جابجا بِکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

اگر آپ کسی بھی نیوز روم میں کام کرتے ہیں تو یہ دو فقرے آپ نے ضرور سنیں ہوں گے۔ ایک ’سیکس سیلز اور دوسرا، اِٹ لیڈز، وین اِٹ بلیڈز‘۔ اشتہارات، فلموں، میگزین اور بل بورڈز وغیرہ میں خواتین کو ایک ’پراڈکٹ‘ کے طور پر کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ اس کے پیچھے ایک ہی تھیوری ہے اور وہ ہے ’سیکس سیلز‘۔ آپ کسی بھی بڑے نشریاتی ادارے کے سب سے زیادہ پڑے جانے والے مضامین کی فہرست دیکھیں تو اس لسٹ میں جنسی موضوعات سے متعلق مضامین کی بھی اچھی خاصی تعداد ملتی ہے۔

اشتہارات کی دنیا میں سب سے پہلے خواتین کی عریاں تصاویرکا استعمال 1871ء میں پرل ٹوبیکو کمپنی نے کیا تھا، جس کے بعد اس کی فروخت میں حیران کن اضافہ ہوا تھا۔ اس کے بعد ایسا ہی ایک تجربہ 1885ء میں ڈبلیو ڈوک اینڈ سنز نے کیا اور 1890 تک یہ امریکا کا سب سے بڑا سگریٹ برینڈ بن چکا تھا۔

میڈیا کی دنیا میں ’خواتین کو ایک پراڈکٹ کے طور پر استعمال‘ کرنے کا یہ صرف آغاز تھا۔ 1979ء میں ’جینڈر ایڈورٹائزنگ‘ کے حوالے سے سب سے موثر کتاب کینیڈا کے ماہر سماجیات ایروینگ گوفمین نے لکھی تھی، جس میں اشتہارات کی دنیا میں خواتین اور ان کے ’جسم کے استعمال‘ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق ’سیکس کو استعمال کرتے ہوئے‘ پراڈکٹ کی طرف توجہ دلائی جا سکتی ہے۔ ایسے کئی تحقیقی مقالے موجود ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ’خوبصورت خواتین کا استعمال‘ کرتے ہوئے لوگوں کی توجہ حاصل اور دولت جمع کی جا سکتی ہے۔ گیلپ اور روبن سنز جیسی ریسرچ فرموں کے مطابق اگر گزشتہ پچاس برسوں کے اشتہارات اٹھا کر جائزہ لیا جائے تو وہ تمام اشتہارات کامیاب رہے، جن میں ’شہوت انگیزی کی تکنیک‘ استعمال کی گئی۔

خواتین اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ خوبصورت خواتین اور یا مردوں کو اشتہارات میں استعمال کرنے سے انسانی دماغ کا ’لیزرڈ برین یا اولڈ برین‘ نامی حصہ ایکٹیو ہوتا ہے۔ دماغ کا یہ حصہ صرف تین چیزوں کو توجہ دیتا ہے اور یہ تین چیزیں کھانا، خوف اور جنس ہیں۔ سن دو ہزار چھ میں یونیورسٹی آف فلوریڈا نے ایک تحقیق جاری کی تھی، جس کے مطابق ’سیکس سیلز‘ والی تھیوری خواتین کی بجائے مردوں پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔

آج کی دنیا میں اسی فیصد سے زائد اشتہارات میں صرف اور صرف خوبصورت خواتین کو ’استعمال‘ کیا جاتا تاکہ ایک صارف اور ایک پراڈکٹ میں تعلق قائم کیا جا سکے۔ اشتہارات میں خواتین یا مردوں کی ایک ایک ادا کا خاص مطلب ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بڑی مفصل ریسرچ موجود ہے کہ خواتین کے کپڑوں کا رنگ، ان کے کھڑے ہونے کا انداز، ان کے ہونٹوں کی لرزش، آنکھوں کے اشارے اور ذو معنی الفاظ ایک صارف پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ شاید آپ کو یاد ہو تقریبا ایک برس پہلے پاکستان کے تمام بڑے اخبارات پر موبی لنک اور نرگس فخری کا ایک اشتہار شائع ہوا تھا۔ اس وقت یہ بحث تو ہوئی تھی کہ یہ اشتہار شائع ہونا چاہیے یا نہیں لیکن اس اشتہار کے پیچھے چھپے تجارتی مقاصد اور ’سیکس سیلز‘ جیسی تھیوری پر کسی نے بات نہیں کی تھی۔
اس اشتہار کو بنانے والے بڑے اچھے طریقے سے جانتے تھے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ’سرخ رنگ سیکس اور محبت‘ سے جڑا ہے۔ نرگس فخری کے ہاتھ میں جو موبائل تھا اس پر بھی ایک ’ایکس‘ تھا اور حقیقت میں بھی اس اشتہار کو ’ون ایکس‘ اور جنسیت سے بھرپور بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس اشتہار میں نرگس فخری کو ایک مخصوص انداز سے لٹایا گیا تھا اور ماہرین نفسیات بڑی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ لیٹنے کے اس مخصوص انداز کے ایک انسانی ذہن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خیر موبائل فون کی دنیا میں یہ کوئی پہلا تجربہ نہیں تھا۔ موبائل فون کی دنیا میں سب سے پہلے موٹورولا نے اپنی سیل بڑھانے کے لیے خواتین کی ’شہوت انگیز‘ تصاویر کا استعمال کیا تھا اور یہ کامیاب بھی رہا تھا۔

مارکیٹنگ کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ ’سیکس سیلز‘ والی تھیوری کو ہر جگہ ایک طرح سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بعض ممالک کے معاشرتی رویے کچھ حدود کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ موبی لنک کی طرح کیلویس کلائن جیسے برینڈ کو بھی دھچکا لگا تھا اور اسے بھی اپنا اشتہار ختم کرتے ہوئے معافی نامہ جاری کرنا پڑا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کی سرمایہ دارانہ، تجارتی اور مارکیٹنگ کی دنیا نے خواتین کو صرف ان کی جنسیت تک محدود کر کے رکھ دیا ہے اور خواتین کے اس استعمال کو ’خواتین کے آزادی‘ کے نعرے سے بھی جوڑا جا جاتا ہے۔

لیکن دوسری طرف آپ کو دنیا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایسی سینکڑوں تنظمیں ملیں گی، جو خواتین کو بطور ’جنسی اوبجیکٹ‘ استعمال کرنے کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ ایسی تنظمیوں کے مطابق آج کے میڈیا کی دنیا میں خواتین کو فروخت ہونے والی مصنوعات کے طور پر دیکھا اور لیا جا رہا ہے۔ اب خواتین کو ’فی میل چارم‘ یعنی ایک سجی سجائی اور شہوت انگیز پراڈکٹ بناتے ہوئے انہیں ان کے جسمانی حصوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اب اشتہارات خواتین کے ہونٹوں، خوبصورت پتلی ٹانگوں اور سینے تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسی تنظمیوں کے مطابق یہ خواتین کے لیے ’ ڈی گریڈیشن یا بے عزتی‘ کی انتہا ہے کہ انہیں اشیاء فروخت کرنے کے لیے ایک جنسی اوبجیکٹ اور جسمانی حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے