ،لاکھوں کشمیری بھارتی بربریت ،ظلم ، جبراور نہ تھمنے والا تشدد سہہ رہے ہیں ،سیزفائر لائن کے نزدیک آبادی حالت جنگ میں ہے ،نہتے لوگ بھارتی گولہ باری سے شہیداور زخمی ہورہے ہیں ،لوگوں کی املاک تباہ ہورہی ہے ،متاثرین بارڈر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جبکہ ریاست کے صدر سرکاری وسائل سے مسئلہ کشمیر کے نام پر لندن میں بھارتی رقص کی محفل میں شریک ہیں ،صدر ریاست نے دفاع میں کہا کہ وہ این جی او کی تقریب میں رقص کی محفل سے لاعلم تھے ،جب محفل شروع ہوئی تو انہوں نے محفل سے جانے کی کوشش کی تاہم منتظمین نے تقریب ادھوری چھوڑنے سے روک دیا ،فیس بک وضاحتی پوسٹ میں یہ بتایا گیا کہ صدر موصوف انتظامیہ کے اصرار کے باوجود لنچ کیے بغیر تقریب سے روانہ ہوگئے ،تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ صدر ریاست مسئلہ کشمیر اوجاگر کرنے اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرنے سرکاری دورہ پر ہیں یا این جی اوز کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے ۔

آئینی و قانونی اعتبارسے بیرون ملک مسئلہ کشمیر اجاگرکرنا صدر ریاست سمیت پوری آزادکشمیر حکومت کے مینڈیٹ میں شامل نہیں ہے بلکہ خارجہ امور وفاق نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ،سوال یہ ہے کہ پھر کیوں بیرون ممالک دورے کرکے سرکاری خزانہ پر بوجھ ڈالا جاتا ہے اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ سابقہ دوروں سے تحریک آزادی کو کونسا فائدہ پہنچا ہے ،مسعود خان بیرون ملک مسئلہ کشمیر اجاگرکرنے والے واحد حکومتی شخصیت نہیں ہیں بلکہ ریاست کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان بھی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ بیرون ممالک دورے کرچکے ہیں ،سابق وزیر اعظم وصدرتحریک انصاف آزاد کشمیر بیرسٹر سلطا ن محمود بھی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے بیرون ملک بالخصوص برطانیہ آتے جاتے رہتے ہیں ،حالیہ دنوں ایک اور سابق وزیر اعظم آزادکشمیر و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان بھی برطانیہ میں کشمیر بچاؤ کے نام سے تحریک شروع کیے ہوئے ہیں اور اپوزیشن لیڈر بھی وقتاًفوقتاًمسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے بیرون دورے کرتے رہتے ہیں ۔

آزادکشمیر کے سیاسی رہنما خواہ ان کا تعلق حکومتی جماعت سے ہو یا اپوزیشن جماعت ،وہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے ترجیحی برطانیہ کو ہی دیتے ہیں ،چونکہ برطانیہ میں آزادکشمیر کے لاکھوں لوگ آباد ہیں لٰہذا اپنے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں ،کچھ مہربان استقبالیہ تقریبات کا بھی انعقاد کردیتے ہیں، لیڈر حضرات اپنے اووسیز کشمیریوں پاکستان کے قومی اور آزاد کشمیر کے ریاستی میڈیا سے منسلک میڈیا نمائندگان کومسئلہ کشمیر سمجھاتے رہتے ہیں اور دعوتیں اڑا ئی جاتی ہیں اور تحفہ تحائف وصول کیے جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ دورہ اختتام پذیر ہوجا تاہے ،اپنے ہی قومی و ریاستی اخبار ت میں کامیاب دورہ اور دورس نتائج سے متعلق خبریں شائع ہوتی ہیں اور اللہ ،اللہ خیر سلہ ۔

اہم بات یہ ہے دیار غیر میں بسلسلہ روز گار آباد کشمیر ی ان سیاسی لیڈروں کی مایوس کن کارگردگی کے باجود ان کو برطانیہ میں ناصرف ویلکم کرتے ہیں بلکہ ان کے اعزاز میں تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں اور اوورسیز کو اس کا حاصل یہ کہ ایئرپورٹ پر اترتے ہی امتحان شروع ہوجاتا ہے ،ایسے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں کہ ایئرپورٹ سے گھر پہنچے سے قبل ہی راستے میں گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیامگر آزادکشمیرحکومت نا تو ڈاکوؤں کو پکڑ سکی اور نا متاثرین کے نقصان کا ازالہ ۔

مسئلہ کشمیر اساس ایشوہے آزادکشمیر کے مین لیڈرشپ کو محتاط رہنا چاہئے ،تاکہ بھارت کو پراپیگنڈا کا موقع نہ ملے اور اووسیز کو بھی ایسے لوگوں سے دوری اختیار کرنی چاہیے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کے نام پر اپنی دوکانیں چمکا رکھی ہیں،ایسے لیڈروں کی بھی پہچان کرنی چاہیے جو برطانیہ میں ان کی پرتکلف دعوتوں سے تو لطف اندوز ہوتے ہیں مگر آزادکشمیر میں ملاقات کے لیے بھی لائن میں کھڑا کردیتے ہیں۔ جس طرح وزیراعظم راجہ فاروق حید ر خان 6اکتوبر جیسے تاریخی دن کے موقع پر یورپ کے سمندر کی سیر کررہے تھے ،بیرسٹر سلطان محمود برطانیہ میں ملین مارچ کے نام پر سیکڑوں لوگوں کے ساتھ ڈھول کی تھاپ پر یوم سیاہ مناتے رہے اور اب صدر ریاست مسعود خان بھارتی حسیناؤں کے جھرمنٹ میں نظر آئے ۔یہ واقعات تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ مذاق کے مترادف ہیں ،ایسے واقعات سے مسئلہ کشمیر اجاگر نہیں بلکہ کشمیریوں کا تشخص مجروح ہورہاہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے